غیر متوازن ترقی ملک کیلئے خطرناک،سندھ کے 53فیصد علاقے کم ترقی یافتہ ہیں:سینیٹر عثمان کاکڑ

غیر متوازن ترقی ملک کیلئے خطرناک،سندھ کے 53فیصد علاقے کم ترقی یافتہ ...
غیر متوازن ترقی ملک کیلئے خطرناک،سندھ کے 53فیصد علاقے کم ترقی یافتہ ہیں:سینیٹر عثمان کاکڑ

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)چیئرمین خصوصی کمیٹی برائے کم تری یافتہ علاقہ جات سینیٹرعثمان کاکڑنےکہاہےکہ غیر متوازن ترقی ہے،جوملک کیلئے خطرناک ہے

سندھ کے53فیصد علاقے کم ترقی یافتہ ہیں، صوبے کے اندر بھی مختلف اضلاع میں ترقی کا توازن بھی برابر نہیں،تھرپارکر میں خشک سالی کی وجہ سے تباہ کاری آئی،دو لاکھ 76ہزار خاندان متاثر ہوئے۔

سینٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے صوبائی صدر اور چیرمین کمیٹی برائے کم ترقی یافتہ علاقہ جات سینیٹرعثمان کاکڑنےکہا کہ آٹھ اضلاع غریب ہیں،سندھ صوبہ ملک کو 60فیصد کا ریونیو دیتا ہے،اس ملک میں غیر متوازن ترقی ہے،جوملک کیلئے خطرناک ہے۔ انہوں نے کہاکہ صوبے کے اندر بھی مختلف اضلاع میں ترقی کاتوازن بھی برابرنہیں۔ انہوں نےکہاکہ بدین میں پانچ آئل کمپنیاں ہیں مگروہاں کےبیس فیصدلوگوں کو بھی اُن میں ملازمت نہیں دی گئی ، صرف پانچ فیصد گھروں میں گیس کی سہولت موجود ہے،تھرپارکر میں خشک سالی کی وجہ سے تباہ کاری آئی،دو لاکھ 76ہزار خاندان متاثر ہوئے،این ڈی ایم اے نے تھرپارکر میں دس روپے کا بھی کام نہیں کیا۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد