حکمران طبقے نے ہی قو م کو غربت اور جہالت کا شکار کیا ہے: حافظ نعیم الرحمن

حکمران طبقے نے ہی قو م کو غربت اور جہالت کا شکار کیا ہے: حافظ نعیم الرحمن

  



کراچی (اسٹاف رپورٹر)امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ ملک اور قومیں اپنے تعلیمی نظام کی وجہ سے ہی ترقی کرتی ہیں، تعلیم ہی ایک باوقار قوم اور ملک بناتی ہے،تعلیم کو تجارت نہ بنایا جائے، تعلیم ہمارا حق ہے،حکمران طبقے نے ہی قوم کو غربت اور جہالت کا شکار کیا ہے۔ کیاوزیر اعظم عمران خان،وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ اور ان کی کابینہ کے ارکان کسی 5سرکاری اسکولوں کے نام بتا سکتے ہیں جن میں وہ اپنے بچوں، پوتوں یا نواسے،نواسیوں کو داخلہ کرانے پر تیار ہوں،ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلامی جمعیت طلبہ وفاقی جامعہ اردو کے تحت گریجویٹ طلبہ و طلبات کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب سے جامعہ اردو کے رجسٹرار ساجد جہانگیر، اسٹوڈینٹس ایڈوائزر افضال،شعبہ ارضیات کی سربراہ سیما ناز، رکن صوبائی اسمبلی سید عبد الرشید اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔ تقریب میں جامعہ اردو کے طلبہ و طالبات اور ان کے اہل خانہ، سینئراساتذہ نے شر کت کی طلبہ و طالبات کو اعزازی شیلڈز بھی پیش کی گئیں۔ اس موقع پر سائنس فیکلٹی کے ڈین ڈاکٹر محمد زاہد، اسلامی جمعیت طلبہ کراچی کے ناظم عمراحمد خان، ناظم زون انیق احمد تابش، جامعہ اردو کے ناظم عتیق الرحمن اور دیگر بھی موجود تھے۔حافظ نعیم الرحمن نے مزید کہا کہ میں آپ سب کو مبارکباد پیش کرتا ہوں جنہوں نے اپنی تعلیمی زندگی کا اہم سفر مکمل کیا ہے اورکامیابی کے ساتھ اپنی ڈگریاں حاصل کیں ہیں۔ اللہ تعالی کامیابی کا یہ سفر جاری رکھے اور یہ طلبا زندگی کے ہر مرحلے پر اسی طرح سرخرو ہوتے رہیں۔انہوں نے کہا کہ بڑی بدقسمتی ہے کہ جامعہ اردو میں کوئی مستقل وائس چانسلر نہیں ہے اور کئی سالوں سے کانو کیشن بھی منعقد نہیں ہوا۔ ہمارے حکمران،صدر،گورنر اور وزیر اعلیٰ نجی جامعات کے کانوکیشن میں تواکثر جاتے ہیں لیکن جو جامعات براہ راست ان کی نگرانی میں ہیں وہاں کانوکیشن تک نہیں ہوتے۔جب طلبہ یونین تھیں تو باقاعدگی سے سرکاری جامعات میں کانوکیشن ہوتے تھے۔ طلبہ کا حق غصب نہیں کیا جاتا تھا، طلبہ کو ضروری سہولیات میسر ہوتی تھیں۔ ٹرانسپورٹ کا پورا انتظام ہوتا تھا،آج سر کاری جامعات اور دیگر تعلیمی اداروں کا جو حال ہے، ملک کے تعلیمی نظام اور حکومت کی طرف سے شعبہ تعلیم کو نظر انداز کرنے کا جو رویہ ہے وہ آج سب کے سامنے ہے۔ ہمارے ملک کو چلانے والے اعلیٰ عہدوں پر فائز حکام کے ساتھ مسئلہ یہ نہیں ہے کہ ان کے پاس ڈگریاں نہیں ہیں، وہ سب اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں اور بڑے تعلیمی اداروں سے تعلیم حاصل کر چکے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ ہمارے ہاں تعلیم کی کمی ہے اور غربت ہے اس لیے ملک کے حالات اچھے نہیں ہیں لیکن اصل میں قوم کو غریب اور جاہل تو خود ان لوگوں نے بنا کر رکھا ہے جو ملک کے حکمران ہیں۔ ملک میں صحت کے مسائل ہیں، لوگ علاج اور تعلیم سے محروم ہیں توجن لوگوں کے ہاتھوں میں اختیار اور اقتدار ہے، جوریاست کے ذمہ داراور 70سال سے ملک پر حکمران ہیں وہی اس کے ذمہ دار ہے یہ قوم کی بڑی قسمتی ہے کہ تعلیم تجارت بن گئی ہے۔ تاجرانہ ذہن کے ساتھ جوتعلیمی نظام چلے گا وہ کبھی بہتر نتائج نہیں دے سکتا۔ اس کے نتیجے میں مظلوم اور محروم طبقات مظلوم و محروم ہی رہتے ہیں اور صرف چند افراد تک میں تعلیم سمٹ کر رہ جا تی ہے۔ نجی تعلیمی اداروں کی تو خیر کیا بات کی جائے سرکاری جامعات کی فیسیں بھی بڑھتی جا رہی ہیں۔ تعلیمی ضروریات مشکل ہو تی چلی جا رہی ہیں اور عوام پر نئے نئے ٹیکس لگ رہے ہیں۔ بجلی، گیس، اشیاء صرف مہنگی ہو رہی ہیں۔ ان حالات میں عام افراد کہاں سے اپنے بچوں کو تعلیم دلواسکتے ہیں۔ سندھ میں 40ہزار اسکول ہیں کیا کوئی ایک ایسا ہے جس میں وزیر اعلیٰ اور ان کی کابینہ کے ارکان اپنے اولاد کو تعلیم دلا سکتے ہیں اور جو حکمران جماعتیں ہیں ان سے وابستہ افراد اپنے بچوں کا داخلہ سرکاری اسکولوں میں کراسکتے ہیں؟ اگر بجٹ میں دیکھیں تو 1200ارب روپے تمام جامعات کے لیے ہیں، جن میں تنخواہیں سمیت دیگر اخراجات ہیں اس میں سے سندھ کی جامعات کے لیے 280ارب روپے رکھے گئے ہیں تو پھر ایسی صورتحال میں تحقیق کا کام کیسے ہو سکتا ہے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر