ٹرمپ کا مواخذہ الزامات کی فہرست امریکی سینیٹ میں پیش، کارروائی آ ج سے شروع

ٹرمپ کا مواخذہ الزامات کی فہرست امریکی سینیٹ میں پیش، کارروائی آ ج سے شروع

  



واشنگٹن(اظہر زمان، خصوصی رپورٹ) آج سے امریکی سینیٹ میں صدر ٹرمپ کے مواخذے کامقدمہ شروع ہو رہا ہے جس کے پریذائیڈنگ آفیسر امریکی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جان رابرٹس ہیں۔ انہوں نے اپنی مخصوص اتھارٹی کے اظہار کیلئے سمبل کے طور پر سپریم کورٹ سے کیپٹل ہل تک پیدل مارچ کی اور وہاں پہنچ کر مقدمے کے ایمپائر کے طور پر انصاف کرنے کا نیا حلف اٹھایا۔ سینیٹ کے چیئرمین اور ارکان اس کارروائی میں جیوری کا کردار نبھائیں گے۔ چیف جسٹس نے ان سے بھی غیرجانبداری کے ساتھ پورے انصاف کے ساتھ اپنی رائے کے اظہار کا حلف لیا۔ اس وقت سینیٹ کی کل 100 سیٹوں میں سے حکمران ری پبلکن پارٹی کو 53 سیٹوں کیساتھ معمولی برتری حاصل ہے جبکہ مخالف سیٹوں کی تعداد 47 ہے۔ ڈیموکریٹک پارٹی کی نشستیں 45 ہیں جبکہ دو آزاد ارکان کاکس میں اس کا ساتھ دیتے ہیں۔ صدر ٹرمپ کو مواخذے کے مقدمے میں مجرم ٹھہرانے اور انہیں وائٹ ہاؤس سے نکالنے کیلئے 67 ارکان (دوتہائی اکثریت) درکار ہے۔ تمام تر حلف کے باوجود اس بات کا کوئی امکان نہیں ہے کہ پارٹی لائن سے ہٹ کر ری پبلکن ارکان صدر ٹرمپ کے خلاف اتنے ووٹ دیدیں کہ مخالف ووٹ 67 یا اس سے بڑھ جائیں۔ اس لئے مواخذے کا مقدمہ خارج ہو جائے گا۔ کچھ گواہوں کو طلب کرنے کیلئے سادہ اکثریت یا 51 ووٹوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ ڈیموکریٹک پارٹی کو یقین ہے کہ اگر انہوں نے چند اہم گواہوں کو طلب کرنے کی تحریک پیش کی تو چند ری پبلکن ارکان کی حمایت حاصل ہونے کی وجہ سے وہ اس میں کامیاب ہو سکتی ہے۔ چیف جسٹس اپنے طور پر کوئی فیصلہ صادر نہیں کر سکتے۔ ان کا کردار محض ایمپائر کا ہے جو اس امر کو یقینی بنائیں گے کہ سینیٹ کے ارکان جیوری کی حیثیت سے پوری آزادی کے ساتھ اپنی رائے کا اظہار کریں تاہم چیف جسٹس کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ جس کو چاہے مقدمے میں گواہی کیلئے طلب کر سکتا ہے اور اس کی منظوری کیلئے انہیں سینیٹ کے ووٹوں کی ضرورت نہیں ہے۔ وائٹ ہاؤس نے صدر ٹرمپ کے مواخذے کے مقدمے میں صدر کا دفاع کرنے کیلئے جس قانونی ٹیم کا اعلان کیا ہے ان میں وائٹ ہاؤس کے مشیر پیٹ کیپولون، اٹارنی جے سیکولو، ہاورڈ یونیورسٹی کے لاء پروفیسر ایلن ڈرشووز اور انڈیپنڈنٹ مشیر کین سٹار شامل ہیں۔ ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والی ایوان نمائندگان کی سپیکر نینسی پلوسی نے بدھ کے روز مواخذے کے مقدمے میں پارٹی کی نمائندگی کرنے کیلئے سات منیجروں کے پینل کا اعلان کیا تھا۔ ایوان نمائندگان کی انٹیلی جنس کمیٹی کے چیئرمین ایڈم شیف عملاً اس پینل کے سربراہ ہوں گے جو پہلے ہی یہ الزام لگا چکے ہیں کہ انٹیلی جنس ادارے ٹرمپ انتظامیہ کے دباؤ پر یوکرائن کی دستاویز پیش کرنے سے انکاری ہیں۔ دیگر چھ ارکان میں ایوان نمائندگان کی جوڈیشری کمیٹی کے چیئرمین جیری نیڈلر، کانگریس ویمن زولوفگرن، کانگریس مین حکیم جیفریز، کانگریس ویمن وال ڈیمنگز، کانگریس مین جیسن کرو اور کانگریس ویمن سلویا گارشیا شامل ہیں۔ امریکی تاریخ میں کسی صور کے مواخذے کا یہ تیسرا مقدمہ ہے جس کے کامیاب ہونے کا بظاہر کوئی امکان نہیں ہے لیکن اس کا رائے عامہ اور نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخابات پر گہرا اثر پڑے گا۔ ڈیموکریٹک پارٹی کی حکمت عملی یہ ہے کہ مقدمے کے دوران مزید ایسے اہم گواہوں کو طلب کیا جائے جن سے صدر ٹرمپ کا کردار داغدار ہو اور مقدمہ زیادہ طوالت اختیار کرے۔ سینیٹ میں اکثریتی ری پبلکن پارٹی کے لیڈر اپنے ساتھیوں کے مشورے سے ایک ایسا بل منظور کرانے کا سوچ رہے ہیں جس کے ذریعے کارروائی کو محدود کر دیا جائے اور جلد از جلد ووٹنگ کر کے مقدمے کو خارج کروا دیا جائے۔ اس مقدمے کی بنیاد یہ بنائی گئی ہے کہ صدر ٹرمپ نے اپنے صدارتی مخالف امیدوار جوبائیڈن کے خلاف تفتیش کرنے کیلئے یوکرائن پر زور دے کر اپنے عہدے کا ناجائز استعمال کیا اور بعد میں کانگریس کی تفتیش کے عمل میں بھی رکاوٹیں ڈالیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کے عمل میں پیش پیش ڈیموکریٹک رہنماؤں نے کہاہے کہ قومی سلامتی اور ملک میں حکومتی نظام کو بچانے کیلئے صدر کو ہر صورت ان کے عہدے سے ہٹا دیا جانا چاہیے۔میڈیارپورٹس کے مطابق ٹرمپ کے سینیٹ میں ٹرائل کے لیے ایک سو گیارہ صفحات پر مشتمل جو دستاویز پیش کی گئی ہے، اس میں اراکین کانگریس نے اپنے موقف کے حق میں دلیلیں دی ہیں اور ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ صدر اپنے اختیارات کے غلط استعمال اور صدر کے خلاف گانگریس کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے کے مرتکب ہوئے ہیں۔ صدر ٹرمپ کی قانونی ماہرین کی ٹیم نے مواخذے کے لیے عائد الزامات کی سخت تردید جاری کی ہے۔ اس تریدی بیان کو سینیٹ میں اس وقت پڑھا گیا جب گزشہ ہفتے کے اوائل میں ٹرائل کے لیے ضابطے طے کیے جا رہے تھے۔

ٹرمپ کامواخذ

مزید : صفحہ اول