حکومت سانحہ ماڈل ٹاؤن کے متاثرین سے کھلواڑ کررہی ہے: لاہور ہائی کورٹ

حکومت سانحہ ماڈل ٹاؤن کے متاثرین سے کھلواڑ کررہی ہے: لاہور ہائی کورٹ

  



لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہورہائیکورٹ نے قراردیاہے کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے مقتولین کے ورثاء سے حکومت کھلواڑکررہی ہے،لگتا ہے حکومت اس کیس کی کاروائی میں سنجیدہ ہی نہیں،یہ اپنی نوعیت کا پہلا کیس ہے جس میں ملزم فیصلہ چاہتے ہیں مگر حکومت دلچسپی نہیں لے رہی،محسوس ہوتا ہے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے متاثرین کو انصاف ملنا مشکل ہے اور اس کام میں حکومت بھی شامل ہے، 3رکنی فل بنچ کے سربراہ مسٹر جسٹس محمد قاسم خان نے یہ ریمارکس سانحہ ماڈل ٹاؤ ن کی ازسرنو انکوائری کیلئے نئی جے آئی ٹی کی تشکیل کیخلاف دائر درخواست پرچیف سیکرٹری پنجاب کو متعلقہ ریکارڈ سمیت طلب کرتے ہوئے دیئے۔ فاضل بنچ نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی نئی جے آئی ٹی کو کام سے روکنے کے حکم امتناعی میں بھی توسیع کردی۔عدالت نے حکومت پنجاب کی جانب سے جواب اورمتعلقہ دستا ویزات داخل نہ کرنے کا نوٹس لیتے ہوئے آئندہ تاریخ سماعت پرچیف سیکرٹری کوپیش ہونے کی ہدایت کی،سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ملزموں نے نئی جے آئی ٹی کی تشکیل کوچیلنج کررکھا ہے۔گزشتہ روزکیس کی سماعت شروع ہوئی تو مسٹر جسٹس محمد قاسم خان کے استفسار پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کوبتایا سا نحہ ماڈل ٹاؤن کی پہلی جے آئی ٹی رپورٹ عدالت میں پیش کر دی ہے،دوسری جے آئی ٹی رپورٹ اصل حالت میں نہیں ملی، جسٹس محمدقاسم خان نے کہا آپ کی پیش کی گئی رپورٹ مصدقہ نہیں، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا متعلقہ محکمہ نے اسی طرح بھجوائی ہے،جسٹس محمد قاسم خان نے کہا ایڈووکیٹ جنر ل پنجاب کیااتنا بے بس ہو گیا ہے،اللہ ہی مہربانی کرے، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا جے آئی ٹی رپورٹ کی مصدقہ کاپی پیش کر دیتے ہیں، فا ضل بنچ نے کہا ہم نے یہ کیس آج کی تاریخ کیلئے برائے سماعت مقرر کیا تھا اور چیف جسٹس صاحب کو درخواست کر کے ایک جج صاحب کا روسٹر تبدیل کروایا اورانہیں بنچ میں شامل کروایاتا کہ یہ کام چل پڑے، آپ یہ کہنا چاہتے ہیں حکومت ایڈووکیٹ جنرل پنجاب آفس سے کوئی تعاون نہیں کر رہا؟ایڈیشنل ایڈو و کیٹ جنرل پنجاب نے کہا سر میں دوسری جے آئی ٹی رپورٹ بھی کل پیش کر دیتا ہوں، جس انداز میں آج بنچ اکٹھا ہوا،اس پرجسٹس عالیہ نیلم نے کہا اپنے ا لفا ظ کے چناؤ میں محتاط رہیں، آپ کے ایسے الفاظ سے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب آفس کی سنجیدگی کا اندازہ ہو رہا ہے، ایسے الفاظ کا استعمال توہین عدالت نہیں ہے؟ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا یہ الفاظ میں نے اپنے لئے بولے ہیں،بنچ کیلئے نہیں بولے، جسٹس محمد قاسم خان نے کہا دوسری جے آئی ٹی کی تشکیل کیلئے کابینہ کی منظوری کی دستاویزات مانگی تھیں وہ کہاں ہیں؟مجھے لگتا ہے حکومت ماڈل ٹاؤن کے متاثرین سے کھیل رہی ہے، مجرم کون ہے اس کا فیصلہ تو عدالتوں نے کرنا ہے، سانحہ ماڈل ٹاؤن کے مجرموں کا فیصلہ تو بعد میں ہو گا، یہ کیس اب اتنا پرانا ہو گیا ہے اسکو روزانہ کی بنیاد چلانا چاہتے ہیں، فاضل بنچ نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سے استفسار کیا بتائیں کتنی دیر میں دستاویزات پیش کر دیں گے، ویسے تو ایڈووکیٹ جنرل پنجاب آفس چاہے تو تمام مصدقہ دستاویزات اور بیان حلفی آدھے گھنٹے میں تیار ہو جائیں، اس بات سے نظر آتا ہے حکومت کتنی سنجیدہ ہے،آئندہ سماعت پر تمام دستاویزات آنے پر 4سے 5 دنوں میں اس کیس کا فیصلہ کر دیں گے، اگر دستاویزات نہ آئیں تو درخواست گزاروں کے وکیل دوسری جے آئی ٹی بنانے کیخلاف کارروائی کرنے کیلئے بنچ کی معاونت کریں گے،فاضل بنچ نے کیس کی مزید سماعت 10فروری پر ملتوی کرتے ہوئے نئی جے آئی ٹی بنانے سے متعلق کابینہ کی منظوری اورجے آئی ٹی کی تشکیل کیلئے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کی بھجوائی گئی سفارشات کا ریکارڈ بھی آئندہ سماعت پرپیش کرنے کی ہدایت کردی۔

لاہور ہائیکورٹ

مزید : صفحہ آخر