جرگہ سسٹم قبائلی نظام کا اہم جز ہے،ڈی آئی جی مردان

جرگہ سسٹم قبائلی نظام کا اہم جز ہے،ڈی آئی جی مردان

  



مہمند(نمائندہ پاکستان)مہمند،قبائلی ضلع مہمند میں ڈی آر سی جرگہ کا قیام۔ڈی آئی جی مردان ڈویژن شیراکبر خان نے ڈی پی او آفس غلنئی میں 21رکنی ڈی آرسی جرگہ ممبران سے حلف لیا۔جرگہ سسٹم قبائلی نظام کا اہم جز اور تنازعات کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔خیبر پختونخواہ پولیس کی بھر پور تعاون سے ڈی آرسی(Disputes Resolution Council) ممبران عوام کے مابین تنازعات کو احسن طریقے سے حل کرینگے۔ جرگہ ممبران حق اور انصاف پر مبنی فیصلے کرکے جنگ اور پسماندگی کے شکار قبائل کی محرومیوں کا ازالہ کریں۔ قبائلی اضلاع کے پولیس کی تنخواہیں اور مراعات خیبر پختونخواہ پولیس کے برابر کیا جائے گا۔ ا ن خیالات کا اظہار ڈی آئی جی مردان ڈویژن شیراکبر خان نے پیر کے روز اپنے دورہ مہمند ہیڈکوارٹر غلنئی ڈی پی او آفس میں نومنتخب21رکنی اپر مہمند ڈی آرسی ممبران سے حلف برداری کے موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس دوران ان کے ہمراہ ڈی پی او مہمند فضل احمد جان، قبائلی مشران اور پولیس کے دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ ڈی آئی جی شیراکبر خان نے کہا کہ جرگہ سسٹم قبائلی عوام کی ایک ا ہم اور دیرینہ روایت ہے اور یہاں کے مشران جرگہ نظام کی روایات اور قوانین سے بخوبی واقف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈی آرسی نظام کی خیبر پختونخواہ میں بھی دوررس نتائج مرتب ہورہے ہیں اور ڈی آرسی کے ذریعے فریقین کے کئی سالوں سے جاری تنازعات کو ہفتوں اور دنوں میں حل کیا جاتاہے۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی مشران نے پہلے بھی جرگوں کے ذریعے علاقے کے عوام کی بڑے بڑے تنازعات کو ان ہی جرگوں کے ذریعے خوش اسلوبی کے ساتھ حل کیا ہواہے۔اب خیبر پختونخواہ پولیس کی معاونت سے اس جرگہ کو قانونی حیثیت ملنے کے بعد مزید فعال اور موثر بن جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ جرگہ ایک مضبو نظام ہے اور اس کے ذریعے عوام کے تنازعات کو بڑی آسانی کے ساتھ حل کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے ڈ ی آرسی کی نومنتخب ممبران سے اپیل کی کہ وہ حق اور انصاف پرمبنی فیصلے کریں تاکہ کسی مظلوم کی حق تلفی نہ ہوسکیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کے اعلیٰ حکام قبائلی پولیس فورسز کی کارکردگی سے مطمئن ہے اور انکی کارکردگی کسی سے کم نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی اضلاع کے پولیس فورسز کی تنخواہیں اور دیگر مراعات کو خیبرپختونخواہ کے پولیس کی برابر کی جائیگی اور ان کو دیگر ہرقسم جدیدآلات اور سہولیات بھی دیئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس فورسز میں بہت جلد ہزاروں مقامی قبائلی نوجوانوں کو بھرتی کیا جائے گا جس سے علاقے میں غربت اور بے روزگاری کی شرح بھی کم ہوجائیگی۔انہوں نے کہا کہ پولیس فورسز میں بھرتیاں شناختی کارڈ کے ذریعے کی جائیگی اور دوسرے شہری علاقوں کے لوگوں کو قبائلی فورسز کی آسامیوں پر بھرتی نہیں کیا جائے گا۔

مزید : پشاورصفحہ آخر