”ساہیوال واقعہ کے بعد ترجمان پنجاب حکومت نے عثمان بزدار کو ٹیلیفون کیا اور کہا کہ اب سی ٹی ڈی کا دفاع ممکن نہیں رہا اس لیے آپ ۔۔۔“حامد میر نے ایسا انکشاف کر دیا کہ پاکستانی خون کے آنسو روئیں گے

”ساہیوال واقعہ کے بعد ترجمان پنجاب حکومت نے عثمان بزدار کو ٹیلیفون کیا اور ...
”ساہیوال واقعہ کے بعد ترجمان پنجاب حکومت نے عثمان بزدار کو ٹیلیفون کیا اور کہا کہ اب سی ٹی ڈی کا دفاع ممکن نہیں رہا اس لیے آپ ۔۔۔“حامد میر نے ایسا انکشاف کر دیا کہ پاکستانی خون کے آنسو روئیں گے

  


ساہیوال (ڈیلی پاکستان آن لائن )ساہیوال میں دو روز قبل سی ٹی ڈی کے اہلکاروں نے سفید رنگ کی آلٹو پر فائرنگ کر کے ایک ہنستے بستے خاندان کو اجاڑ دیا ہے تاہم کسی طرح تین معصوم بچے زندہ بچنے میں کامیاب ہوگئے ہیں جبکہ ان کی بڑی بہن ، والدین اور ڈرائیور اس میں جاں بحق ہو گیا ہے ۔

سانحہ ساہیوال پر اس وقت پوری قوم ہی افسردہ اور شد ید غمزدہ ہے اور اس حوالے سے سینئر صحافی نے بھی اپنے کالم میں بڑے انکشافات کیے ہیں ۔ حامد میر نے اپنے آج کے کالم میں لکھا کہ افسوسناک پہلو یہ تھا کہ جب میڈیا میں سی ٹی ڈی کا جھوٹ بے نقاب ہو چکا تو پنجاب پولیس نے ایک ہینڈ آﺅٹ میں کہا کہ ساہیوال کے قریب چار دہشت گرد مار دیئے گئے۔ اگر یہ دہشت گرد واقعی اتنے خطرناک تھے تو سی ٹی ڈی والے شلواریں قمصیں اور رنگ برنگے ٹراﺅزر پہن کر انہیں گرفتار کرنے کیوں آئے؟ کسی نے بھی بلٹ پروف جیکٹ نہیں پہنی ہوئی تھی۔ مجھے جب دس سالہ عمیر کا موبائل فون پر ریکارڈ کیا گیا ویڈیو بیان سننے کا موقع ملا تو میں نے پنچاب حکومت کے مختلف ذمہ داروں سے رابطہ کیا۔ سب کو معلوم تھا کہ سی ٹی ڈی والوں نے ظلم کیا ہے کیونکہ ساہیوال کی ضلعی انتظامیہ نے بھی سی ٹی ڈی کی کہانی کو جھوٹ قرار دیدیا تھا۔ سی ٹی ڈی والوں کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے پنجاب حکومت نے ایک جے آئی ٹی بنانے کا اعلان کر دیا۔

یہ وہ موقع تھا جب پنجاب حکومت کے ترجمان ڈاکٹر شہباز گل نے وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدار سے رابطہ کیا اور انہیں بتایا کہ سی ٹی ڈی کے جھوٹ کا دفاع ممکن نہیں رہا، اب آپ سی ٹی ڈی والوں کی گرفتاری کا اعلان کر دیجئے۔ سردار عثمان بزدار میانوالی کے دورے پر تھے۔ ان کی گاڑیوں کے لمبے قافلے میں سیکورٹی جیمرز کے باعث موبائل فون غیر موثر تھے۔ عثمان بزدار کو صورتحال کی سنگینی کا احساس اس وقت ہوا جب وزیراعظم عمران خان نے ان سے رابطہ کرکے سانحہ ساہیوال پر بات کی۔ وزیراعلیٰ سی ٹی ڈی اہلکاروں کی گرفتاری کا حکم دینے پر شش و پنج میں پڑے ہوئے تھے لیکن جب انہیں بتایا گیا کہ اس واقعے کی سنگینی کے نتیجے میں وزیراعظم عمران خان ان کی حمایت سے ہاتھ کھینچ سکتے ہیں اور یوٹرن لے سکتے ہیں تو وزیراعلیٰ نے سی ٹی ڈی والوں کی گرفتاری کا حکم دیدیا۔ اس واقعے کی اگلی صبح وزیراعظم عمران خان نے ایک ٹویٹ کیا اور کہا کہ سی ٹی ڈی نے دہشت گردی کے خلاف بہت اہم کردار ادا کیا ہے لیکن قانون سب کیلئے برابر ہے۔

مزید : قومی