74بزنس لائسنس سے متثنی ٰ، 15چھوٹے کاروبار وں پر غیر ضروری ٹیکس ختم، سیڈ ایکٹ میں ترمیم، کاٹن کمیٹی کی تشکیل نو جلد مکمل کی جائے: وزیراعظم

74بزنس لائسنس سے متثنی ٰ، 15چھوٹے کاروبار وں پر غیر ضروری ٹیکس ختم، سیڈ ایکٹ ...

  



اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوزایجنسیاں)عام آدمی کو ریلیف فراہم کرنے اور چھوٹے کاروبار وں کیلئے آسانیاں فراہم کرنے کیلئے وزیر اعظم عمران خان نے بڑا فیصلہ کرتے ہوئے لوکل گورنمنٹ کی سطح پر چھوٹے کاروباروں کیلئے غیرضروری ٹیکسز،مختلف کاروباری سرگرمیوں کیلئے درکار مختلف لائسنسز کے نظام کو ختم کرنے اور ضروری لائسنسز کیلئے طریقہ کار آسان بنانے اور جدید ٹیکنالوجی کو برؤے کار لاتے ہوئے خود کار نظام متعارف کرنے کی ہدایت کی۔میڈیا رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم نے 15 چھوٹے کاروبار پر غیر ضروری ٹیکس اور 74 مختلف قسم کے لائسنسز ختم کرنے کی ہدایت کی ہے۔عمران خان نے کہا ہے کہ غریب کاروباری افراد کو بے جا تنگ نہ کیا جائے۔وزیراعظم نے وزرائے اعلیٰ اور بورڈ آف انویسٹمنٹ سے مشاورت کی اور انسپکشن اور غیر ضروری سرٹیفکیٹس کے نام پر لئے جانیوالے ٹیکسز کا نوٹس لیا۔ عمران خان نے ہدایت کی کہ 15 چھوٹے کاروبار پر ٹیکس ختم کیا جائے، صوبائی حکومتیں لوکل گورنمنٹ کمیشن کو ہدایات جاری کریں، غیر ضروری سرٹیفکیٹس کے نام پر ہراساں کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے، چھوٹے دکانداروں کو پرسکون ماحول فراہم کرنا ترجیح ہے۔عمران خان کی آبزرویشن پر صوبائی حکومتیں متحرک ہوگئیں، 15 چھوٹے کاروبار پر غیر ضروری ٹیکس ختم کیا جا رہا ہے، 74 مختلف کاروبار پر انسپکشن کی شرط ختم کر دی جائیگی۔صوبوں میں لائسنسنگ رجیم کے حوالے سے اجلاس کے دوران وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ موجودہ نظام میں مختلف میٹروپولیٹن کارپوریشنز، میونسپل کارپوریشنز، ٹاؤن کمیٹیوں و دیگر اداروں کی جانب سے کاروبار کے لیے کم و بیش ڈیڑھ سو قسم کے مختلف لائسنسز درکار ہوتے ہیں اس نظام میں کرپشن، رشوت ستانی اور چھوٹے کاروبار کرنے والے افراد کو حراساں کیے جانے والے افراد کی شکایت عام ہے۔وزیر اعظم نے پیچیدہ لائسنسگ رجیم پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کریانہ، کلاتھ، کلچہ شاپ وغیرہ جیسے چھوٹے کاروبار کیلئے لائسنس کی شرط عام آدمی کے لیے مشکلات پیدا کرنے کے مترادف ہے ایسے 74 قسم کے غیر ضروری لائسنسوں کی شرط کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ ایسے کاروبار جہاں انسپیکشن وغیرہ درکار ہے وہاں جدید ٹیکنالوجی کو برؤے کار لاکر خود کار نظام بنایا جائے تاکہ جہاں اس نظام کو آسانیاں میسر آئیں وہاں کرپشن، رشوت خوری اور حراساں کرنے کی روش کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ غیر ضروری لائسنس ختم کرنے کا عمل تیس دنوں میں مکمل کیا جائے۔وزیر اعظم نے وفاقی دارالحکومت میں میونسپل سروسز کی مد میں فیسوں میں خاطر خواہ اضافے اور اس کے نتیجے میں عوام کو پیش آنے والے مشکلات پر سخت نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اداروں کو عوام کے تحفظات دور کرنے اور اس اضافے پر نظر ثانی کی ہدایت کی۔ وزیراعظم نے ملک میں مہنگائی کے مسئلے پر اجلاس بلالیا۔ عمران خان کو آٹے کے بحران سے متعلق بریفنگ دی جائے گی۔وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وزارت فوڈ سیکیورٹی، وزارت تجارت اور صوبوں کے نمائندے شریک ہونگے۔ ذرائع کے مطابق ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی سے متعلق رپورٹ بھی پیش کی جائے گی، مڈل مین کا کردار ختم کرنے کی سفارشات پر عملدرآمد کا جائزہ لیا جائے گا۔ وزیر اعظم عمران خان نے مختلف ملکوں میں کپاس کی پیداوار کی شرح اور ملک کی اوسط پیداوار میں واضح فرق پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ بدقسمتی سے ماضی میں کپاس کی پیداوار میں اضافے اور اس فصل کے فروغ کے حوالے سے مختلف درپیش مسائل دور کرنے خصوصاً نئے بیجوں کی کاشت، ٹیکنالوجی کے فروغ، کاشت کے جدید طریقوں کو اپنانے اور کسانوں کی مالی معاونت جیسے اہم شعبوں کو نظر انداز کیا جاتا رہاہے،سیڈ ایکٹ میں ترمیم اور کاٹن کمیٹی کی از سر نو تشکیل کے عمل کو جلد مکمل کیا جائے،سپورٹ پرائس مقرر کرنے کے حوالے سے تجویز کا جائزہ لیا جائے اور سفارشات پیش کی جائیں۔اسلام آباد میں تاجر برادری کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں جو تنخواہ ملتی ہے اس سے ان کے گھر کے خرچے بھی پورے نہیں ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ میں اقتدار میں آ کر کوئی فیکٹریاں نہیں بنا رہا، اپنے گھر کا خرچہ بھی خود کرتا ہوں۔وزیراعظم نے عوام کو ایک مرتبہ پھر امید دلاتے ہوئے کہا کہ قوموں کی زندگی میں مشکل وقت آتے رہتے ہیں، مجھے مہنگائی کا احساس ہے۔ ہم نے اسے کنٹرول کرنے کے لیے اقدامات کیے، اس سے مہنگائی نیچے آئے گی۔عمران خان کا کہنا تھا کہ مغرب کے حکمرانوں کو عوام کے ٹیکس کے پیسے کا احساس ہوتا ہے لیکن پاکستان میں بدقسمتی سے غلط روایات پڑی۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ پاکستان فلاحی ریاست کیسے بنے گا؟ جب تک ٹیکس اکٹھا نہیں کریں گے۔ ہم نے اپنے بچوں کو تعلیم اور صاف پانی دینا ہے۔ پاکستان کا شمار دنیا کے کم ترین ٹیکس دینے والے ممالک میں ہوتا ہے۔ ٹیکس اکٹھا کیے بغیر پاکستان آگے نہیں بڑھ سکتا۔ ٹیکس نہیں دیں گے تو ملک کیسے ترقی کرے گا؟ اپنے پاؤں پر کھڑے نہیں ہوں گے تو سبز پاسپورٹ کی عزت نہیں ہوگی۔وزیراعظم عمران خان سے آزاد جموں و کشمیر کے سابق صدر سردار سکندر حیات خان اور سابق وزیراعظم بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے اسلام آباد میں ملاقات کی جس میں سردار سکندر حیات خان نے وزیراعظم عمران خان کو دنیا بھر میں مسئلہ کشمیر کو بھرپور اور موثر انداز میں اجاگر کرنے پر خراج تحسین پیش کیا اور وزیراعظم عمران خان کی قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا۔ملاقات میں مقبوضہ جموں وکشمیر کے مظلوم عوام سے یکجہتی کے اظہار کیلئے 5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر بھرپور انداز سے منانے کے حوالے سے تیاریوں اور آزاد جموں و کشمیر کے سیاسی اور ترقیاتی امور پر بھی گفتگو کی گئی۔

وزیراعظم

مزید : صفحہ اول