خان صاحب کیا ایسے بنے گی ریاست مدینہ ؟‎

خان صاحب کیا ایسے بنے گی ریاست مدینہ ؟‎
خان صاحب کیا ایسے بنے گی ریاست مدینہ ؟‎

  



تحریر : کاوش میمن

سوال یہ ہے کہ کیا باتوں سے بنے گی ریاست مدینہ ؟ آپ نے دعوے تو بہت کیے لیکن پاکستان کو مدینہ طرز کی ریاست بنانے کیلئے کوئی عملی اقدام نہیں کیا۔

مدینہ کی ریاست میں انصاف کیلئے ایک نظام رائج تھا اور نئے پاکستان میں معصوم بچے جو درندوں کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں ان کو انصاف نہیں ملتا ۔بے روزگاری اور غربت سے لوگ خودکشی کرنے پر مجبور ہورہے ہیں غریب آدمی سے روٹی تک چھین کی گئی ہے ۔ملک میں آٹا نایاب ہوچکا ہے اور اگر کہیں مل رہا ہے، تو وہاں قیمتیں آسمانوں سے باتیں کررہی ہیں ۔

چینی کی قیمتوں میں بھی ہوشربا اضافہ ہوا ہے مگر افسوس حکومتی وزراء بیانات پر بیانات داغ رہے ہیں، جو جلے پر نمک چھڑکنے کے برابر ہے۔خان صاحب! جب سے آپ اقتدار میں آئے ہیں عوام کی مشکالات میں کمی نہیں ہوئی، بلکہ اضافہ ہوگیا ہے ،کیونکہ آپ کی حکومت کی کارکردگی صفر ہے۔آپ نے عوام کو صرف سنہرے خواب دکھائے، آج ملک میں بے روزگاری کا یہ عالم ہے کہ ایک بیٹی اپنے بے روزگار باپ سے سرد موسم میں گرم کپڑے لانے کی فرمائش کرتی ہے ،لیکن لاچار باپ اپنی بیٹی کی اس معصوم خواہش کو چاہ کر بھی پورا نہیں کرسکتا تھا تو اپنی شہزادی کی اس خواہش کے آگے باپ نے خودکشی کو بہتر سمجھا اور خود کو آگ لگا دی ۔

خان صاحب ! ایک بار پھر واضح کردوں کہ تبدیلی باتوں سے نہیں آئی گی ، یہ کیسی ریاست مدینہ کی بات کی جارہی ہے ، جہاں حکومتی بینچ میں بیٹھنے والا کرپٹ ٹولا صادق اور امین ہے ، لیکن مخالف سمت والا چور اور ڈاکو کے طعنے سنتا ہے ۔ریاست مدینہ میں خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضہ اللہ تعالٰی عنہ کہتے تھے کہ اگر فرات کے کنارے ایک کتا بھی پیاسا مر جائے تو عمر اس کا ذمہ دار ہے اور نئے پاکستان میں حکمران اپنی غلطی کو تسلیم ہی نہیں کرتے اور ناکامی کا ملبہ دوسروں پر گراتے ہیں۔

سرور کائنات حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کہنا ہے کہ میری بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو اس کے ہاتھ بھی کاٹ دیے جاتے ۔ یہ تھی ریاست مدینہ اور نئے پاکستان میں حکمران ریاست مدینہ کی بات تو کرتے ہیں لیکن اس کے اصولوں پر عمل نہیں کرتے ۔ہمارے ملک میں کتنے ایسے بے روزگار افراد ہیں جو ذلت کی زندگی گزارنے سے بہتر موت کو ترجیح دیتے ہیں ۔ حکمرانوں کو عوام کی کوئی پرواہ نہیں ، انہیں صرف اپنی کرسی سے محبت ہے۔

ملک میں ہر طبقہ پریشان حال ہے ، ایک طرف بے روزگاری تو دوسری جانب تعلیم یافتہ نوجوان نوکریوں کے لیے مارے مارے گھوم رہے ہیں ۔ڈاکٹرز ، ٹیچرز سمیت سب یہی سوال کررہے ہیں خان صاحب ! ایک کروڑ نوکریاں کہاں ہے ؟خان صاحب !کیا اس طرح بنے گی ریاست مدینہ ؟ ریاست مدینہ تو دور کی بات ، اگر ریاست مدینہ کہ ایک اصول پر بھی عمل کرلیں تو یہی بہت ہے۔

۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’dailypak1k@gmail.com‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید : بلاگ