شوکت خانم ہسپتال میں ڈونرز کو 'میڈل آف ہوپ'دینے کی تقریب

شوکت خانم ہسپتال میں ڈونرز کو 'میڈل آف ہوپ'دینے کی تقریب

  



لاہور (پ ر)شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال اور ریسرچ سنٹر لاہورمیں ڈونرز کے اعزاز میں ایک عشائیے کا اہتمام کیا گیا جس میں ہسپتال کے ساتھ تعاون کرنے والے افراد اور کارپوریٹ کمپنیوں کے نمائندوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ یہ تقریب ہسپتال کے پچیس سال مکمل ہونے کی خوشی میں منعقد کی گئی تھی جس میں ان تمام لوگوں کو مدعو کیا گیا جو اس ادارے کے ساتھ تعاون کرتے آ رہے ہیں۔ اس موقع پر ہسپتال کی انتظامیہ کی طرف سے آنے والے معزز مہمانوں کو 'میڈل آف ہوپ' بھی دیا گیا جو اس بات کا اعتراف تھا کہ ان کے تعاون کی بدولت پاکستان میں کینسر کے علاج کا ایک ایسا ادارہ کامیابی سے کام کر رہا ہے جو ہزاروں مستحق کینسر کے مریضوں کے لیے زندہ رہنے کی امید بن چکا ہے۔ تقریب میں ہسپتال کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر فیصل سلطان اور چیف میڈیکل آفیسر ڈاکٹر محمد عاصم یوسف نے مہمانوں کو ہسپتال کی کارکردگی کے حوالے سے بریفنگ دی۔ ہسپتال کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر فیصل سلطان نے حاضرین کو ہسپتال کی پچیس سالہ کارکردگی اور توسیعی منصوبوں کے حوالے سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ہسپتال اپنے مشن کے عین مطابق اپنے قیام سے اب تک پچھتر فیصد سے زائد مریضوں کو کینسر کے علاج کی بین الاقوامی معیار کی سہولیات بلا معاوضہ فراہم کر رہا ہے اور اس مد میں اب تک 39ارب روپے سے زائد کی رقم خرچ کی جاچکی ہے۔ قیام سے اب تک ہسپتال میں سہولیات فراہم کرنے کے سلسلے میں کبھی تعطل نہیں آیا اور ان 25سالوں کے دوران ہسپتال کے آؤٹ پیشنٹ ڈپارٹمنٹ میں 20لاکھ سے زائد مریض آئے جبکہ یہاں کیمو تھراپی، ریڈی ایشن اور سرجری کے تقریباً 16لاکھ پروسیجرز کیے گئے۔مریضوں کی دیکھ بھال کے اعلیٰ معیار کو قائم اور برقرار رکھنے پر شوکت خانم ہسپتا ل لاہور اور پشاور کو جوائنٹ کمیشن انٹر نیشنل سے ایکریڈیٹیشن حاصل ہو چکی ہے جو کہ ہسپتال کی انتظامیہ کے ساتھ اس کے تمام ڈونرز کے لیے بھی ایک اعزاز کی بات ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان کے تیسرے اور سب سے بڑے شوکت خانم ہسپتال کی کراچی میں تعمیرکی تیاریاں مکمل ہیں جبکہ لاہور کے ہسپتال کی گنجائش کو بڑھانے کے لیے یہاں نئے کلینکل ٹاور کی تعمیر بھی جلد شروع ہو جائے گی جس سے اس ہسپتال کی گنجائش تقریباً دوگنی ہو جائے گی۔انہوں نے مزید بتایا کہ کینسر کے علاج کی جدید ٹیکنالوجی کے حوالے سے شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال کا نام سرِ فہرست آتا ہے اور یہاں اس وقت پاکستان کا سب سے بڑا اور جدید ریڈی ایشن اونکالوجی ڈپارٹمنٹ موجود ہے۔ جبکہ مریضوں کے علاج کے علاوہ یہاں تحقیق اور تربیت کے شعبے بھی خاطر خواہ کام کیا جا رہا ہے۔ ڈاکٹر فیصل سلطان کا کہنا تھا کہ سال 2020کے لیے ہسپتال کا بجٹ تقریباً 17ارب روپے ہے اور امید ہے کہ انشاللہ آپ جیسے مخئیر حضرات کے تعاون سے یہ بھی پورا ہو جائے گا۔ تقریب میں شریک مہمانوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ اس ہسپتال کے ساتھ آئندہ بھی تعاون کرتے رہیں گے کیونکہ انہیں یقین ہے کہ ان کے دیے ہوئے عطیات کا درست استعمال ہو گا اور ان سے مستحق کینسر کے مریضوں کا علاج جاری رہے گا۔

مزید : کامرس