"ایک طرف میری گیارہ ماہ کی بیٹی اور دوسری طرف میرے کندھے پر مردہ بھابی کا بازوتھا" گھنٹوں برف کے نیچے دبی رہنے والی آزاد کشمیر کی خاتون نے دردناک کہانی سنادی

"ایک طرف میری گیارہ ماہ کی بیٹی اور دوسری طرف میرے کندھے پر مردہ بھابی کا ...

  



مظفرآباد (ویب ڈیسک)آزادکشمیر میں ساڑھے چھ گھنٹے تک برف کےتودے میں دبی رہنے والی شکیلہ کہتی ہیں برف کے نیچے صرف موت تھی‘ ایک طرف میری گیارہ ماہ کی بیٹی اور دوسری طرف میرے کندھے پر مردہ بھابی کا بازوتھا۔سرگن کی رہائشی کہتی ہیں کہ جب برف کا تودہ گرا تو صرف ایک زوردار آواز آئی تھی‘میں اپنی بیٹی کے ساتھ صحن میں بیٹھی تھی‘ میرے ہاتھ میں اس کی کھلونا ٹارچ تھی جس سے میں اسے بہلا رہی تھی‘ میری تینوں بھابھیاں کام کر رہی تھیں بچے کھیل اورسسر لکڑیاں سنبھال رہے تھے۔

ایک سیکنڈ میں ہوا آئی اور پھر برف نے ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے لیا‘ میں بس خدا کا نام لیتی رہی‘ آدھا پونا گھنٹہ تو سب کی آوازیں آتی رہیں‘ سب چیخ رہے تھے‘میری ساس اور سسر مسلسل کلمہ پڑھتے رہے‘ پھر سب آوازیں بند ہوگئیں۔مجھے اچانک یاد آیا کہ تودہ گرنے کے وقت جس کھلونا ٹارچ سے میں اپنی بیٹی کو بہلا رہی تھی، وہ میرے پاس ہی پڑی تھی‘ وہ ٹارچ نہ ہوتی تو شاید میں زندہ ہی نہ بچتی‘ میں نے اس کا بٹن دبایا اور برف کی جانب اس کی لائٹ آن کر دی‘رات کے اندھیرے میں ٹارچ کی روشنی نے برف میں سے اپنا راستہ بنایا اور امدادی ٹیموں نے ملبے سے نکالا‘ ہوش آیا تو ہیلی کاپٹر آ چکے تھے اور مجھے اس میں لے جا رہے تھے۔

مزید : علاقائی /آزاد کشمیر /مظفرآباد