ضابطہ دیوانی میں ترامیم اور انسداد منشیات کے نئے قانون کیخلاف وکلاء کی ہڑتال تیسرے ہفتے میں داخل

  ضابطہ دیوانی میں ترامیم اور انسداد منشیات کے نئے قانون کیخلاف وکلاء کی ...

  



پشاور(نیوزرپورٹر)خیبرپختونخواحکومت کی جانب سے ضابطہ دیوانی میں ترامیم اورانسدادمنشیات کے نئے قانون کے خلاف وکلاء کاعدالتی بائیکاٹ تیسرے ہفتے میں داخل ہوگیا ہے اورحکومت کی جانب سے مطالبات تسلیم کرنے کی یقین دہانی کے باوجود وکلاء برادری ہڑتال ختم کرنے سے انکاری ہے جس پرسائلین گذشتہ دوہفتوں سے رل رہے ہیں جبکہ صوبہ بھرکی جیلوں میں بندقیدی بھی رہائی کے انتظارمیں پروانوں کی راہ تک رہے ہیں وکلاء کی جانب سے پشاورہا ئیکورٹ اورصوبہ بھرکی ماتحت عدالتوں میں پیش نہ ہونے کے باعث زیرالتواء مقدمات اورعدالتوں پرمقدمات کے بوجھ میں بھی اضافہ ہورہا ہے ادھروکلاکے عدالتوں میں عدم پیشی سے سائلین انتہائی پریشان ہیں اورپیرکے روز بھی سائلین دن بھرفائلیں بغل میں لئے ادھرادھرگھومتے رہے جبکہ وکلاء صاحبان دھوپ میں بیٹھ کرسیاسی گپ شپ کرتے رہے اوردوپہرکے بعدگھروں کولوٹ گئے ادھرذرائع کے مطابق وکلاکی ہڑتال کے باعث حکومت نے نیابل تیار کرلیا ہے بل کو27جنوری کواسمبلی اجلاس میں پیش کئے جانے کاامکان ہے ذرائع کے مطابق ضابطہ دیوانی میں ترامیم اورانسدادمنشیات ایکٹ2019ء کو 90روزکے لئے معطل کئے جانے کابھی امکان ہے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر