آٹا ، چینی اور چاول کے بعد اب برائلر مرغی کی قیمت میں کتنے روپے فی کلو اضافہ ہو گیا ؟ جان کر عوام شدید پریشان ہو جائیں گے

آٹا ، چینی اور چاول کے بعد اب برائلر مرغی کی قیمت میں کتنے روپے فی کلو اضافہ ...
آٹا ، چینی اور چاول کے بعد اب برائلر مرغی کی قیمت میں کتنے روپے فی کلو اضافہ ہو گیا ؟ جان کر عوام شدید پریشان ہو جائیں گے

  



فیصل آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) آٹے چینی اور چاول کے بعد اب برائلر مرغی کی قیمت میں تین روز کے دوران 55 روپے فی کلو اضافہ ہو گیاہے جس نے عوام کی چیخیں نکلوا کر رکھ دی ہیں ۔

تفصیلات کے مطابق برائلر مرغی کی قیمت میں تین روز کے دوران 55 روپے فی کلو اضافہ ہو گیاہے جس کے بعد مرغی 265 روپے فی کلو فروخت ہو رہی ہے جبکہ 18 جنوری تک برائلر مرغی کی قیمت 210 روپے فی کلو تھی ۔یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ ملک بھر میں اس وقت آٹے کا بحران جاری ہے جس کے باعث آٹے کی قیمت 70 روپے فی کلو تک جا پہنچی ہے جبکہ حکومت ترجمان کسی قسم کے آٹے بحران سے ہی انکاری ہے اور یہاں تک کہ صدر مملکت کو اس معاملے کا علم ہی نہیں ہے ۔

آٹے کے بعد اب چینی بھی بحران کی جانب چل پڑی ہے اور منڈیوں میں فی کلو چینی کی قیمت میں پانچ روپے تک اضافہ ہو گیاہے جبکہ اب اس کے بعد چاول کے بحران کا بھی خدشہ ظاہر کیا جارہاہے ۔ گزشتہ روز اقتصادی رابطہ کمیٹی نے تین لاکھ ٹن گندن درآمد کرنے کی منظوری دیدی ہے جبکہ پنجاب اور پاسکو کو ذخیرے سے گندم کی قلت ختم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے ۔

فیاض الحسن چوہان نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ پنجاب میں آٹے کا بحران نہیں ہے،چکی کا آٹا ملز سے زیادہ مہنگا ملتا ہے،آٹا بحران پر 170 فلور ملز کا کوٹہ منسوخ کردیاگیا،عثمان بزدار نے قائدانہ صلاحیتوں سے آٹے کے بحران سے بچایاہے۔ان کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے آٹے کے بحران پر ایکشن لیا ہے، آٹا بحران پر 376 فلور ملز کے خلاف ایکشن لیا گیا۔ 170 فلور ملز کا کوٹہ منسوخ اور تقریباً سوا 9 کروڑ جرمانہ کیا گیا۔صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ عثمان بزدار نے قائدانہ صلاحیتوں کا استعمال کر کے بحران سے بچایا، پچھلے ڈیڑھ سال سے وزیر اعلیٰ کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔ پنجاب میں وزیر اعلیٰ ہاو?س کے اخراجات کو 60 فیصد تک کم کیا گیا۔

انہوں نے کہاکہ وزیراعلیٰ عثمان بزدار بولنے نہیں، کام کرنے کے عادی ہیں،وزیراعلیٰ عثمان بزدار اپنی 5سالہ مدت مکمل کریں گے،انہوں نے کہا کہ پہلی بار 35 فیصد بجٹ جنوبی پنجاب کے لیے مختص کیا گیا، اب جنوبی پنجاب کی تعمیر و ترقی سے متعلق کوئی شکوہ نہیں سنائی دیتا۔ قانون سازی کے عمل میں 40 سے زائد بلز منظور ہوئے ہیں۔ کسی بھی اسمبلی میں ایک سال میں اتنی قانون سازی نہیں ہوئی۔ پنجاب حکومت نے پہلے ہی سال 60 فیصد اضلاع میں صحت کارڈ جاری کیے۔

مزید : قومی /بزنس