امریکہ کو پاکستان کی ضرورت، ہمارے بغیر افغانستان میں امن ممکن نہیں: شاہ محمود قریشی

    امریکہ کو پاکستان کی ضرورت، ہمارے بغیر افغانستان میں امن ممکن نہیں: شاہ ...

  



اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ایشیاء کا خطہ عالمی سیاست میں اہمیت اختیار کرتا جا رہا ہے، نئے علاقائی اور عالمی حالات ہماری خارجہ پالیسی کیلئے نئے چیلنجز لارہے ہیں، اس تناظر میں پاکستانی سفارتکاروں پر پاکستان کے مفادات کے تحفظ کی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے پیر کو وزارتِ خارجہ میں 39 ویں اسپیشلائزڈ ڈپلومیٹک کورس کی گریجویشن تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں سیکرٹری خارجہ، سابقہ سیکرٹریز خارجہ، 39 ویں اسپیشلائزڈ ڈپلومیٹک پروگرام کے شرکاء اور دیگر نے شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ مجھے اس گریجویشن تقریب میں شرکت کر کے انتہائی مسرت ہورہی ہے۔انہوں نے کہا کہ مجھے بتایا گیا کہ کورس کے شرکاء کو نصابی تعلیم کیساتھ ساتھ لاہور، سیالکوٹ، کراچی کوئٹہ اور گوادر لے جایا گیا اور پاکستان کے اہم سیاحتی اور ثقافتی مقامات سے متعارف کروایا گیا۔ انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ بزنس کمیونٹی اور مختلف اہم اداروں کے ساتھ ملاقات سے آپ کو پاکستان کے معاشی اور تجارتی مفادات کو بہتر انداز میں آگے لے جانے میں معاونت ملے گی۔انہوں نے کہا کہ روایتی سفارت کاری کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاری اور تجارت کو بڑھانے کیلئے متحرک ہونا ہو گا۔انہوں نے کہا کہ سفارت کاری اور بین الاقوامی امور لازم و ملزوم ہیں۔ آج کے سفارت کار کو سفارتی کاری کے علم کے ساتھ ساتھ،علم سیاست، بین الاقوامی قوانین اور معاشی سفارت کاری کو بھی سیکھنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ کو روایتی سفارت کاری کے ساتھ ساتھ، مناظرے اور سوشل میڈیا پر دسترس حاصل کرنا ہوگی تاکہ آپ ہر وقت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا دفاع کرنے کیلئے پوری طرح تیار ہوں۔ آپ کا تجزیہ استدلالی اور آپ کی تجاویز عملی نوعیت کی ہونی چاہیں۔ مجھے اطمینان ہے کہ فارن سروس اکیڈمی بہترین تربیت فراہم کر رہی ہے۔ اسے مزید بہتر بنانے کیلئے اصلاحات کا عمل جاری ہے۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ چین نے خیر سگالی کے تحت اپنی پرانی ایمبسی کو فارن سروس اکیڈمی کیلئے وقف کیا ہے جس کی تزئین و آرائش کا کام جاری ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ فارن سروس اکیڈمی اسی طرح نئے سفارتکاروں کو بہترین تربیت فراہم کرنے کے لیے کوشاں رہے گی۔ آپ سب پاکستان کا مستقبل ہیں ہمیں ذہن نشین رکھنا چاہیے کہ ہم سب جمہوریہ پاکستان کے نمائندے ہیں اور ہم پاکستانی عوام کو جوابدہ ہیں۔ آپ کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ آپ سب سے پہلے پبلک سرونٹ ہیں۔ آپ کو پاکستان اور عالمی دنیا کے درمیان پل کا کردار ادا کرنا ہے آپ کو اس قوم کی خدمت بہتر انداز میں کرنے کا عزم کرنا ہے۔ مجھے توقع ہے کہ آپ ایمانداری،جانفشانی اور لگن کے ساتھ اپنے فرائض منصبی انجام دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آپ کو بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کا خصوصی خیال رکھنا ہے۔ میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ آپ کا عملی سفر دلچسپ اور چیلنجز سے بھرپور ہو گا۔ میں آپ کے اس عملی سفر پر آپ کیلئے دعا گو ہوں۔

شاہ محمود

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہاہے کہ صدر ٹرمپ اس بات پر متفق تھے کہ پاکستان کو گرے لسٹ سے ہٹنا چاہیے اور پاکستان اور امریکہ کے درمیان تجارت بڑھے،لیکن بتا یا جائے کہ تجارت بڑھنے کیلئے عملی اقدامات کیااٹھائے گئے، ہم فوری عملی ریلیف چاہتے ہیں، ہمیں تاریخی تجارتی خسارہ ورثے میں ملا ہے، وزیر اعظم عمران خان کا دورہ ڈیوس میں میں ان کے ہمراہ ہونگا، صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی ملاقات متوقع ہے اس سے ہمیں ایک اور موقع ملے گا، امریکہ کو پاکستان کی ضرورت ہے پاکستان کے بغیر افغانستان میں امن ممکن نہیں۔وہ پیر کو نجی ٹی وی سے گفتگو کررہے تھے، انہوں نے کہا کہ افغان امن عمل میں پیش رفت ہوئی ہے، طالبان تشدد میں کمی کرنے کیلئے تیار ہیں، لیکن خطے میں کچھ ایسے لوگ موجود ہیں جو نہیں چاہتے کہ خطے میں امن ہو اور افغانستان کا مسئلہ حل ہو۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کو پاکستان کی ضرورت ہے پاکستان کے بغیر افغانستان میں امن ممکن نہیں۔ امریکہ سے بہتر تعلقات پاکستان کو بھی درکار ہیں۔

وزیرخارجہ

مزید : صفحہ اول