دیر آید درست آید

دیر آید درست آید

  



تحریک انصاف کے رہنما اور وزیراعظم عمران خان کے خصوصی معاون نعیم الحق نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی سربراہی میں حکومت اپنی مدت پورے کرے گی، حلف اُٹھانے کے موقع پر وزیراعظم نے خود تقریر لکھی جو بہت مدبرانہ اور دوستی والی تقریر تھی۔ اپوزیشن کے احتجاج نے وہ تقریر کرنے ہی نہیں دی، اپوزیشن تقریر ہونے دیتی تو آج ملک کا جمہوری و سیاسی ماحول یکسرمختلف ہوتا، اب بھی اگر اپوزیشن کی جانب سے ذرا سا اشارہ ہوتا ہے تو وزیراعظم ملک کی فلاح و ترقی کے لیے حزب اختلاف سے بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ان کا کہنا تھا ایسی صورت میں ہم بات چیت سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، ملک کے آئین کے مطابق معاملات آگے چلانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے اپوزیشن سے اپیل کی کہ ترقیاتی و فلاحی کاموں اور خارجہ پالیسی پر حکومت سے تعاون کرے۔

تحریک انصاف کو اقتدار میں آئے قریباً ڈیڑھ برس ہوچکا ہے۔2018ء کے عام انتخابات تحریک انصاف نے تبدیلی کے وعدے پر لڑے اور پاکستانیوں کونئے پاکستان کا خواب دکھایا۔ ایک ایسے پاکستان کا خواب جو کرپشن سے پاک ہوگا، جس میں عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ نہیں لادا جائے گا، جس کی فضاؤں میں مہنگائی کی وبا نہیں پائی جائے گی اور جس میں ہر شہری کو انصاف اور برابری کے حقوق ملیں گے تاہم عمران خان کے وزیراعظم منتخب ہونے کے دن سے ساری توجہ مخالفین (یا حکومتی بیانیے کے مطابق”کرپٹ عناصر“) کے خلاف ”جنگ“ تک محدود ہوکررہ گئی۔ جس پہلی تقریر کی طرف نعیم الحق نے اشارہ کیا، اس میں بطور وزیراعظم اپوزیشن کے احتجاج کے شور میں عمران خان نے کڑا احتساب کرنے کا اعلان کیا، پھر یہ اعلان ان کا تکیہ کلام بن گیا، پاکستان سے امریکہ تک جہاں جہاں انہیں موقع ملا انہوں نے اسے دہرایا۔ اس دوران حکومتی ادارے خصوصاً نیب ان کے مخالفین کو کرپشن کے الزامات میں پکڑ پکڑ کر جیلوں میں بند کرتا رہا، ملک میں سیاسی درجہ حرارت بڑھتا چلا گیا۔ اوپر سے حکومتی وزراء کے بیانات نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ جیل جانے کی اگلی باری کس سیاستدان کی ہے، حکومتی وزراء پریس کانفرنسز کرکے پیشگوئیاں کرنے لگے۔ حیران کن طور پر بیشتر پیشگوئیاں درست ثابت ہوئیں، تاثر بنتا چلا گیا کہ معاملہ احتساب سے زیادہ مخالفین کو سبق سکھانے کا ہے۔ اس افراتفری میں معیشت اور عوام کو حکومت بھول سی گئی۔ فیصلہ سازی کا فقدان نظر آیا۔ اسد عمر، جنہیں تحریک انصاف کا معاشی دماغ سمجھا جاتا تھا، انہیں وزیر خزانہ کے عہدے سے چند ماہ میں ہی چلتا کردیا گیا۔ حکومت آئی ایم ایف کے پاس پہنچی تو وہاں مکمل سرنڈر کردیا۔ سرمایہ کاروں کو پیغام گیا کہ حکومت کے پاس معاشی بحالی کا کوئی جامع منصوبہ یا روڈ میپ نہیں تو انہوں نے بھی ہاتھ کھینچ لیا اور مہنگائی کی لہر نے غریب عوام کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ نتیجتاً رواں برس شرح نمو 2 فیصد کے آس پاس رہنے کی توقع ہے، گزشتہ دور حکومت میں یہ 6 فیصد کے قریب پہنچ رہی تھی۔ جو صورتحال برپا ہوئی اس سے یہ تو واضح ہوگیا کہ حکومت ہر محاذ پر ”جنگ“ کرکے کارکردگی نہیں دکھاسکتی، اگر ملک آگے چلانا ہے تو اپوزیشن کے ساتھ بھی بیٹھ کر بات کرنا ہوگی، بنیادی معاملات پر افہام و تفہیم سے کام لینا ہوگا۔

اس پس منظر میں اب وزیراعظم کے معاون خصوصی نعیم الحق کا یہ انکشاف بے حد دلچسپ ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے پارلیمنٹ میں پہلی تقریر جو لکھ رکھی تھی وہ اس سے یکسر مختلف تھی جو انہوں نے وہاں کی۔ نعیم الحق کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کے احتجاج کے باعث وزیراعظم کو اپنی تقریر میں تبدیلی کرنا پڑی۔ یہ بے حد حیران کن بات ہے کہ اپوزیشن کے چند منٹ کے احتجاج نے حکومتی اعصاب پر اتنا گہرا اثر ڈالا کہ تمام تر حکمت عملی ہی یکسر تبدیل کردی گئی۔ وزیراعظم کی اس تقریر سے شروع ہونے والا معاملہ بہت دور تک گیا اور حکومت اور اپوزیشن کے درمیان خلیج بے حد بڑھ گئی۔ اپوزیشن کا احتجاج تو متوقع تھا، ان جماعتوں کو انتخابات میں شکست ہوئی تھی اور اس حوالے سے ان کے اپنے اپنے تحفظات تھے لیکن اس احتجاج نے پوری حکومت کو ڈی ٹریک کردیا، یہ بات حیران کن اور افسوسناک ہے۔ حکومت کی تو ذمہ داری ہے کہ درجہ حرارت کو نیچے رکھے، معاملات کو الجھانے کی بجائے سلجھائے، تاہم حکومتی ذمہ داروں کو یہ بات سمجھتے سمجھتے بہت دیر لگی۔ آج حکومتی اتحادی بھی یکے بعد دیگرے سر اُٹھاتے نظر آرہے ہیں اور ٹینشن کے اس ماحول سے اپنے لیے کچھ نہ کچھ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ موجودہ حالات میں گورننس دکھانے کے لیے اپوزیشن کا تعاون اور بھی اہم ہوگیا ہے۔ اس حوالے سے نعیم الحق کے بیان پر کہا جاسکتا ہے دیر آید درست آید۔ خوشی کی بات ہے کہ بالآخر حکومت کو اس بات کا احساس ہوگیا ہے کہ حزب اختلاف کی بھی اس نظام میں اپنی ایک اہمیت ہے، ضروری ہے کہ اب دونوں جانب سے لچک کا مظاہرہ کیا جائے اور ملکی ترقی کے لئے بڑی جماعتیں اکٹھی ہوں اور مل بیٹھیں۔ اس ملک میں جمہوریت حقیقت میں تب ہی مضبوط ہوگی جب اس کے ثمرات عام آدمی تک پہنچیں گے، جب غریب کے گھر میں خوشحالی آئے گی، بچوں کو معیاری تعلیم ملے گی، جب ایک عام پاکستانی کو کبھی آٹے تو کبھی ٹماٹر کے لیے لمبی قطاروں میں نہیں لگنا پڑے گا۔ اُمید ہے تمام سیاسی جماعتیں اب اس بڑے مقصد کے لیے اکٹھے مل بیٹھنے پر تیا رہوجائیں گی، پاکستان مزید معاشی زوال کا متحمل نہیں ہوسکتا کہ:

لگے گی آگ تو آئیں گے گھر کئی زد میں

یہاں صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے

مزید : رائے /اداریہ