2153شخصیات دنیا کی 60فیصد آبادی کی مجموعی دولت سے زیادہ امیر ترین

  2153شخصیات دنیا کی 60فیصد آبادی کی مجموعی دولت سے زیادہ امیر ترین

  



ڈیوس (این این آئی)غربت میں کمی کیلئے کام کرنیوالی ایک عالمی تنظیم آکسفیم نے کہا ہے کہ دنیا کے 2153 ارب پتی افراد کے پاس موجود دولت دنیا کی 60 فیصد آبادی کی مجموعی دولت سے زیادہ ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق آکسفیم کی عالمی عدم مساوات سے متعلق سالانہ ر پو ر ٹ اکنامک فورم کے افتتاح کے موقع پر جاری کی گئی۔برطانوی تنظیم آکسفیم نے ایک رپورٹ میں کہادنیا کے ارب پتی افراد میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران دگنا اضافہ ہوگیا ہے،آکسفیم کے مطابق لڑکیوں اور خواتین کو سب سے زیادہ غربت کا سامنا ہے۔ دنیا بھر کی خواتین کو مجموعی طور پر 12 ارب 50 کروڑ گھنٹے یومیہ بغیر معاوضے کے کام کرنا پڑتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ان گھنٹوں کا معاوضہ 10 ہزار 800 ارب ڈالر سالانہ بنتا ہے۔آکسفیم کے اعداد و شمار کے مطابق پوری دنیا میں 42 فیصد خواتین بیروزگار ہیں۔ ان میں سے اکثر کے پاس تعلیم حاصل کرنے کیلئے وقت میسر نہیں اور ان کی مالی حیثیت بھی اچھی نہیں۔پورٹ میں بتایا گیا ہے اگر دنیا کے صرف ایک فیصد امیر ترین افراد اپنی دولت پر 10 سال تک صرف اعشاریہ پانچ فیصد اضافی ٹیکس ادا کریں تو اس سے بزرگوں اور بچوں کی دیکھ بھال، ان کی تعلیم اور صحت کے شعبے میں 11 کروڑ 70 لاکھ نئی ملازمتیں پیدا کرنے کیلئے درکار سرمایہ کاری کی کمی دور ہو سکتی ہے۔آکسفیم کے بھارتی سربراہ امیتا بھ بہار کا کہنا تھا ہماری کمزور معیشتیں عام آدمی اور خواتین کے خرچوں پر ارب پتی افراد اور بڑے تاجروں کی جیبیں بھر رہی ہیں۔ اس میں حیرت کی بات کوئی نہیں کہ لوگ ارب پتیوں کی موجودگی کے جواز سے متعلق سوالات کر رہے ہیں۔سوئٹزر لینڈ کے شہر ڈیوس میں آکسفیم کے تحت جاری سالانہ اکنامک فورم میں موجود امتیابھ بہار نے مزید کہا عدم مساوات کے خاتمے کے بغیر امارت اور غربت کی درمیانی خلیج کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔امیتابھ کا کہنا تھا دنیا کے 22 امیر ترین مردوں کے پاس افریقہ کی تمام خواتین سے زیادہ دولت ہے۔غربت کا سب سے زیادہ بوجھ لڑکیوں اور عورتوں پر پڑتا ہے۔

امیر شخصیات

مزید : صفحہ آخر