شاہی خاندان سے دستبرداری کی وجہ اہلیہ میگھن کا تحفظ: شہزادہ ہیری

شاہی خاندان سے دستبرداری کی وجہ اہلیہ میگھن کا تحفظ: شہزادہ ہیری

  



لندن(آئی این پی)شہزادہ ہیری کا کہنا ہے میری والدہ لیڈی ڈیانا کی جان لینے والی طاقتور قوتیں میری بیوی کو بھی نشانہ بناسکتی ہیں،میں ہمیشہ اپنی دادی، اپنی کمانڈر ان چیف کا بے حد احترام کرتا رہوں گا،شاہی خاندان سے دستبرداری کا فیصلہ انتہائی سوچ سمجھ کر کیا ہے۔ برطا نو ی میڈیا کے مطابق شاہی خاندان سے علیحدگی اور تمام تر شاہی خطابات و مراعات سے دستبرداری کا اعلان کرنیوالے شہزادہ ہیری نے گز شتہ روز پہلی بار عوامی بیان دیتے ہوئے کہا یہ غیر معمولی قدم وہ اپنے یقین کی بنیاد پر اٹھا رہے ہیں۔وہ سینٹرل لندن میں سینٹی بیل نامی فلاحی تنظیم کیلئے چندہ جمع کرنے کی غرض سے منعقدہ عوامی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ یہ تنظیم انہوں نے 2006 میں اپنی والدہ، آنجہانی لیڈی ڈیانا کی یاد میں جنوبی افریقی ممالک میں ایڈز کے شکار بچوں کی مدد کیلئے قائم کی تھی۔واضح رہے شہزادہ ہیری اور ان کی بیوی میگھن ما ر کل نے اس ماہ کی ابتدا میں ایک بیان جاری کیا تھا کہ جلد ہی وہ برطانوی شاہی خاندان کا حصہ نہیں رہیں گے۔ تب سے اب تک اس غیر معمولی فیصلے کے بارے میں چہ مگوئیاں جاری تھیں اور کئی افواہیں بھی جنم لے رہی تھیں۔ تاہم گزشتہ روز شہزادہ ہیری کے بیان سے ایسی کئی افواہیں دم توڑ گئی ہیں۔اپنی تقریر میں شہزادہ ہیری نے جہاں اپنے مستقبل کے بارے میں ذاتی خیالات کا اظہار کیا وہیں انہوں نے دبے لفظوں میں شاہی خاندان سے وابستہ مسائل کا تذکرہ بھی کیا، انکامزید کہناتھا ہمیں امید تھی عوامی فنڈنگ کے بغیر ملکہ برطانیہ دولتِ مشترکہ اور اپنی تنظیموں کی خدمت جاری رکھی جائے گی لیکن بدقسمتی سے ایسا ممکن نہیں تھا۔میں نے یہ جانتے ہوئے اسے قبول کیا کہ میں کون ہوں یا کتنا مخلص ہوں ان پر اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔۔واضح رہے 31 اگست 1997 کے روز ایک کار ایکسیڈنٹ میں لیڈی ڈیانا کی موت واقع ہوگئی تھی۔ مبینہ طور پر کچھ پاپارازی فوٹوگرافرز ان کا پیچھا کررہے تھے جبکہ لیڈی ڈیاناشہزادہ چارلس سے طلاق لینے کے بعداپنے مصری نژاد دوست اور پروڈیوسر دودی الفاید کی کار میں ان کیساتھ پیرس میں تھیں۔اگرچہ برطانوی حکومت نے سرکاری طور پر لیڈی ڈیانا کی موت کو ایک حادثہ قرار دیا تھا جبکہ دودی الفائد کے والد کا کہنا تھا یہ سوچی سمجھی قتل کی منصوبہ بندی تھی۔

شہزادہ ہیری

مزید : صفحہ اول