گڈ گورننس کی دھول اور بیورو کریسی کا گھوڑا

گڈ گورننس کی دھول اور بیورو کریسی کا گھوڑا
گڈ گورننس کی دھول اور بیورو کریسی کا گھوڑا

  



وزیر اعظم عمران خان نے جب اقتدار سنبھالا تھا تو بچت کا ایک ایجنڈا بھی دیا تھا، جس کے تحت نہ صرف وزیر اعظم ہاؤس، بلکہ گورنر ہاؤسز اور افسروں کی ایکڑوں پر پھیلی ہوئی سرکاری رہائش گاہوں کو بھی فلاحی مقاصد کے لئے استعمال کرنے کی نوید سنائی گئی تھی۔ اس وقت بڑی واہ واہ ہوئی تھی کہ وزیر اعظم ہاؤس کو خالی کر کے صرف ایک چھوٹے سے حصے کو وزیر اعظم اپنی سرکاری مصروفیات کے لئے استعمال کریں گے۔ وزیر اعظم ہاؤس کی بھینسیں تک بیچ دی گئی تھیں اور اخراجات کو کروڑوں کی بجائے لاکھوں روپے تک محدود کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا تھا، مگر اب وزیر اعظم ہاؤس کے اخراجات کی جو تفصیلات سامنے آئی ہیں، ان سے ہر سننے والے کے چودہ طبق روشن ہو گئے ہیں، گورنر ہاؤسز کی صورت حال بھی کچھ مختلف نہیں۔ مشکلات میں گھرے ہوئے عوام کو تو یہ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے گھبرانا نہیں، اچھے دن آنے والے ہیں، مگر ان برے دنوں میں بھی اگر سرکار کے لچھن وہی رہتے ہیں، جنہیں نشانہ بنا کر اقتدار حاصل کیا گیا تھا تو پھر اس غریب قوم کا کیا بنے گا، اس کے دن کیسے بدلیں گے؟

ملتان کے ایک سینئر صحافی نثار اعوان نے بتایاکہ ڈپٹی کمشنر ملتان کے بیڑے میں آٹھ گاڑیاں سرکاری پٹرول پر چل رہی ہیں،جبکہ قانون میں صرف ایک گاڑی رکھنے کی اجازت ہے۔ لاکھوں روپے ماہانہ کا پٹرول اور ان کی دیکھ بھال پر لاکھوں روپے الگ خرچ کئے جا رہے ہیں۔ نئے پاکستان میں بھی وہی پرانے پاکستان والی عیاشیاں جاری ہیں، لیکن عوام کو ریلیف دینے کے لئے حکومت کے پاس کچھ نہیں …… کمشنروں، ڈپٹی کمشنروں، پولیس افسروں اور دیگر سرکاری محکموں کے عمال کو جو سرکاری رہائش گاہیں ملی ہوئی ہیں، وہ ایکڑوں پر مشتمل ہیں، ان کی دیکھ بھال کے لئے ملازمین کی ایک بڑی تعداد تعینات ہے۔ گویا ایک افسر کروڑوں روپے ماہانہ میں پڑتا ہے۔ ایسا تو ترقی یافتہ ممالک میں بھی نہیں ہوتا، جیسی پُر تعیش زندگی پاکستان میں افسر گزارتے ہیں اور وہ بھی سرکاری خرچ پر۔ وہ ملک جہاں کروڑوں افراد کا مسئلہ دو وقت کی روٹی ہے، جہاں کبھی آٹا غائب ہو جاتا ہے اور کبھی چینی، جہاں بجلی و گیس کے بل دینے کے لئے عوام کو قرض مانگنا پڑتا ہے، وہاں ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو عوام کے بدن سے نچوڑی گئی ٹیکسوں کی آمدنی سے مغلیہ دور جیسی زندگی گزارتا ہے…… ان افسروں کا کام کیا ہے؟ یہ بھی ایک اہم سوال ہے۔ ان سے عوام کو کیا ریلیف ملتا ہے؟ ان کا اصل کام تو عوام کی تکلیفوں میں اضافہ کرنا ہے۔ عام آدمی کو تو یہ اچھوت سمجھتے ہیں اور اس کے ساتھ غلاموں جیسا سلوک کرتے ہیں۔

آخر کیا وجہ ہے کہ عمران خان بھی اپنے اس اعلان پر عملدرآمد نہیں کر سکے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ افسروں کی بڑی بڑی رہائش گاہیں خالی کرانے کے بعد انہیں چھوٹے گھروں میں منتقل کیا جائے گا، کیا یہاں بھی انہیں مزاحمت کا سامنا ہے کیا وہ بیورو کریسی کے سامنے ہتھیار ڈال چکے ہیں کیا؟…… نیب سے نجات دلانے کے ساتھ ساتھ انہوں نے بیورو کریسی کو اس امر سے بھی مبرا قرار دے دیا ہے کہ اس سے ایلیٹ کلاس کا اسٹیٹس نہیں چھینا جائے گا، اس کے اللے تللے جاری رہیں گے، اس کے بجٹ میں کوئی کمی نہیں آئے گی، چاہے عوام کی ترقی پر خرچ کرنے کے لئے حکومت کے پاس ایک دھیلہ بھی نہ بچے……عوام کی بد قسمتی ہے کہ 72 برسوں میں قربانی صرف انہی سے مانگی گئی ہے، اشرافیہ نے کبھی قربانی دی ہے اور نہ مشکل وقت میں مشکلات جھیلی ہیں۔ اس ملک کے سیاستدان، جرنیل، بیورو کریٹس، اعلیٰ عدلیہ کے جج اور بڑے بڑے امراء نے صرف اچھے دن ہی دیکھے ہیں،دوسری طرف خلق خدا آٹے کے لئے سڑکوں پر در بدر ہے، لیکن متذکرہ بالا طبقوں میں سے کسی ایک کا بھی یہ مسئلہ نہیں۔ کوئی بتائے کہ موجودہ حکومت نے اپنے پندرہ ماہ میں مشکل معاشی صورت حال کے نام پر عوام پر جو قیامتیں ڈھائی ہیں، ان کا طبقہئ اشرافیہ پر کیا اثر ہوا ہے؟

صرف یہ اعداد و شمار آ جاتے ہیں کہ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے اپنے اخراجات میں اتنے کروڑ روپے کی بچت کی ہے، مگر اس بارے میں آج تک کوئی تفصیل سامنے نہیں آئی کہ صوبے میں انتظامی اخراجات کتنے کم ہوئے ہیں؟ کمشنروں اور ڈپٹی کمشنروں کے بے بہا، بلکہ ہو شربا اخراجات میں سے کتنے کروڑ روپے بچائے گئے ہیں؟ سب کچھ تو پہلے کی طرح شاہانہ انداز میں چل رہا ہے، پھر عوام چیخیں نہ تو کیا کریں؟ ان اخراجات کو پورا کرنے کے لئے عوام کو بجلی مہنگی دینے اور گیس کی قیمت بڑھانے کی ضرورت تو پیش آئے گی، نت نئے ٹیکس تو لگانے پڑیں گے۔ چلیں جی لوگ پیٹ کاٹ کر یہ بھی کر لیں، مگر انہیں کوئی فرق تو نظر آئے، کہیں گورننس تو ملے، یہاں تو ہر طرف لوٹ مار مچی ہے۔ اب سرکاری افسروں نے ایک اور ڈرامہ شروع کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر کمشنر، ڈپٹی کمشنر، ڈی پی او اور آر پی او کے صفحات بنا لئے ہیں، ان پر ہر وقت اپنے ”کارنامے“ گنوائے جاتے ہیں۔ میڈیا پر اپنی تعریف میں چلنے والی رپورٹوں اور اخبارات میں چھپنے والی خبروں کو ہائی لائٹ کرتے ہیں،لیکن زمین پر صورتِ حال یکسر مختلف ہوتی ہے۔ شہر گندگی سے اٹے ہوئے ہیں۔ عوام کو چھوٹے چھوٹے کاموں کے لئے دفاتر میں ذلیل ہونا پڑتا ہے، رشوت دیئے بغیر کوئی کام نہیں ہوتا، مگر افسر سوشل میڈیا پر سب اچھا کی، ڈگڈگی بجاتے نظر آتے ہیں۔

اب یہ تاثر گہرا ہوتا جا رہا ہے کہ موجودہ حکومت نے بیورو کریسی کو کچھ زیادہ ہی سر چڑھا لیا ہے، اس کا ایک مظاہرہ تو اس وقت ہوا، جب وزیر اعظم کو نیب کے اختیارات کم کر کے سرکاری افسروں کو اس کی گرفت سے بچانے کا اعلان کرنا پڑا۔ اس سے پہلے وہ یہ اعلان بھی کر چکے تھے کہ بیورو کریسی کو سیاسی دباؤ سے آزاد کریں گے۔ ان دونوں باتوں سے بیورو کریسی سدھرنے کی بجائے مزید بگڑ گئی ہے۔ عوامی نمائندے بھی اس کے سامنے بے بس ہو گئے ہیں، ارکان اسمبلی ضلع کے ڈپٹی کمشنر کے سامنے یوں ہاتھ باندھے بیٹھے ہوتے ہیں، جیسے وہ علاقے کا اَن داتا ہے۔ یہ سب کچھ پنجاب میں اپنی انتہا کو پہنچا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں یہ تاثر موجود ہے کہ صوبے میں حکومت نام کی کوئی شے موجود نہیں۔ افسر من مانیاں کر رہے ہیں اور انہوں نے حکومت کے بچت ایجنڈے سمیت عوامی مفاد کے ہر ایجنڈے کو ہوا میں اڑا دیا ہے۔ شہباز شریف نے بھی افسروں کو ہمیشہ اہمیت دی تھی،مگر وہ انہیں دیکھتے شیر کی نگاہ سے تھے۔ عثمان بزدار کے پاس یہ شیر کی نگاہ موجود نہیں، اسی لئے پنجاب کی بیورو کریسی گھوڑے کی طرح سرپٹ دوڑ رہی ہے اور اس کی ٹاپوں سے اڑنے والی گرد میں گڈ گورننس خاک چاٹ رہی ہے۔

مزید : رائے /کالم