حکومت زینب الرٹ کی خامیاں دور،مزید ترامیم پر رضا مند، سینیٹ کمیٹی کا پورے ملک پر اطلاق کا مطالبہ

حکومت زینب الرٹ کی خامیاں دور،مزید ترامیم پر رضا مند، سینیٹ کمیٹی کا پورے ...

  



اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق نے زینب الرٹ بل میں خامیوں کی نشاندہی کردی جبکہ حکومت نے بل میں موجو د خامیوں کا دور کرنے کے لئے مزید ترامیم پر رضامندی ظاہر کر دی، کمیٹی ارکان کی اکثریت نے صرف اسلام آباد کے بجائے پورے ملک پربل کا اطلاق کرنے کا مطالبہ کر دیا جبکہ کمیٹی نے اپنی تجاویز پر حکومت سے آئندہ اجلاس میں دوبارہ جواب طلب کر لیا۔پیر کو سینیٹ کی فنکشنل برائے انسانی حقوق کا اجلاس چیئرمین سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر کی صدارت میں ہوا، اجلاس میں زینب الرٹ، رسپانس اینڈ ریکوری بل2020 کا جائزہ لیا گیا، چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ بل کو زیادہ سے زیادہ موثر بنانے کے حوالے سے جو نکات گزشتہ اجلاس میں اٹھائے تھے حکومت اور وزارت قانون نے ان سے اتفاق کیا ہے، چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ کیا یہ ضروری نہیں کہ پورے ملک پر اس بل کا نفاذ ہونا چاہیئے؟،رکن کمیٹی بیرسٹر محمد علی خان سیف نے کہا کہ صرف اسلام آباد کی بجائے اس بل کا پورے ملک پراطلاق ہونا چاہیئے، سینیٹر فیصل جاوید خان نے کہا کہ یہ بل بہت پرانا بل ہے، قومی اسمبلی کی کمیٹی میں اس بل پرتفصیلی گفتگو ہوئی ہے، بل قومی اسمبلی سے پاس پڑا ہوا ہے، اب کوئی تبدیلی کریں گے تو یہ واپس اسمبلی جائے گا، کیا یہ نہیں ہوسکتا کہ یہ بل ابھی پاس کر دیں اور بعد میں اس میں ترامیم لائی جائیں؟چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ا س بل پر ذیلی کمیٹی بنائی گئی تھی، اب حکومت نے رضامندی ظاہر کی ہے کہ اس میں ترامیم ہونی چاہئے،سینیٹر فیصل جاوید خان نے کہا کہ وزارت قانون والے ایک سال کیا کرتے رہے ہیں؟ اتنے اہم بل پر وزیر انسانی حقوق کمیٹی میں موجود نہیں ہیں، سینیٹر فیصل جاوید خان نے کہا کہ بل میں موجود خامیاں وقت کے ساتھ ساتھ ٹھیک ہوتی رہیں گی،اس بل کو پاس ہونا چاہیے، اس بل کو پورے ملک کے لئے ہونا چاہیئے ،چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ممبران اگر کہتے ہیں بل پاس کر دیں تو ہم کردیں گے،رکن کمیٹی کامران مائیکل نے کہا کہ اس بل پر گفتگو کرنی چاہئے، رکن کمیٹی سینیٹرکرشنا کماری نے کہا کہ اس پر لکھا ہے یہ کریمنل نہیں لیکن واقعات کریمنل ہورہے ہیں، رکن کمیٹی سینیٹر جہانزیب جمالدینی نے کہا کہ اس بل پر غور ہونا چاہئے، رکن کمیٹی سینیٹر مہر تاج روغانی نے کہا کہ ایک سال سے یہ بل پڑا ہے، اس کو پورے ملک میں نافذ ہونا چاہیئے،کمیٹی نے بل پر مزید غور کرنے کے حق میں فیصلہ کرلیا،کمیٹی ارکان کی اکثریت نے بل کو پورے ملک کے لیئے بنانے کی حمایت کر دی، اجلاس میں آئی سی ٹی میں معذور افراد کے حقوق کا بل 2020 کا بھی جائزہ لیا گیا، کمیٹی اراکین نے بل کے حوالے سے کچھ تجاویز پیش کیں، کمیٹی نے آئندہ اجلاس بل اور تجاویز کا تفصیلی جائزہ لینے کا فیصلہ کر لیا۔

سینیٹ، زینب الرٹ بل

مزید : صفحہ اول