یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہو گی

یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہو گی

  



اسلامی جمہوریہ پاکستان کے لئے ابو الاثر حفیظ جالندھری کا تخلیق کردہ قومی ترانہ ملت اسلامیہ پاکستان کی زندگیوں میں ایک ایمانی و قومی جذبے کو سر شار کرنے کے مترادف ہے۔ ارض پاک میں ہر میدان میں، ہرسطح پرمختلف طبقہ ہائے فکر کی بدولت عسکری،سول قومی اور بین الاقوامی سطح پر، یعنی طب،انجینئرنگ، سول سروسز میں قابل فخر سپوتوں کی بدولت پاکستان نے ترقی کی بے پناہ منزلیں طے کی ہیں۔دوسری جانب کرپشن کے ناسور نے پاکستان کے امیج کو ناقابل تلافی نقصان بھی پہنچایا ہے۔ مالی،اخلاقی،سیاسی کرپشن نے ملک کے امیج کو داغدار کر کے رکھ دیا ہے۔اس کرپشن کے جھکڑ اور طوفان بد تمیزی میں بھی سول سروسز میں ایسے جوہر نایاب موجود ہیں جو امانت، دیانت، شرافت، صداقت،حقوق اللہ اور حقوق العباد کو اپنانا ہی اپنا شعارسمجھتے ہیں۔وہ ارض پاک کو کرپشن کی غلاظت سے پاک کرنے کے لئے ہمہ تن جدو جہد میں مصروف ہیں۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ کی ذات اقدس سب سے بڑی ہے۔

آج انہی افسروں کو دیکھ کر اللہ یاد آتا ہے کہ وہ اپنے ان بندوں کی مدد کر رہا ہے…… رائے منظور ناصرحسین جو صوبہ گلگت بلتستان کے ضلع غذر، استور،صوبہ پنجاب کے ضلع گوجرانوالا چنیو ٹ میں ڈپٹی کمشنر کے عہدے پر فائز رہے ہیں، اسی طرح جب وہ لیکو یڈیشن بورڈ پنجاب کے سیکرٹری کی ذمہ داری پر فائض رہے تو انہوں نے لیکویڈیشن بورڈ پنجاب کو تقریباً چھ ہزار کروڑ کا فائدہ پہنچایا، جس میں ان کا لیگل کمیشن 600 کروڑ بنتا تھا، لیکن انہوں نے حکومت سے یہ کمیشن لینے سے انکار کر دیا۔یہی نہیں، جب وہ ڈپٹی کمشنر ضلع چنیوٹ تعینات تھے، اس وقت کے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی شوگر ملز کے جنرل منیجر کو کسانوں کو گنے کی قیمت کی عدم ادائیگی پر گرفتار کروایا اور اس وقت رہا کیا، جب کسانوں کو ان کی رقم کی تمام تر ادائیگی کرد ی گئی۔ وہ جس جس جگہ سرکاری ذمہ داریوں پر تعینات رہے، خدمت خلق اور دیانت کی اعلیٰ مثال قائم کر کے آگے بڑھتے رہے۔

رائے منظور حسین ناصر کی اس کارکردگی کو جانتے ہوئے امریکہ کے ایک ادارے اکاؤنٹی بلٹی لیب نے، جس کے سربراہ بلیر کورس ہیں،42ممالک سلیکٹ کئے،جہاں کرپشن بہت زیادہ ہے اور سرکاری محکموں میں بغیر پیسے دیئے کام نہیں ہوتے۔ان ممالک میں نیپال، لائبیریا اور پاکستان وغیرہ شامل تھے۔ ان 42ممالک میں پاکستان کے سرکاری اداروں میں رائے منظور حسین ناصر جیسے سرکاری افسر کو ایماندار افسر قرار دیتے ہوئے ایوارڈ سے نوازا، جبکہ امریکہ، جرمنی،انڈیااور دیگر ممالک میں اس قابل فخرافسر کی اعلیٰ شہرت کی رپورٹس میڈیا پر نشر ہوئیں۔ پاکستان میں ایک نجی تقریب میں بھی ان کی خوش قسمتی سمجھ لیجئے کہ انہیں پاکستان میں صادق اور امین جانی جانے والی قومی شخصیت امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق کے ہاتھوں ایوارڈ سے نوازا گیا۔احمد خاور شہزاد ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ تھے، انہوں نے کمالیہ میں 41 سیکنڈ میں 16 ہزار پودے لگا نے کا قومی ریکارڈ بنوایا تھا، اسی طرح پیر محل میں وہ ایک دن میں لاکھوں پودے لگانے کا گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ بنانے جا رہے تھے، جس کی تمام تیاریاں مکمل کرلی گئی تھیں، لیکن ان کا وہاں سے تبادلہ کر دیا گیا۔ آج وہ قائداعظم اکیڈمی فار ایجوکیشنل ڈویلپمنٹ پنجاب کے ایڈیشنل سیکرٹری کے طور فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔وہ پی ایچ ڈی اسکالر ہیں، انہیں 27 دسمبر 2019ء کو انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی اسلام آبادمیں پیغام پاکستان کے امن و مفاہمت کے ایوارڈ کے لئے منتخب کیاگیا۔ان کو یہ ایوارڈ دہشت گردی، تشددکے خاتمے اور سوسائٹی میں امن و امان کی کوششوں کو تسلیم کرتے ہوئے دیا گیا۔

محمد عبد اللہ خان سنبل قابل فخر بیورو کریٹ ہیں، جن کا تعلق پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس گروپ سے ہے۔ ان کی عوام الناس سے والہانہ انداز میں محبت، اخلاص،دیانت داری اور قومی خدمت کا ہر کوئی معترف ہے۔ عبداللہ سنبل نے کمشنر لاہور ڈویژن کی ذمہ داری نبھاتے ہوئے لاہور کی تعمیرو ترقی کے لئے لاہور رنگ روڑ، سیفٖ سٹی پروجیکٹ،پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹی یٹوٹ ہسپتال،گریٹر اقبال پارک،مینار پاکستان ایلیوٹیڈ پراجیکٹ سمیت لاتعداد منصوبے سٹیٹ آف دی آرٹ طرز پر مکمل کروائے اور قومی خزانے کو اربوں روپے کی بچت بھی کروائی۔اسی طرح موجودہ کمشنر ڈیرہ غازی خان ڈویژن نسیم صادق، جوڈپٹی کمشنر لاہور،فیصل آباد، ڈائرکٹر جنرل ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن پنجاب،صوبائی سیکرٹری ہاؤسنگ اینڈ اربن ڈویلپمنٹ، صوبائی سیکرٹری لائیو سٹاک اینڈ ڈیر ی ڈویلپمنٹ اور سیکرٹری خوراک پنجاب تعینات رہے ہیں۔انہوں نے ان عہدوں پر جو خدمات سرانجام دی ہیں، ان پر رشک آتا ہے۔

اللہ کا یہ درویش بندہ راہ حق پر چلتے ہوئے قومی خدمات سرانجام دے رہا ہے۔ اللہ انہیں مزید استقامت عطا کرے۔ یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ ہمارے وطن عزیز میں ایماندار، فرض شناس اور اعلیٰ کردار کے حامل افراد کی کوئی کمی نہیں، بلکہ ارباب اقتدار کی عاقبت نااندیشی کی بدولت پاکستان کئی مسائل کا شکار ہے۔ عبدا للہ خان سنبل، رائے منظور حسین ناصر،احمد خاور شہزاد،نسیم صادق جیسے چراغ جلیں گے تو روشنی ہو گی۔مَیں سمجھتا ہوں حکومت پاکستان کو چاہیے کہ وہ ہر سال 14 اگست اور 23 مارچ کو مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات کو قومی خدمات پر سرکاری اعزازات سے نوازتی ہے۔ محمد عبداللہ خان سنبل، رائے منظور حسین ناصر،احمد خاور شہزاد،نسیم صادق اور دیگر دیانت دار افسروں کو بھی قومی،سول ایوارڈ سے نوازے۔ یہ حکومت پاکستان کا فرض اور ان پر قرض بھی ہے۔

مزید : رائے /کالم