روحِ محمدؐ: نفسیاتی بریک ڈاؤن کا علاج!

روحِ محمدؐ: نفسیاتی بریک ڈاؤن کا علاج!
روحِ محمدؐ: نفسیاتی بریک ڈاؤن کا علاج!

  



8جنوری (2020ء) کو ایران نے عراق میں جن دوامریکی مستقروں (Bases)پر میزائلوں سے حملہ کیا تھا وہ 21ویں صدی کی امریکی جنگوں میں ایک واٹرشیڈ سمجھا جا رہا ہے۔

2001ء سے لے کر اب تک امریکہ نے مشرق وسطیٰ کے ممالک کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ جن پانچ ملکوں کو امریکہ نے نشانہ بنایا ان میں افغانستان، عراق، لیبیا، شام اور یمن شامل تھے۔(یمن میں امریکہ نے براہِ راست تو کوئی حملہ نہیں کیا لیکن سعودی ائر فورس جس نے یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف درجنوں خونریز فضائی حملے کئے اس کو امریکی پائلٹوں اور گراؤنڈ سٹاف کی آپریشنل اور لاجسٹک سپورٹ حاصل تھی۔)…… ان میں افغانستان سب سے زیادہ پس ماندہ اور عسکری اعتبار سے سب سے زیادہ غیر منظم ملک سمجھا جاتا تھا لیکن امریکی فوجیوں کا جو جانی نقصان، افغانستان میں ہوا وہ باقی چار ملکوں (عراق، لیبیا، شام اور یمن) میں نہیں ہوا۔ افغانستان میں امریکی جنگ ابھی تک جاری ہے۔

گزشتہ چند برسوں کے آغاز پر ہر سال امید لگائی جاتی رہی کہ امریکہ اور افغانستان کے درمیان کوئی نہ کوئی سمجھوتہ ہو جائے گا اور امریکہ کے 14،15 ہزار فوجی جو اب تک افغانستان میں موجود ہیں وہ واپس چلے جائیں گے۔ لیکن ہر سال کوئی امید بر نہ آئی۔ اس برس (2020ء) بھی یہی توقع کی جا رہی ہے کہ طالبان اور امریکہ کے درمیان کوئی نہ کوئی سمجھوتہ ہو ہی جائے گا لیکن اس سلسلے میں کوئی حتمی بات نہیں کہی جا سکتی۔ دو عشروں پر پھیلی اس جنگ میں کسی امریکی مستقر (کابل، قندھار، بگرام وغیرہ) پر طالبان نے کوئی ایسا حملہ نہیں کیا جس میں امریکی سولجرز کو کوئی ایسا قابلِ ذکر جانی اور مالی نقصان ہوا ہو کہ جس کی وجہ سے وہ افغانستان سے چلے جانے کا کوئی آخری اور قطعی فیصلہ کر سکیں۔ ویسے تو ہزاروں امریکی اس جنگ میں مارے گئے اور ہزاروں اپاہج ہو کر واپس امریکہ جا چکے ہیں لیکن ان کشتگانِ جنگ و جدال میں صرف وہ امریکی شامل تھے جو طالبان پر حملہ آور ہوئے اور طالبان کے جوابی دفاعی حملوں میں مارے گئے یا زخمی ہو گئے……

ایران البتہ مشرق وسطیٰ کا چھٹا ملک ہے جس میں امریکہ کو براہ راست ایرانی حملے کا نشانہ بننا پڑا ہے۔ (ایران کو مشرق وسطیٰ میں شمار نہیں کیا جاتا لیکن بعض ماہرینِ جغرافیہ ایران کو مشرق وسطیٰ ہی کا حصہ گردانتے ہیں) ان چھ اسلامی ملکوں میں ایران واحد ملک ہے جس میں امریکہ اپنے فوجی بوٹ لے جانے سے کتراتا ہے۔ امریکہ کو معلوم ہے کہ ایران کے پاس دو وسائل ایسے ہیں جن کو استعمال کرکے وہ اگر امریکہ کو شکست نہیں دے سکتا تو کم از کم سخت مشکل میں ضرور ڈال سکتا ہے۔…… ان دو وسائل میں ایک تو آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی آپشن ہے۔ ایران جب چاہے اس آبنائے کو بند کرکے دنیا بھر کو تیل کی کمیابی کے گرداب میں ڈال سکتا ہے کیونکہ اس آبنائے کے واسطے سے دنیا کا 39فیصد تیل مشرق و مغرب کے ممالک کو جاتا ہے ……اور دوسرا وسیلہ ایران کی وہ میزائلی قوت ہے جس کو کام میں لا کر وہ نہ صرف اسرائیل کا ناطقہ بند کر سکتا ہے بلکہ اس علاقے میں موجود امریکی بری، بحری اور فضائی قوت کو ایک قابلِ لحاظ نقصان پہنچا سکتا ہے۔

ابھی چند روز پہلے (8جنوری 2020ء) اس نے عراق میں اس کے دو مستقروں پر حملہ کرکے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ایران کی میزائل تھریٹ ایک حقیقی خطرہ ہے۔ امریکہ گو اس کا جواب دے سکتا ہے لیکن اس کے بعد ایران کا جواب الجواب امریکہ ہی نہیں اس خطے کے سارے ممالک کے لئے ایک بڑے نقصان کا موجب ہو سکتا ہے۔ اس پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے اور لکھا جا رہا ہے۔ ہم فی الوقت جنگ کے ایک ایسے پہلو کی طرف قارئین کی توجہ مبذول کروانی چاہتے ہیں جو عصرِ حاضر میں ہر بڑی عسکری قوت کے لئے از بس قابلِ توجہ ہے…… میری مراد جنگ کے نفسیاتی نقصانات سے ہے۔ آج کل اس طریقہ ء جنگ کے نقصانات کو ہائی برڈ وار فیئر کے نقصانات میں سے ایک شمار کیا جارہا ہے۔

ایران نے 8جنوری کو عراق میں جن دو امریکی بیسز پر میزائل داغے تھے ان کے نتیجے میں 11امریکی زخمی ہو گئے تھے۔ اس موضوع پر کل کے کالم میں تبصرہ کر چکا ہوں۔ اگر زیادہ نہیں تو کم از کم 11امریکی سولجرز تو اس ایرانی حملے میں میدانِ جنگ سے باہر نکل گئے ہیں۔ امریکی ذرائع کے مطابق ان کو بظاہر کوئی زخم نہیں آئے۔ نہ میزائل کا کوئی ٹکڑا ان کو لگا اور نہ میزائل حملے کے نتیجے میں کسی تعمیراتی نقصان کا فال آؤٹ ان پر گرا۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ گیارہ امریکی دماغی عارضے کا شکار ہوئے ہیں۔ یہ ایک ایسا عارضہ ہے جو ظاہری آنکھ سے نظر نہیں آتا۔ اس کی وجہ سے نہ تو کسی سولجر کا خون بہتا ہے، نہ کوئی جسمانی عضو کٹ کر الگ ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی کاری زخم ایسا ہوتا ہے جو نظر آئے۔ یہ زخم دماغ کے اندر جس حصے پر لگتا ہے وہ ننگی آنکھ سے پوشیدہ رہتا ہے۔

لیکن اس سے دماغ کے اس مخصوص حصے کو ایسی پوشیدہ چوٹ لگ جاتی ہے جو انسانی جسم کو کسی بھی خارجی ردعمل کے قابل رہنے نہیں دیتی۔ عسکری ہتھیاروں کی پیچیدگی جوں جوں بڑھتی جا رہی ہے ان کے آپریشن کے لئے دماغ کے تیز تر اور عاجل (Rapid) ردعمل کی ضرورت بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ اگر دماغ کا یہ حصہ کام کرنا چھوڑ دے تو اسے نفسیاتی یا دماغی بریک ڈاؤن کہا جاتا ہے جو سپاہی کو محض گوشت پوست کا ایک ڈھیر بنا کر رکھ دیتا ہے۔ ان 11امریکی سولجرز کو اسی نفسیاتی بریک ڈاؤن کا سامنا ہے۔ ان کا علاج کیا جا رہا ہے لیکن جب تک نفسیات کا کوئی سپیشلسٹ ڈاکٹر ان کو فِٹ (Fit) قرار نہیں دے دیتا، ان سولجرز کو واپس یونٹ میں نہیں بھیجا جا سکتا اور ان کو زیرِ علاج ہی رکھا جائے گا۔

اس نفسیاتی بریک ڈاؤن کا انکشاف بھی پہلی بار دوسری عالمی جنگ میں ایک ایسے حادثے سے ہوا جس میں دو امریکی سولجر شامل تھے۔ ہوا یہ تھا کہ دوسری جنگ عظیم کا ایک عظیم امریکی کمانڈر، جنرل جارج ایس پیٹن (Patton)، برطانوی فیلڈ مارشل منٹگمری کے ہمراہ 1943ء میں فتحِ سسلی کے بعد اٹلی میں داخل ہوا۔ یہاں اٹلی میں یکے بعد دیگرے دو ایسے واقعات پیش آئے جنہوں نے جنرل پیٹن کی شہرت اور اَنا دونوں کو مجروح کرکے رکھ دیا۔ واقعہ یوں ہے کہ دو فیلڈ ہسپتالوں کے معائنے کے دوران پیٹن کو دو ایسے مریضوں کو دیکھنے کا اتفاق ہوا جو بظاہر تندرست اور ہٹے کٹے معلوم ہوتے تھے۔ پیٹن نے ان سے بات چیت کے دوران پوچھا کہ ان کو کیا بیماری لاحق ہے؟ لیکن دونوں چپ رہے۔ پیٹن بڑا غصیلا لیکن بڑا دلیر جنرل تھا۔ اس نے ان امریکی سپاہیوں کو غیرت دلانے کی بہت کوشش کی اور ان کو کہا کہ وہ خواہ مخواہ کے خوف کو سرپر سوار نہ کریں اور بزدلوں کی طرح جنگ سے مت ڈریں۔ لیکن وہ دونوں سپاہی جنگ سے ہراساں ہی رہے۔

اس زمانے میں جنگ کے نفسیاتی پہلوؤں سے ڈاکٹروں کو بھی کچھ زیادہ آگاہی نہ تھی۔ پیٹن نے غصے میں آکر ان دونوں کو ایک ایک تھپڑ رسید کردیا۔ اس کا خیال تھا کہ تھپڑ کھا کر ان کی غیرت جاگ جائے گی اور وہ کسی ردعمل کا مظاہرہ ضرور کریں گے۔ لیکن وہ دونوں تھپڑ کھا کر بھی ٹس سے مس نہ ہوئے۔ پیٹن کے ہمراہ فیلڈ ہسپتالوں کے ڈاکٹر بھی تھے۔ ان لوگوں نے جنرل کے تھپڑ مارنے کے ”طریقہ ء علاج“ کا بُرا منایا اور ان کے کمانڈنگ افسروں نے پیٹن کے خلاف آئزن ہاور کو رپورٹ کر دی جو اتحادی افواج کا سپریم کمانڈر تھا۔ ڈاکٹروں کا استدلال تھا کہ جنرل پیٹن تو ہسپتالوں کے مریضوں کی عیادت کے لئے آئے تھے۔ ان کی وزٹ سپاہ کو تسلی دینے کے لئے شیڈول کی گئی تھی نہ کہ مریضوں کو تھپڑ مار کر ہسپتالوں میں پڑے دوسرے مریضوں کو بد دل کرنے کے لئے…… جنرل آئزن ہاور، پیٹن کا دوست تھا۔ وہ بھی امریکی تھا اور پیٹن کو اچھی طرح جانتا تھا۔ اس نے ڈاکٹروں کی رپورٹ پڑھ کر جنرل پیٹن کو معمول کی ایک وارننگ جاری کر دی۔

لیکن میڈیا نے اس کیس کو اتنا زیادہ اچھالا کہ رائی کا پہاڑ بن گیا۔ آئزن ہاور جنگ کے اس مرحلے پر پیٹن جیسے کمانڈر کو ضائع نہیں کرنا چاہتا تھا۔ لیکن یہ معاملہ یہاں تک بڑھا کہ جنرل پیٹن کی مزید پروموشن روک دی گئی اور اسے آرمی کمانڈر سے اوپر کی کمانڈ کا اہل نہ گردانا گیا۔ آئزن ہاور کا کہنا تھا کہ اگر اس واقعے / حادثے سے کسی کو فائدہ ہو سکتا ہے تو وہ صرف محوری (Axis) قوتیں ہی ہو سکتی ہیں، چنانچہ پیٹن کو جنوری 1944ء میں فیلڈ کمانڈ سے تبدیل کرکے انگلستان بھیج دیا گیا تاکہ وہ ”آپریشن اوور لارڈ“ (نارمنڈی لینڈنگ) کے لئے تھرڈ آرمی کی ٹریننگ کرے۔

برطانوی اور رشین ٹروپس جو اس جنگ کے دوسرے بڑے اتحادی تھے، وہ امریکی سولجرز کو پہلے ہی Green Troops یعنی ”کمزور دل سولجرز“ گردانتے تھے اس لئے انہوں نے اس ”نفسیاتی عارضے“ کو صرف امریکی افواج کے ساتھ مخصوص عارضہ قرار دیا…… آج اس واقعہ کو 76 برس گزر چکے ہیں لیکن یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ امریکی سولجرز، دنیا کی دوسری اقوام کی افواج کے علی الرغم واقعی ایسے سولجرز ہیں جو نفسیاتی بریک ڈاؤن کا شکار ہونے میں دیر نہیں لگاتے۔ ایرانی میزائل حملے کے شکار ان گیارہ سولجرز کو بھی اسی نفسیاتی بریک ڈاؤن کا سامنا ہے۔

نفسیاتی بریک ڈاؤن کی یہ بیماری جسے ہائی برڈ وار فیئر کا ایک حصہ قرار دیا جا رہا ہے، امریکہ کے علاوہ دنیا کی دوسری افواج میں بہت کم دیکھنے کو ملتی ہے۔ پاکستان آرمی گزشتہ دو عشروں سے دہشت گردی کا شکار رہی ہے اور اس کے ہزاروں سولجرز (آفیسرز اور جوان) اس دوران مارے گئے یا زخمی ہو گئے۔ خودکش دھماکے، میزائل حملوں سے بھی زیادہ ناگہانی شدتِ ضرب کا باعث بنتے ہیں لیکن کسی پاکستانی فوجی کو ان حملوں میں اس طرح کی ”دماغی چوٹ“ کا سامنا نہیں ہوا جو اس ایرانی حملے میں ان 11امریکی سولجرز کو ہوا ہے۔ اس تناقض (Anomaly) کی بہت سی وجوہات گنوائی گئی ہیں جن میں ایک یہ بھی ہے کہ مسلمان سولجر تو شوقِ شہادت کے جذبے سے سرشار ہو کر میدانِ جنگ میں اترتا ہے، لہٰذا اس کو موت کا وہ خوف دامنگیر نہیں ہوتا جو امریکی سولجرز کو ہوتا ہے…… دوسری بڑی وجہ امریکی سولجر کا وارٹیکنالوجی پر حد سے زیادہ بڑھتا ہوا انحصار ہے۔ آپ کسی بھی امریکی سولجر کو دیکھیں وہ جدید ترین وار ٹیکنالوجی سے لیس اور لدا پھندا ہوگا۔ درجنوں بوجھل ٹیکنالوجیکل آلات اس کو زندہ رکھنے کے لئے اس کے جسم کے ایک ایک حصے پر ”نصب“ کر دیئے جاتے ہیں جن کے باعث ایک تو اس سپاہی سے حرکیت (موبلٹی) کا عنصر چھن جاتا ہے اور دوسرے اس پر ناقابلِ تسخیر ہونے کا جو زعم سوار ہوتا ہے وہ جب اچانک بکھرتا اور ٹوٹتا ہے تو اس کو شدید دماغی اور ذہنی صدمے سے دوچار کر دیتا ہے جسے اصطلاح میں ”صدمہ ء دماغ“ (Concussion) کہا جاتا ہے۔ ان 11امریکی سولجرز کو اسی دماغی صدمے کا سامنا ہوا اور وہ نجانے کب تک اس عارضے میں مبتلا رہیں گے۔ یہ عارضہ بظاہر بھلے چنگے نظر آنے والے انسانوں کو چلتی پھرتی لاشوں میں تبدیل کر دیتا ہے۔

ضربِ کلیم میں اقبال کی ایک نظم ہے جس کا عنوان ہے: ”ابلیس کا فرمان اپنے سیاسی فرزندوں کے نام“…… اس کا ایک شعر حسبِ حال ہے:

وہ فاقہ کش کہ موت سے ڈرتا نہیں ذرا

روحِ محمدؐ اس کے بدن سے نکال دو

مزید : رائے /کالم