اپوزیشن ارکان کا ملک میں آٹا بحران کیخلاف ایوان سے علامتی واک آؤٹ

اپوزیشن ارکان کا ملک میں آٹا بحران کیخلاف ایوان سے علامتی واک آؤٹ

  



اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)سینیٹ میں اپوزیشن نے آٹے کے بحران کیخلاف ایوان سے علامتی واک آؤٹ کیا۔ پیر کو ایوان بالا کے اجلاس میں اس معاملے پر مختلف ارکان نے اظہار خیال کیا اور قائد ایوان نے بتایا کہ وفاقی وزیر نیشنل فوڈ سکیورٹی ارکان کے سوالات کا اس سلسلے میں تفصیلی جواب دیں گے تاہم قائد حزب اختلاف راجہ ظفر الحق نے کہا کہ حکومت نے ہمیں تسلی بخش جواب نہیں دیا، یہ انتہائی اہم معاملہ ہے، اس پر ہم علامتی واک آؤٹ کرتے ہیں جس کے بعد اپوزیشن ارکان ایوان سے واک آؤٹ کر گئے۔اجلاس کے دور ان اظہار خیال کرتے ہوئے سینیٹر جاویدعباسی نے کہاکہ آٹے کا بحران صرف ایک صوبے کا نہیں پورے ملک کا ہے،حکومت کسی ایک مسئلے پر بھی سنجیدہ نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کروانے کے ذمہ داروں کو ایک پارٹی کا اعلی عہدہ دیدیا گیا،وزیر اعظم کو سکون دنیا میں نہیں بلکہ قبر میں ملے گا۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں معاشی حالات کہاں سے کہاں پہنچ گئے ہیں،گندم کے نام پر پیسے بنانے والوں کیخلاف ایکشن لیا جائے۔سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ حکومت کی نااہلی و نالائقی کے باعث مہنگائی اور غربت میں اضافہ ہوا ہے،آٹے کا بحران بھی حکومت کی نالائقی کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ لنگر خانے کھول رہے ہیں جہاں چند سو لوگ جاتے ہیں،لنگر خانے مسائل کا حل نہیں، کارخانے لگائیں۔ انہوں نے کہاکہ ملک پر جو عذاب آیا ہے ہمیں توبہ کرنی چاہیے اوراللہ تعالی سے معافی مانگنی چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ چیئرمین سینیٹ آٹے کے بحران کے حوالے سے کوئی رولنگ دیں۔ انہوں نے کہاکہ دال ماش بدمعاش بن چکی ہے،آٹے بحران کو حل کرنے کیلئے تعاون کیلئے تیار ہیں،خطرہ ہے مسائل حل نہ ہوئے تو عوام محلوں اور سرکاری دفاتروں کا گھیراؤ کرینگے۔ سینیٹر محسن عزیز نے کہاکہ حکومت نے واضح طور پر بتا دیا ہے کہ بحران دو دن میں ختم ہوجائیگا، بحران کی وجہ ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال اور سڑکیں بند ہونا بھی ہے، اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبوں کی ذمہ داری ہے کہ اپنے سٹاک کو محفوظ بنائیں۔سینیٹر مشتاق احمد نے کہاکہ آٹے کی کمی نہیں بلکہ یہ مافیا کا پیدا کردہ مسئلہ ہے،حکومت اپنی صفوں میں مافیا کو تلاش کرے۔سینیٹر پرویز رشید نے کہاکہ موجودہ حکومت میں ضرورت سے 4لاکھ میٹرک ٹن گندم زیادہ پیدا ہوئی،4لاکھ میٹرک ٹن گندم سمگل کی گئی،اب تین لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کی جاری ہے،29روپے کلو کے حساب سے گندم باہر بھیجی گئی،جس کے خون پسینے سے گندم ہوئی وہ اب 70روپے فی کلو خرید رہا ہے۔ چیئرمین سینیٹ نے آٹے کے بحران پر (آج) منگل کو بھی ایوان میں بحث جاری رکھنے کی رولنگ دیتے ہوئے کہاکہ قائمہ کمیٹی کی رپورٹ بھی پیش کی جائے، چاروں صوبائی سیکرٹریز سے آٹے بحران پر رپورٹ لی جائے۔علاوہ ازیں اجلاس کے دور ان الیکشن کمیشن ارکان کی تقرری سے متعلق ترمیمی بل 2019ء، قصاص اور حدود کی سزاؤں کی معافی سے متعلق دستور ترمیمی بل 2019ء متعلقہ کمیٹی کے سپرد کر دیئے گئے۔ اسلام آباد رئیل اسٹیٹ انضباط و ترقی بل 2018ء پر غور آئندہ اجلاس کیلئے موخر کر دیا گیا۔ قائد ایوان سینیٹر شبلی فراز نیتحریک پیش کی کہ الیکٹرک پاور (ترمیمی) بل 2019ء قائمہ کمیٹی کی رپورٹ کردہ صورت میں زیر غور لایا جائے، ایوان نے تحریک کی منظوری دے دی جس کے بعد چیئرمین نے بل شق وار منظوری کے لئے ایوان میں پیش کیا جسے اتفاق رائے سے منظور کرلیا گیا۔اجلاس کے دوران موٹر وے پر ٹول ٹیکس میں 10 فیصد حالیہ اضافے کو واپس لینے سے متعلق قرارداد مسترد کر دی گئی۔اجلاس کے دور ان سینیٹ نے ایچ ای سی کی جانب سے بلوچستان اور فاٹا کے طلباء کیلئے اعلیٰ تعلیم کے مواقع کی فراہمی کی سکیم کے تحت بلوچستان اور فاٹا کے طلباء کو میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں داخلے کے لئے وظائف کو برقرار رکھنے اور 2022ء تک ان میں توسیع کرنے کی قرارداد کی منظوری دے دی۔اجلاس کے دور ان خاندانی منصوبہ بندی کی خدمات میں اضافے اور تشہیری مہم کے ذریعے آبادی میں اضافے کی شرح کو پائیدار سطح پر کم کرنے کیلئے صوبائی حکومتوں کے تعاون سے ضروری اقدامات کرنے سے متعلق قرارداد کی منظوری دے دی گئی۔اجلاس کے دور ان پی آئی اے کے ملازمین کو دوبارہ کنٹریکٹ کی بنیاد پر ملازمت دینے کی روایت ختم کرنے سے متعلق قرارداد متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا۔اجلاس میں وفاقی محکموں میں بھرتی کیلئے عمر کی بالائی حد میں مزید دو سال تک رعایت کی قرارداد متعلقہ کمیٹی کو بھجوا دی گئی۔اجلاس کے دور ان کاروباری برادری کے لئے سہولت پیدا کرنے کیلئے ضروری اقدامات کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی۔اجلاس میں سرکاری و نیم سرکاری محکموں میں کام کرنے والے تمام ملازمین کو سرکاری رہائش گاہیں فراہم کرنے کیلئے فوری اقدامات کرنے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی۔اجلاس میں اب تک نشان حیدر پانے والے تمام شہداء کے حالات زندگی کو ملک کے تعلیمی اداروں کے نصاب میں شامل کرنے کی قرارداد موخر کر دی گئی۔

سینیٹ

مزید : صفحہ اول