چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی پر چند گزارشات

چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی پر چند گزارشات
چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی پر چند گزارشات

  



جیسا کہ آئین پاکستان میں اصول درج ہے، اس کے مطابق وزیراعظم نے قائد حزبِ اختلاف میاں شہباز شریف کے نام خط لکھا ہے اور اس میں نئے چیف الیکشن کمشنر کے لئے تین اسمائے گرامی تجویز کئے ہیں۔عوام بے چارے دیکھ رہے ہیں،سوچ رہے ہیں اور حیران ہو رہے ہیں کہ ہمارے سیاسی رہنما آئین کی پابندی کرنے میں کس قدر مستعد ہیں!وہ آئین کے بغیر لقمہ بھی نہیں توڑتے۔یہ تو خیر عوام کا معاملہ ہے،رہ گئے اہل ِ دانش و بینش تو وہ اس منظر نامے پر طنزیہ مسکراتے رہتے ہیں۔درد بھی یقینا وہ محسوس کرتے ہیں، وجہ یہ ہے کہ ان کے سامنے پچھلے بہتر برس کی سیاسی تاریخ ہے۔ بار بار کے انتخابات نے نچوڑ یہ پیش کیا ہے کہ ہمارے انتخابی نظام میں اصل مسئلہ چیف الیکشن کمشنر کا نہیں ہوتا، فیصلہ کن کردار مقتدر قوتوں کا ہوتا ہے۔وہ جس جماعت کو اقتدار کے سنگھاسن پر بٹھانا چاہتی ہوں، اس کے لئے خصوصی حکمت عملی بن جاتی ہے۔ محاورے کے مطابق ”وہ مٹی تیار ہو جاتی ہے جسے عوام کی آنکھوں میں جھونکنا مقصود ہوتا ہے“……یہ بھی طے کر لیا جاتا ہے کہ اگر دوسری جماعتوں کو گِلہ گزاری ہو تو ان کی صدائے احتجاج بلند ہو گی تو کتنی بلند ہو گی اور اگر حد سے نکلنا چاہے تو اس کا علاج کیا ہو گا؟

مَیں اپنا شمار اہل ِ دانش و بینش میں تو نہیں کرتا البتہ عام ایک تعلیم یافتہ شہری کی حیثیت سے اپنے مشاہدات و تاثرات پیش کر رہا ہوں۔مَیں ساتویں جماعت کا طالب علم تھا جب صدارت کے لئے مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح ؒاس وقت کے صدرِ مملکت فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کا مقابلہ کرنے کے لئے میدان میں نکلی تھیں۔وہ الیکشن بھی کسی چیف الیکشن کمشنر کے بغیر نہیں ہوئے تھے۔ ایوب خان نے ڈپٹی کمشنروں اور ایس پیوں کے ذمے لگایا تھا کہ وہ پورے ملک کے بی ڈی ممبروں سے ان کی کامیابی ممکن بنوائیں۔

اس وقت40ہزار ممبر مشرقی پاکستان کے تھے اور اتنے ہی مغربی پاکستان کے تھے۔ان پر دباؤ ڈالنا یا انہیں چھوٹے موٹے مالی فوائد مہیا کر کے ان سے ووٹ لینا کوئی مشکل مسئلہ نہیں تھا،چنانچہ جن ممبروں کے بارے میں شک و شبہ تھا کہ وہ ایوب خاں کے مخالف ہیں، انہیں تھانوں میں بلایا جاتا اور ان کی چھترول کی جاتی۔ یہ ”چھترول“ کا لفظ مَیں محاورۃً استعمال نہیں کر رہا، صحیح معنوں میں عرض کر رہا ہوں۔جب ایسے بی ڈی ممبر ایوب خان کے حق میں ووٹ ڈالنے پر رضا مند ہو جاتے تو پھر ان سے قرآن مجید پر حلف لیا جاتا۔اس وقت مَیں گجرات شہر میں تھا اور یہ حقیقت جو مَیں بیان کر رہا ہوں،اس کا ذکر تقریباً ہر شہری کی زبان پر تھا۔میری زندگی میں ووٹ کی ”عزت“ کا یہ پہلا واقعہ تھا۔ اس کے بعد قومی اسمبلی کے ممبروں کے انتخاب میں جو کچھ چودھری ظہور الٰہی مرحوم کے ساتھ کیا گیا، وہ بھی ہمارے پاکستان کی انتخابی تاریخ کا ایک انتہائی شرمناک باب ہے۔

1970ء کے انتخابات کے وقت مَیں بی اے کا طالب علم تھا اور جماعت اسلامی ضلع گجرات کا ورکر تھا۔اس وقت جنرل یحییٰ خاں کی حکومت تھی۔ جنرل صاحب کے ایک رفیق کار میجر جنرل راؤ فرمان علی نے بعد میں بتایا کہ اس وقت کی ایجنسیوں نے پوری کوشش کی کہ کسی جماعت کو واضح اکثریت نہ مل سکے،لیکن الیکشن کے عین نزدیک پتا چلا کہ مغربی پاکستان میں پیپلزپارٹی اور مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ اکثریت سے جیت رہی ہیں۔راؤ فرمان نے مزید بتایا کہ مَیں اس وقت مشرقی پاکستان میں تھا۔ ہم نے مختلف حربے استعمال کئے، لیکن نتیجہ ہمارے حسب ِ منشا نہ نکل سکا۔یاد رہے کہ راؤ فرمان علی کی یہ یاد داشتیں اُردو ڈائجسٹ میں چھپنا شروع ہوئیں تو مقتدر حلقوں نے نوٹس لے لیا اور یہ سلسلہ تحریر فوراً بند ہو گیا۔ میرا عرض کرنے کا مطلب یہ ہے کہ چیف الیکشن کمشنر جسٹس عبدالستار تو تب بھی موجود تھے۔سوال یہ ہے کہ کیا وہ مقتدر قوتوں کے عزائم کے سامنے بند باندھ سکے؟……چلئے آگے دیکھتے ہیں،1977ء کے الیکشن میں کیا ہوا؟مقتدر جماعت نے اپنے چند امیدواروں کو بلامقابلہ منتخب کرا لیا اور اس حوالے سے اتنے شرمناک واقعات وقوع پذیر ہوئے کہ ہمارے ملکی انتخابی عمل پر سیاہ دھبے کی حیثیت رکھتے ہیں۔

کیا اس وقت کے چیف الیکشن کمشنر کے سامنے ووٹ کی مٹی پلید نہ ہوئی،اس نے کیا نوٹس لیا؟اس کے بعد مقتدر قوتوں نے پیپلز پارٹی کو شکست دلوانے کے لئے جو اسلامی جمہوری اتحاد بنوایا،اس نے چیف الیکشن کمشنر کی عین ناک کے نیچے کیا ”ملی خدمات“ انجام دیں، کیا باشعور طبقہ اس سے بھی واقف نہیں؟ مَیں بعد کے انتخابی عمل کی مثالیں پیش کر کے قاری کا وقت ضائع نہیں کرنا چاہتا،اتنا عرض کرتا ہوں کہ دراصل1970ء کے انتخابات کے تلخ تجربے کے بعد ہماری مقتدر توقوں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ اب جو بھی نتائج مقصود ہوں گے، ان کے لئے پہلے سے انتظام کیا جائے گا، کیونکہ انتخاب کے بعد عوامی قوتیں اتنی منہ زور ہو جاتی ہیں کہ پھر ملک ٹوتنے تک نوبت پہنچ جاتی ہے……میرے نزدیک تو چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی محض دکھاوے کا عمل ہے،سرا سر عوام کو بے وقوف بنانے کا پروگرام، ہار جیت کے فیصلے تو بالا ہی بالا طے کر لئے جاتے ہیں اور الیکشن سے پہلے کر لئے جاتے ہیں!

مزید : رائے /کالم