ٓٓآٹے کے بعد چینی مہنگی کرنیکا منصوبہ، مافیا متحرک اربوں کی سرمایہ کاری کا انکشاف

  ٓٓآٹے کے بعد چینی مہنگی کرنیکا منصوبہ، مافیا متحرک اربوں کی سرمایہ کاری کا ...

  



رحیم یارخان(بیورو رپورٹ)ملک میں آٹے بحران کی آڑ میں ہفتے اور اتوار کی درمیانی رات 100کلو چینی کی بوری پاکستان کی تاریخ میں پہلی باررواں کرشنگ سیزن کے دوران 500روپے آضافے کے ساتھ6 ہزار8سو60سے 7ہزار3سو(بقیہ نمبر39صفحہ7پر)

40روپے کی ہو گئی، فی کلو چینی کی قیمت ہول سیل میں 75روپے جبکہ پرچون میں 80روپے کلو ہو گئی،اتوار چھٹی کے باعث انتظامیہ خاموش ہے،سٹاک متحرک ہے،چینی کو سٹاک کرنے کے لیے اربوں روپے لگا دیئے،مصنو تفصیل کے مطابق ملک میں ابھی آٹے اور گندم کے جاری بحران پر ابھی قابونہیں پایا جا سکا تھا کہ شوگر مافیا اس صورتحال اور تمام طر حکومتی اقدامات کو مسترد کرتے ہوئے متحرک ہو گیا ہے،شوگر ڈیلرز نے راتوں رات ملکی معاشی تاریخ میں پہلی بار فی کلو چینی کا ایکس شوگر مل ریٹ 68روپے 60پیسے سے 73روپے 40پیسے کر دیا ہے،100کلو چینی کی بوری 500روپے مہنگی ہونے سے 5روپے فی کلو آضافہ ہو گیا ہے، آضافے نے چینی کاسٹاک کرنے والے ذخیرہ اندوزوں کو متوجہ کیا ہے،اس آضافے کو دیکھتے ہوئے بڑے کارباری عناصر بھاری انویسمنٹ کرکے کثیر مقدار میں چینی سٹاک کرنے لگے ہیں، آنے والے دنوں میں اس مصنوعی بحران کا اثر مارکیٹ میں عام دوکاندار اور شہریوں کی جیب پر آئے گا،چینی کی مارکیٹ پر نظر رکھنے والے معاشی ماہرین نے عندیہ دیا ہے کہ اس عمل ماہ رمضان تک چینی مزید20روپے فی کلو تک بڑھ جائے گی،شوگر ملز سیاسی شخصیات کی ہیں اور یہ لوگ آٹے کی قیمت میں کنٹرول کے دعوے کر رہیں ہیں جبکہ ان کی شوگر انڈسٹری فی کلو پانچ روپے گنا خرید کر کے فی کلو چینی ایکس مل 76روپے 60پیسے فروخت کر رہی ہے،چند دن قبل خود وزیر اعلی پنجاب نے پنجاب میں کریشنگ صورتحال اور چینی کے سٹاک بارے میڈیا کوآگاہ کرتے ہوئے باقاعدہ اعدادوشمار جاری کئے،جس کے مطابقپنجاب میں 10 ملین میٹرک ٹن کرشنگ ہو چکی ہے اور پنجاب میں 10 لاکھ 51 ہزار ٹن چینی کے ذخائر موجود ہیں،ادھر انٹرنیشنل مارکیٹ میں چینی کے ریٹ 50روپے فی کلو سے بھی کم ہیں،چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور کریانہ ایسوسی ایشن کے متحرک ممبر عاطف غفار کے مطابق عالمی منڈیوں سے خرید کردہ چینی موجودہ ریٹ کے لحاظ سے 100کلو 5ہزار800روپے کی پاکستانی مارکیٹ میں پڑے گی،حکومت اس مصنوعی بحران پر قابو پانے کے لیے گندم کی طرح چینی کی امپورٹ کی اجازت دے،گنے اور چینی کی پیدوار پر گہری نظر رکھنے معروف کاشت کار طارق نعیم شاہ کے مطابق وکی پیڈیا میں عالمی طور پر اور یہاں پاکستان میں بھی شوگر انڈسٹریز والے مانتے ہیں کہ 100 کلوگرام گنے سے 10 کلوگرام چینی حاصل ہوتی ہے۔یعنی کہ %10 شوگر ریکوری ریشو عالمی طور پر ثابت شدہ ہے۔سو کلو گرام گنے کی قیمت 475 روپے ہے اور اس میں سے حاصل ہونے والی چینی کی قیمت آج کے نرخ کے مطابق تقریباً 750 روپے ہے۔گذشتہ سیزن میں گنے کے ریٹ کہ تنازعے کے دوران شوگر ملوں کی طرف سے یہ مو ¿قف سامنے آیا تھا کہ 52 روپے فی من پر ہماری برابری ہوتی ہے۔ اس وقت GST سات فیصد تھا۔ اب مل والے کہہ رہے ہیں کہ حکومت نے چونکہ GST بڑھا لیا ہے اس لئے چینی پچھتر روپے پہ چلی گئی ہے۔ حالانکہ اس 52 روپے میں سات فیصد سیل ٹیکس شامل تھا۔ اب اگر 17% ٹیکس لگ رہا ہے تو اس میں سے 7% تو پہلے کاٹ لیا جب 52 روپے پر برابری ہورہی تھی تو باقی بچے 10% فیصد جس پر اضافہ تقریباً 5 روپے بنتا ہے اور ریٹ اب تک 20روپے بڑھ چکا ہے۔گویا شوگر انڈسٹری 15 روپے فی کلو کا اضافی منافع کما رہی ہے۔اعداد و شمار کے مطابق ہر شوگر مل سالانہ اوسطاً ایک ہزار کروڑ روپے کا 5 5,555,555 من گنا خریدتی ہے جسکا 2,222,222,200 کلو گنا بنتا ہے جس سے 222,222,220 کلو گرام چینی حاصل ہوتی ہے۔اگر چینی کی قیمت کا نرخ معمول سے دس روپے بھی بڑھ جائے تو شوگر مل کو 2,222,222,200 روپے یا 220 کروڑ روپیکی اضافی آمدنی حاصل ہوسکتی ہے۔میں نے یہاں اضافی منافعے کی بات کی ہے جبکہ روٹین کا سالانہ سو کروڑ,1,000,000,000 روپے کا منافع اسکے علاوہ ہے اور یہاں صرف چینی کا ذکر ہورہا ہے۔

آٹے بحران

مزید : ملتان صفحہ آخر