چولستانی فنکار آڈوبھگت کا انتقال‘ لوک گلوکاری کا عہد ختم

    چولستانی فنکار آڈوبھگت کا انتقال‘ لوک گلوکاری کا عہد ختم

  



ملتان(اے پی پی)نامور گلوکار آڈو بھگت،بھگتی روایت کے ان گلوکاروں میں شمار ہوتے تھے۔جن کی وجہ سے چولستان کی ثقافت دنیا بھر میں پہچانی گئی۔ان کے انتقال سے لوک گلوکاری کا پورا عہد ختم ہو گیا ہے۔ان خیالات کا اظہار معروف چولستانی گلوکار موہن بھگت نے اے پی پی سے بات چیت کے دوران کیا آڈو بھگت گزشتہ روز طویل علالت کے بعد چولستان کے چک نمبر 177میں انتقال کر گئے تھے۔موہن بھگت نے بتایا کہ آڈو بھگت ان کے والد صدارتی ایوارڈ یافتہ لوک گلوکار فقیرا (بقیہ نمبر45صفحہ12پر)

بھگت کے استاد تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہ طویل عرصہ سے دمہ کے مرض میں مبتلا تھے۔ان کی عمر 65برس تھی۔ وہ چولستان کا عظیم سرمایہ تھے ریڈیو پاکستان بہاولپور کے پروگرام مینیجر سجاد بری نے کہا کہ آڈو بھگت زیادہ تر نجی محفلوں میں اپنے فن کا مظاہرہ کرتے تھے۔انہوں نے ریڈیو پاکستان بہاولپور،ملتان اور پاکستان ٹیلی ویڑن پر بھی کچھ گیت ریکارڈ کروائے۔آڈو بھگت نے چولستان میں موسیقی کے فروغ میں بھی نمایاں کردار ادا کیا اور اس علاقے میں گانے والے زیادہ تر فنکار انہی کے شاگرد ہیں اور وہ چولستان کی ثقافت کی پہچان ہیں۔

عہد ختم

مزید : ملتان صفحہ آخر