وزرا ء عہدوں کا سہارالیکر عوام کی غربت کا مذاق اڑا رہے ہیں‘ سراج الحق

    وزرا ء عہدوں کا سہارالیکر عوام کی غربت کا مذاق اڑا رہے ہیں‘ سراج الحق

  



ملتان(پ ر)امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق کی طرف سے آئین کے آرٹیکل 213 میں مزید ترمیم کے لیے سینیٹ میں پیش کردہ بل کوقانون وانصاف کمیٹی کو بھیج دیا گیا۔سینیٹ میں بل پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن ایک آئینی اور نہایت اہم ادارہ ہے جس کے دوممبران 26 جنوری 2019 ء کو ریٹائر ہوئے اور بعد ازاں چیف الیکشن کمشنر بھی ریٹائرڈ ہوگئے۔ حکومت(بقیہ نمبر38صفحہ12پر)

کی یہ آئینی ذمہ داری تھی کہ وہ 45 دنوں کے اندر ان ممبران کا تقرر کر کے الیکشن کمیشن کو مکمل کرتی مگر ایک سال گزرنے کے باوجود حکومت اور اپوزیشن ان ممبران کی تقرری کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ آئینی طریق کار کے مطابق وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر نے متفقہ طور پر تین نام دینے تھے لیکن اب تک اس پر بھی اتفاق رائے نہیں ہوسکا اور نہ ہی چیف الیکشن کمشنر کے نا م پر اتفاق ہو رہاہے۔ یہ بات درست ہے کہ الیکشن کمیشن کو جلد از جلد مکمل کرنا پارلیمنٹ کی ذمہ داری ہے مگر جب حکومت اور اپوزیشن متفق نہ ہورہی ہوں تو پوری پارلیمنٹ ناکا م ہوجاتی ہے۔انہوں نے بل میں تجویز دی ہے کہ حکومت اور اپوزیشن اگر پارلیمانی کمیٹی میں بھی اتفاق نہیں کر پاتے تو اس صورت میں دونوں کی طرف سے مجوزہ ناموں کی فہرست سات دن کے اندر جوڈیشل کمیٹی کو ارسال کردہ تصور ہو گی۔جوڈیشل کمیٹی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس،دو سینیئر ججزاورمتعلقہ ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان پر مشتمل ہو گی۔سینیٹر سراج الحق کی طرف سے ایک اور بل کو بھی جو کہ آئین کے آرٹیکل 45 میں مزید ترمیم کے لیے سینیٹ میں پیش کیا گیا قانون وانصاف کمیٹی کو بھیج دیا گیا۔اس بل میں سراج الحق نے تجویز دی ہے کہ صدر سزاؤں کو معاف کرنے کے اختیار کو حدود اور قصاص کی سزاؤں میں استعمال نہیں کرے گا۔سینیٹر سراج الحق کی طرف سے پیش کردہ سرکاری اور نیم سرکاری محکموں کے ملازمین لازمی رہائش گاہیں مہیا کرنے کی قرارداد کو سینیٹ نے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔جبکہ موٹروے پر ٹال ٹیکس میں دس فیصد اضافہ کے خلاف قرارداد کو حکومت کی مخالفت کی بناء منظور نہیں کیا جا سکا۔سینیٹر سراج الحق کی طرف سے سینیٹ سے نجی سود کے خاتمے کا بل کو قومی اسمبلی نے نوے دنوں میں منظور نہیں کیا تھا لھذا ان کی طرف سے نوٹس دیا گیا کہ اس بل کو مشترکہ سیشن میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے۔قرارداد کو ایوان نے منظور کرتے ہوئے بل کو مجلس شوری(پارلیمنٹ) کو بھیج دیا۔سینیٹر سراج الحق کی طرف سے پاکستان ریلوے کی گزشتہ ایک سال کی کارکردگی پر بحث کے بعد وفاقی وزیر نے پالیسی موقف دیا اور اس قرارداد کو نمٹا دیا گیا۔سینیٹر سراج الحق نے سینیٹ میں آٹے کے بحران پر گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ وزراء وزارتوں کا سہارا لے کر عوام کی غربت کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ نئے پاکستان کے دعوے دار وں نے ملک کو بحرانوں کی آماجگاہ بنادیاہے۔ ملک آٹے، چینی، بجلی، گیس کے ساتھ ساتھ قانون سازی کے بحران سے بھی دوچار ہے۔ قوم ایک بحران سے نکلتی نہیں کہ دوسرے کا شکار ہو جاتی ہے۔ لوگ آٹے کے لیے گھنٹوں قطاروں میں لگے رہتے ہیں مگر انہیں آٹا نہیں مل رہا۔ ایک طرف لوگ روٹی کو ترس رہے ہیں اور دوسری طرف وفاقی وزراء اپنے کوتاہی تسلیم کرنے کی بجائے عوام کا مذاق اڑاتے ہیں او ر کہتے ہیں کہ لوگ نومبر دسمبر میں زیادہ روٹیا ں کھاتے ہیں جس کی وجہ سے آٹے کا بحران آیا۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان ایک زرعی اور گندم پیدا کرنے والا دنیا کا آٹھواں بڑا ملک ہے مگر ہماری بدقسمتی ہے کہ حکومت کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے اب ہمیں گندم بھی درآمد کرنا پڑ رہی ہے۔ حکومت نے پہلے سستے داموں گندم باہر بھجوائی اور اب مہنگے داموں درآمد کر رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ حکمرانوں کے سینوں میں دل نہیں، پتھر ہے اگر ان کے سینوں میں دل ہوتا تو عوام کی ان پریشانیوں کو دیکھتے ہوئے ان کا دل ضرور پسیج جاتا۔ انہوں نے کہاکہ نومبر او ر دسمبر ہر سال آتے ہیں مگر اس طرح کے حکمران پہلی بار دیکھے ہیں آٹے کے بحران کا ذمہ دار عوام کو ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ وزراء کی بد تدبیری اور نااہلی کی وجہ سے غربت، مہنگائی اور بے روزگاری میں مسلسل اضافہ ہورہاہے اور اب تو آٹا بھی نایاب ہوگیاہے۔ حکمران بتائیں کہ بائیس کروڑ عو ام کے لیے کتنا بڑا لنگر خانہ بنائیں گے۔ اب تک بنائے گئے لنگر خانوں میں سو دو سو لوگ جمع ہوتے تھے، لیکن اگر حکمرانوں نے اس بحران پر قابو نہ پایا اور لوگوں کے دکھ درد کو سمجھنے کی کوشش نہ کی تو یہی بھوکے لوگ جھونپڑیوں سے نکل کر ایوانوں کا گھیراؤ کر لیں گے اور پھر حکمرانوں کو بھاگنے کا بھی موقع نہیں ملے گا۔ سینیٹر سرا ج الحق نے کہاکہ قوم لنگر خانے نہیں، کارخانے چاہتی ہے تاکہ انہیں عزت سے دو وقت کا کھانا مل سکے۔یہ کون سی پالیسی ہے کہ لوگوں کو ذلیل و خوار کر کے بھیک کی طرح انہیں کھانا کھلایا جائے۔انہوں نے کہاکہ ماش کی دال بھی اب تو بدمعاش ہوگئی ہے۔ اب توسبزی بھی غریب کی قوت خرید سے باہر ہوگئی ہے۔

سراج الحق

مزید : ملتان صفحہ آخر