آٹا بحران پر وفاقی اور صوبائی حکومت ملکر قابو پائیں،کوکب اقبال

      آٹا بحران پر وفاقی اور صوبائی حکومت ملکر قابو پائیں،کوکب اقبال

  



کراچی(پ ر) چند ہی دنوں میں اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں بلا جواز اضافہ کیا گیا ہے۔ آٹا 6روپے، چینی 6روپے اور گھی کی قیمتوں میں 40روپے فی کلو کے اضافہ سے پورے ملک کے صارفین اچانک بد ترین مہنگائی کی وجہ سے سکتے کے عالم میں ہیں۔ کہ یہ دو تین دن میں اتنا اضافہ کیسے ممکن ہوا۔ دوسری طرف ذخیرہ اندوزوں نے اشیاء مہنگی کرکے راتوں رات اربوں روپے کمائے۔ یہ بات کنزیومر ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین کوکب اقبال نے کیپ کے دفتر میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہی۔انہوں نے کہا کہ آٹا بحران کی وجہ سے صارفین کو روٹی کھانے کے لالے پڑ گئے ملک بھر میں آٹا مہنگا ہونے کے باوجود دستیاب نہیں ہے۔ تندوروں پر 10روپے والی روٹی 12سے 15روپے میں بیچی جارہی ہے۔ کوکب اقبال نے کہا کہ گیس کی شدید قلت اور پریشر کم ہونے کی وجہ سے صارفین کے گھروں کے چولہے پہلے ہی ٹھنڈے ہوگئے تھے اور صارفین ابھی اس بحرانی کیفیت سے نبرد آزما تھے کہ یکے بعد دیگرے آٹا، چینی اور گھی کی قیمتوں میں بلا جواز اضافہ کردیا گیاجس سے ذخیرہ اندوزوں نے اپنے خزانے بھرلیے۔ حکومت اگر واقعی صارفین کو فوری ریلیف دینا چاہتی ہے تو ذخیرہ اندوزوں کے گوداموں پر چھاپے مارنے کے لیے ٹاسک فورس تشکیل دے جس میں صارفین کی نمائندہ تنظیم کنزیومر ایسوسی ایشن آف پاکستان کو بھی شامل کیا جائے۔ چیئر مین کنزیومر ایسوسی ایشن آف پاکستان کوکب اقبال نے کہا کہ گزشتہ تین دنوں میں ہول سیل ریٹ پر چینی کی فی کلو قیمت 80روپے سے بھی تجاوز کرگئی ہے جبکہ 5کلوگھی کے ڈبّے کی قیمت 1000روپے سے بڑھ کر 1200روپے تک پہنچ گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ 50کلو چینی کی بوری کی قیمت 3500روپے سے بڑھ کر 38500روپے تک پہنچ گئی ہے۔ حکومت کے مقرر کردہ نرخوں کے مطابق گھی کی فی کلو قیمت 190روپے ہے اس کے باوجود مارکیٹ میں گھی 250روپے فی کلو فروخت کیا جارہا ہے۔ کوکب اقبال نے کہا کہ اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں مسلسل بلا جواز اضافہ سے صارفین کی راتوں کی نیندیں اٹھ گئی ہیں کہ وہ اب ان بحرانوں اور ناجائز منافع خوری سے کس طرح نجات حاصل کرسکیں۔ پورے ملک میں مہنگائی کا سونامی آیا ہواہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں صارفین کو ریلیف دینے کے بجائے ایک دوسرے پر الزامات لگاکر اپنی ذمہ داریوں سے پردہ پوشی اختیار کرنا چاہتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی کی وجہ سے صارفین کی برداشت کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے جس سے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو صارفین کے احتجاج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر