لاہور ہائیکورٹ کی وفاق کو نواز شریف کی طبی رپورٹس کا جائزہ لیکر جواب داخل کرنے کی ہدایت

لاہور ہائیکورٹ کی وفاق کو نواز شریف کی طبی رپورٹس کا جائزہ لیکر جواب داخل ...

  



لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہورہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس محمد طارق عباسی اور مسٹر جسٹس چودھری مشتاق احمد پرمشتمل ڈویژن بنچ نے وفاقی حکومت کو سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی میڈیکل رپورٹس کاجائزہ لے کر جواب داخل کرنے کی ہدایت کردی،فاضل بنچ نے یہ حکم ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نام نکلوانے کے لئے دائر میاں نواز شریف کی بنیادی رٹ درخواست کی سماعت کرتے ہوئے جاری کیا۔عدالت نے 16نومبر کو اپنے عبوری حکم کے ذریعے میاں نواز شریف کو 4ہفتے کے لئے بیرون ملک جانے کی اجازت دی تھی جبکہ بنیادی رٹ درخواست کو زیرسماعت رکھا گیا تھا۔گزشتہ روز اس بنیادی رٹ درخواست کی سماعت کے دوران سرکاری وکیل اور میاں نواز شریف کے وکلاء کے درمیان دلچسپ مکالمہ بھی ہوا،سرکاری وکیل نے کہا کہ میاں نواز شریف وہاں ہوٹلوں میں برگرکھارہے ہیں،جس پر میاں نواز شریف کے وکلاء نے کہا کہ کیا آپ نے ان سے روزے رکھوانے ہیں،کیس کی سماعت کے آغاز پرمسٹر جسٹس محمد طارق عباسی نے میاں نواز شریف کے وکلاء اعظم نذیر تارڑ اور امجد پرویز ملک سے استفسار کیا کہ عدالت نے میاں نواز شریف کو چار ہفتوں کے لئے ملک سے باہر جانے کی اجازت دی تھی، آپ کو نواز شریف کی وطن واپسی کی مدت میں توسیع کے لئے الگ متفرق درخواست نہیں دینی چاہیے،میاں نواز شریف کے وکلاء نے کہا کہ بنیادی رٹ درخواست میں ہم نے میاں نواز شریف کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کے آئینی اور قانونی جواز کو چیلنج کررکھا ہے،16نومبر کے بعد یہ بنیادی درخواست آج سماعت کے لئے مقررہوئی ہے،عدالتی حکم کے مطابق میاں نواز شریف کی میڈیکل رپورٹس عدالت میں جمع کرواتے رہے ہیں، دو رپورٹس جمع کرواچکے ہیں،نواز شریف کی میڈیکل رپورٹس پاکستانی ایمبیسی سے مصدقہ ہیں، معالجین نے انہیں سفر کرنے سے منع کیا ہے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل اشتیاق اے خان نے کہا کہ نواز شریف کو بیرون ملک جانے کی اجازت دینے والا عبوری حکم اپنی مدت پوری کرچکا ہے،جس پر فاضل بنچ نے کہا کہ میاں نواز شریف کی درخواست دائر نہ کرنے پرچار ہفتوں کے بعد حکومت خودعدالت سے رجوع کر لیتی،جسٹس چودھری مشتاق احمد نے استفسار کیا کہ نواز شریف کب واپس آ رہے ہیں؟واپس آنا بھی ہے یا ادھر ہی رہنا ہے اور وہاں سے ہی معاملہ چلانا ہے،میاں نواز شریف کے وکیل نے کہا کہ ان کے موکل کا نام غیر آئینی طور پر ای سی ایل میں شامل کیا گیا جس پر جسٹس محمد طارق عباسی نے کہا کہ جج صاحب پوچھ رہے ہیں کہ واپس کب آنا ہے؟ ویسے ابھی تو کچھ اورلوگ بھی جانے کی تیاری کررہے ہیں، ان ریمارکس پر عدالت میں قہقہہ بلند ہوا،نواز شریف کے وکیل نے کہا کہ صحت یاب ہونے اورڈکٹروں سے سرٹیفکیٹ ملتے ہی نوازشریف واپس آجائیں گے،سرکاری وکیل نے کہا کہ میاں نواز شریف ہوٹلوں میں برگر کھا رہے ہیں جس کا مطلب ہے کہ وہ صحت مند ہیں،میاں نواز شریف کے وکیل نے ترکی بہ ترکی جواب دیا کہ کیا آپ نے نواز شریف سے روزے رکھوانے ہیں، فاضل بنچ نے کہاکہ عدالت میں سیاسی بیان بازی سے پرہیز کیا جائے، یہاں قانون کی بات کریں،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ نواز شریف کا فرض تھا کہ وہ اپنے چار ہفتے کے بعد وطن واپس آتے اور مزید توسیع مانگتے، جس پرجسٹس چودھری مشتاق احمدنے کہاآپ نواز شریف کی میڈیکل رپورٹس سے متعلق جواب تو جمع کروائیں، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ اگر مجھے نواز شریف کی میڈیکل رپورٹس دی جاتیں تو ہم جواب جمع کروادیتے، جس پر فاضل بنچ نے سرکاری وکیل سے کہا کہ آپ میڈیکل رپورٹس لے لیجئے اوران کاجائزہ لے کر جواب داخل کروائیں۔فاضل بنچ نے مذکورہ ہدایت کے ساتھ کیس کی مزید سماعت غیرمعینہ مدت تک ملتوی کردی۔

نوازشریف

مزید : صفحہ اول