سابق ڈی جی آئی ایس آئی ظہیرالاسلام کی اہلیہ کی جانب سے دائرخلع کا دعویٰ،سماعت 7فروری تک ملتوی

  سابق ڈی جی آئی ایس آئی ظہیرالاسلام کی اہلیہ کی جانب سے دائرخلع کا ...

  



لاہور(نامہ نگار)فیملی عدالت کے جج عبدالمنعیم نے سابق ڈی جی آئی ایس آئی ظہیرالاسلام کی اہلیہ کی جانب سے دائرخلع کے دعویٰ کی سماعت ان کے وکیل کی استدعا پر7فروری تک ملتوی کردی،ظہیرالاسلام کے وکیل نے گزشتہ روزوکالت نامہ جمع کروا تے ہوئے دعویٰ کا جواب جمع کروانے کے لئے مہلت طلب کی تھی جسے عدالت نے منظور کرلیا۔

فیملی عدالت کے جج عبدالمنعیم نے پلوشہ زئی خان کی دعوی پر سماعت کی،پلوشہ محمد زئی خان نے فیملی عدالت میں دعوی دائر کررکھا ہے اوردعویٰ میں حق مہر کی رقم اور 5 لاکھ روپے ماہانہ خرچے کی استدعا بھی کی گئی ہے،درخواست گزار کا موقف ہے کہ خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہ ظہیرالاسلام سے 3 مئی 2015 کو شادی کی، نکاح میں 10 لاکھ روپے حق مہر مقرر کیا گیا، 21 اکتوبر 2015 کو بیٹا شمشیر الاسلام پیدا ہوا، شادی کے بعد شوہر نے میرے اور بیٹے کے حقوق ادا نہیں کئے، شادی کے بعد شوہر نے کسی بھی قسم کی نگہداشت نہیں کی، شادی کے بعد شوہر نے بچے اور میری ذمہ داری ادا نہیں کی، لمبے عرصے تک ملاقات نہ ہونے کے باعث بیٹا شمشیر الاسلام اپنے والد کو بھی نہیں پہچانتا، پہلی اور دوسری بیوی کے درمیان مساوی سلوک روا نہیں رکھا،ظہیرالاسلام نے ہماری شادی کو معاشرے، خاندان اور پہلی بیوی سے خفیہ رکھا، شوہر نے شادی کے بعد سے ابتک گھر لے کر نہیں دیا، شوہر کی غفلت، لاپرواہی اور عدم دلچسپی کے باعث اپنی شادی کو برقرار رکھنا ناممکن ہو رہا ہے، ظہیرالاسلام نے جی ایچ کیو میں میرا اور بچے کا ریکارڈ ظاہر نہیں کیا، جس کے باعث وہ سابق فوجی افسر کی مراعات لینے سے محروم ہیں،نکاح کے وقت مقرر کئے گئے 10 لاکھ روپے حق مہر کی رقم بھی ادا نہیں کی گئی، سابق فوجی افسر ہونے کے ناطے شوہر کی ماہانہ آمدن لاکھوں روپے ہے، ان حالات میں شادی کو برقرار رکھنا ناممکن ہے اس لئے خلع کی ڈگری جاری کی جائے اورحق مہر کی مقرر کی گئی 10 لاکھ روپے کی رقم بھی ادا کی جائے،اس کے ساتھ ساتھ عدالت بچے اور بیوی کا 5 لاکھ روپے ماہانہ خرچہ بھی ادا کرنے کا حکم دے۔

مزید : علاقائی