سانحہ ساہیوال ، دہشتگرد قرار دیے گئے ذیشان کا بھائی احتشام پہلی بار کھل کر بول پڑا، ایسی بات کہہ دی کہ آپ کی آنکھوں میں بھی آنسو آجائیں

سانحہ ساہیوال ، دہشتگرد قرار دیے گئے ذیشان کا بھائی احتشام پہلی بار کھل کر ...
سانحہ ساہیوال ، دہشتگرد قرار دیے گئے ذیشان کا بھائی احتشام پہلی بار کھل کر بول پڑا، ایسی بات کہہ دی کہ آپ کی آنکھوں میں بھی آنسو آجائیں

  


لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) سانحہ ساہیوال میں جاں بحق ہونے والے ذیشان (ڈرائیور) کے بھائی احتشام کا کہنا ہے کہ اس کے بھائی نے کبھی کسی سے اونچی آواز میں بات بھی نہیں کی، اس پر دہشتگردی کا الزام کیسے لگایا جاسکتا ہے۔ خیال رہے کہ ذیشان کا چھوٹا بھائی احتشام کچھ عرصہ پہلے ہی ڈولفن فورس میں بھرتی ہوا ہے۔

نجی ٹی وی جی این این کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے احتشام نے بتایا کہ وہ ٹریننگ پر تھا جب سات 8 مہینے پہلے سیکنڈ ہینڈ گاڑی خریدی۔ دہشتگرد کاغذات اپنے ساتھ نہیں رکھتے اور نہ ہی سیٹ بیلٹ پہنتے ہیں۔

مقتول ذیشان کے بھائی احتشام نے کہا کہ پورے پاکستان میں اس کے بھائی کے خلاف کسی لڑائی کی بھی شکایت نہیں ہے، وہ پانچ وقت کا نمازی تھا جس نے کبھی کسی سے اونچی آواز میں بات نہیں کی۔ دہشتگرد کا گھر اور محلے دار نہیں ہوتے۔

ذیشان اور خلیل کے تعلق کے بارے میں بات کرتے ہوئے احتشام نے بتایا کہ دونوں بچپن کے دوست تھے اور دونوں فیملیز کا ایک دوسرے کے گھر پر آنا جانا تھا۔

احتشام نے بتایا کہ جب دو گاڑیاں بورے والا پہنچ گئیں تو ان میں سے ایک نے مجھے فون کیا اور کہا کہ آپ کے بھائی سے رابطہ نہیں ہورہا کوئی اور نمبر دو جس پر رابطہ کرسکیں ۔ تھوڑی ہی دیر میں محلے داروں نے بتایا کہ آپ کے بھائی کو دہشتگرد قرار دے کر مار دیا گیا ہے۔

احتشام نے گاڑی سے اسلحہ ملنے کے الزام کی تردید کردی اور کہا کہ گاڑی میں دلہن اور دولہا کے کپڑے تھے اور کسی قسم کا اسلحہ نہیں تھا۔

مزید : قومی