مشکلات میں گھرا پاکستان

مشکلات میں گھرا پاکستان
مشکلات میں گھرا پاکستان

  



جنوری2020میں والدہ کی علالت کی وجہ سےچنددن کےلئےپاکستان جانے کا اتفاق ہوا، یہ تجربہ بہت تکلیف دہ تھا کہ پاکستان کدھر جارہا ہے؟ہم کیا ہیں ہماری میراث ، تاریخ، فلسفہ خودی اور کردار کیاہےاورہم کدھر جارہے ہیں؟میں نے لکھنے سے پہلے چیزوں کا بغور مشاہدہ کیا ہے اور اس نتیجے پر پہنچنے کے لئےریاضی دان ہونا لازمی نہیں کہ پاکستان مشکلات میں گھرا ہوا ہے۔میں چاہوں گا کہ ہم تارکین وطن،اقتصادیات،خارجی،داخلی اور تبدیلی کے تناظرمیں گورننس اور جمہوریت کی مجموعی صورت حال پر طائرانہ نظر ڈالیں۔

اس حکومت نےتارکین وطن سے بے شمار وعدے وعید کئے تھے،پارلیمان میں خصوصی نشستیں ، ووٹ کا حق ، دہری شہریت کا خاتمہ ، قبضہ مافیا کے خاتمے کے لیےخصوصی عدالتیں،کھلی کچہریاں،خاندانوں کےلئےایئرلائن پیکجز ،نیکوپ کارڈکاخاتمہ،ہنڈی اورمنی لانڈرنگ کےخاتمےکےلئےاوورسیز بنک کاقیام ،سب دھندلاتا ہوا خواب محسوس ہونے لگ گیا ہے۔واپس آتے لاہور ائیرپورٹ کچھ فلائیٹوں کے یکجا ہونے کی وجہ سے مچھلی منڈی کا نظارہ دے رہا تھا۔ پی آئی اے کا عملہ سیٹ کے مطابق سامان کے بارے میں متضاد اور اضافی چارجز کے نظارے پیش کررہا تھا اور لوگ ان اضافی چارجز سے نالاں اور دست و گریباں نظر آئے۔ عمران خان خود زمان پارک لاہور کےرہائشی ہیں اور نئے ائیرپورٹ کی توسیع اسکے اوریجنل پلان کے مطابق ہنگامی بنیادوں پر نہ کرنا ملک و قوم اور تارکین وطن سے صریحاً زیادتی ہے جو آتےاورجاتےوقت اِن فلائٹس کو بھر کےلانے میں مدد کرتے ہیں۔لگتا ہے وزیراعظم کی نظر مڑ کر بار بار صرف ایک ہی اوورسیز پاکستانی پر پڑتی ہے جسکا نام زلفی بخاری ہے اور پھر تمام مراعات کے حقدار بھی وہ اکیلے ہی ٹھہرائے جاتے ہیں چاہے وہ نیب کیسز ہوں یا بیرونی دورے؟موجودہ حکومت کا تارکین وطن کے لئے ایک منتخب نمائندوں میں سے حاضر سروس وفاقی وزیر نہ لگانا سمجھ سے بالاتر ہے۔ جب انکا اپنا وفاقی وزیر نہیں ہوگا اور چئیرمین اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن ان میں سے نہیں ہوگا تو انکے لئے پالیسی کی سطح پر کون آواز اٹھائے گا؟۔

میرے خیال میں وقت ہے کہ پاکستان کو مشکلات میں پچیس بلین ڈالر کازرِ مبادلہ بھیجنے والی اوورسیز کمیونٹی کی خواہشات ، مطالبات،دعووں اور وعدوں کی تکمیل کے لئے ایک نمائندہ اوورسیز کنونشن مقرر کیا جائے جو 1997 کے بعد اپنی نوعیت کا واحد پالیسی ساز انتظام ہوگا اور ان تمام نکات پر اوورسیز کمیونٹی کے نمائندوں کو اعتماد میں لیتے ہوئے دور رس نتائج پر حامل اعلانات اور اقدامات کئے جائیں ۔ 160 ممالک میں پھیلے اسی لاکھ اوورسیز پاکستانیوں کو مایوس کرنا بہر صورت کسی کے مفاد میں نہیں۔عمران خاں کہتے تھے کہ وہ آئیں گے اور پاکستانی پاسپورٹ کی عزت و تکریم کروائیں گے مگرحکومت میں آنے کے 16 مہینے بعد پاکستانی پاسپورٹ کو دنیا کے بدترین پاسپورٹس کی فہرست میں چوتھے نمبر پرلاکھڑا کیاہے اور یہ زرا سوچنے کا مقام ہے۔

اقتصادی صورتحال گھمبیر ہے،موجودہ حکومت کامجموعی قرضہ ماضی کےریکارڑ توڑ رہا ہے،عام آدمی کی معاشی مشکلات میں اضافے کے باعث روز مرہ کی اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں ہو شربا اضافہ ہے۔ تیل و گھی سبزیاں ٹماٹر پیاز انڈہ مرغی اور گوشت کی قیمتوں میں بتدریج اضافہ ہوا ہے اور اگلے بجٹ تک مزید توقع ہے۔ ادویات کی قیمتیں آسمانوں کو چھو رہی ہیں جسکی وجہ سے مارکیٹ میں غلط ادویات سستی کرکے بیچی جارہی ہیں،لوگ نالاں ہیں کہ کہ عوامی ریلیف کی تمام سب سڈیز موجودہ حکومت نے یاتوختم کردی ہیں یا روک دی ہیں۔ایسا کب تک چلے گا؟یہ لمباعرصہ سوچنے کے لئے نہیں دے گا،مہنگائی کا چنگل عوام کو جینے نہیں دے گا اور آئی ایم ایف کا شکنجہ حکومت کو عوام کو کوئی ریلیف دلاسہ یا حوصلہ دینے نہیں دے گا۔

خارجہ محاز پر پاکستان تنہائی کا شکار ہے،شکر ہے کہ ایران امریکہ تنازعہ جنگ کی طرف نہیں بڑھا وگرنہ پاکستان امریکی جھکاؤ کی وجہ سے دو فریقوں میں پس کر رہ جاتا۔ ملائیشیا میں جسطرح خود تجاویز دیکر اس فورم سے پسپائی اختیار کی اس سے موجودہ حکومت کی بڑے تنازعات میں ثالثی کی پیشکشیں ازخود قابل غور ہیں۔ آئندہ غیر ملکی دورے کرتے وقت حکومتی سربراہان اپنے جہازوں پر سفر کریں تو بین الاقوامی طور پر جہاز واپس لینے کی صورت میں سبکی سے بچا جاسکتا ہے،کشمیر پر حکومتی موقف کمزور اور بھارتی سرکار کے ہم پلہ ہے اور اس سے “ادھر تم ادھر ہم “ کی بو آتی ہے،او آئی سی کو فعال کرنے کا طریقہ ہی یا تو موجودہ فورم میں جان ڈالنا ہے یا نئے فورم کاقیام اوربین الاقوامی میڈیامیں اپناحصہ لیناہے،خبر اور نیوز چینل بین الاقوامی طور پر رائے عامہ ہموار کرتے ہیں اورمسلمان بحیثیت قوم اپنا مقدمہ بین الاقوامی دنیا کو پیش کرنے سی قاصر ہیں۔ایسے میں آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک پر متواتر انحصار اور بین الاقوامی طاقتوں کو خوش کرنے کے لئے پاک چائنہ کاریڈار کو خاموشی سے شیلف کرنا موجودہ حکومت کے کالے کارناموں میں شمار ہوگا۔

داخلی سطح پر حکومت اپنے بلند و بانگ دعووں کے آگے ہتھیار پھینک رہی ہے،عدالتی اصلاحات ناپید ہیں،لوگ انصاف کے حصول کے لئے تحریک انصاف کی حکومت میں در بدر ٹھوکریں کھا رہے ہیں،اربوں درخت ، کروڑوں نوکریاں ، لاکھوں گھر قصہ پارینہ تو جو ہوئے سو ہوئے حکومت وی آئی پی کلچر کا خاتمہ کرنے میں بھی بری طرح ناکام ہوئی۔ وزیراعظم ہاؤس اب یونیورسٹی نہیں رہا اور گورنر ہاؤس کی دیواریں پہلے سے اونچی اور پراسرار خاموشی کا شکار ہیں ۔مہنگائی ، کرپشن کے خاتمے میں دیر اور رکاوٹیں ، حصول انصاف کے لئے کوششوں میں کمی کی وجہ سے کرپشن کے سائے موجودہ حکومت پر بھی چھائے ہوئے ہیں۔ کرپشن کی سطح میں موجودہ دنوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ریٹ بڑھنے سے عوام پریشان ہیں کہ یہ کیسی تبدیلی ہے۔ ایسے میں حکومتی کارکردگی کی سطح کو دیکھتے ہوئے سازشیں،اِن ہاؤس تبدیلی کاپلان اورنئےانتخابات کےلئےویلنگ ڈیلنگ کوخارج اَزامکان قرارنہیں دیاجاسکتا۔اب دیکھتےہیں کہ تبدیلی کےاِس غبار میں جمہوریت کی خدمت ہوئی ہے یا معاملات پرانی تنخواہ پر ہی چل رہے ہیں۔

راقم نےآخری الیکشن کےدوران سمت کی درستگی کی طرف توجہ دلائی تھی،معاملات اب بھی کم وبیش ویسےہی ہیں،حکومت کوعدالتی اصلاحات کی طرف توجہ دینی چاہیے تھی۔ شفاف ٹرائل پر قانون سازی حل طلب مسئلہ ہے،پارلیمان کو شفاف ٹرائل اور اسکی جزویات، عدالتی اصلاحات اور حساس معاملات پر گواہان کا تحفظ ، وقت پر ایک منصفانہ ٹرائل ، پیشی پر پیشی کا خاتمہ ، لمبے سٹے آرڈروں سے نجات اور ، ٹائم فریم میں عدالتی پراسس مکمل کرنے پر لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور دوسرے عدالتی فورمز کی آراء سے استفادہ کرتے ہوئے قانون سازی اور عوامی ذہن سازی کرنی چاہیےتھی۔ نہیں ہوسکی اگر وقت ہے تو اب بھی کوشش کر گزرنی چاہیے وگرنہ آنے والے ضرور کریں۔ تفتیش کو استغاثہ اور انتظامیہ کو عدلیہ سے علیحدہ کرنا اور علیحدہ رکھنے میں ہی انصاف کا بول بالا ہوگا۔ سپریم کورٹ کی لاء ریفارمز کمیشن کو ہنگامی بنیادوں پر ایسے معاملات پر گائیڈ لائینز جاری کرنی چاہیے جوکہ پارلیمان میں اصلاحات پر حکومت اور حزب اختلاف کی مشترکہ کاوشوں سے قانون سازی کا باعث بن سکیں۔ اس کام میں بار ایسوسی ایشنز مکالمے , بحث اور مشاورت کا اہتمام کر سکتے ہیں اور اپنا کردار بامقصد طور پر ادا کرسکتے ہیں۔مرحومہ عاصمہ جہانگیر کےدورمیں چندفکری نشستوں کا اہتمام دیکھنے کو ملا جہاں بار اور بنچ نے ملکر فکری مقالات اور اصلاحات کے لئے بامقصد تجاویز دیں۔وہ جذبہ دوبارہ اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ایسی اصلاحات کے لئےتمام سٹیک ہولڈرزمیں بامقصد مذاکرات،بامعنی مشاورت اورقانون سازی کی ضرورت ہے،سب سے اہم بات ایک منتخب وزیراعظم کوماورائے پارلیمان عدالتوں کےذریعےایک سادہ پٹیشن سےصادق اورامین قرار نہ دینا اورعہدے سےہٹانا بین الاقوامی طور پر اس عہدے کو کمزور اور بے اثر کرنے کے مترادف ہے۔

ہم نےدیکھاکہ جب وزیراعظم کےمعاملات پارلیمان کےسواعدالتوں میں زیرغورہوںگےوہیں اب سپہ سالار کےمعاملات زیرغورآئے،جنرل مشرف کابھوت کیسوں کی صورت میں عدالتوں کو انصاف سے روک رہا ہے۔ ایسے میں خصوصی عدالت کی سزا پر لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ خطرے کی گھنٹی ہے۔ جنرل مشرف کی سپریم کورٹ میں اپیل ہی وہ واحد راستہ ہے جو عدالتوں کو پیہم ایک راستے پر رکھ سکتا ہےوگرنہ جنرل مشرف کی سابقہ قانونی ٹیم موجودہ حکومت کی مشاورت میں نا اہلی کے تمام سابقہ ریکارڑ توڑ رہی ہے.کبھی سپہ سالار کی مدت ملازمت میں توسیع اور دوبارہ تعیناتی کے سلسلے دیکھنے کو ملے۔ ووٹ کو عزت دو کا نعرہ مستانہ اچھا تھا لیکن شاید بنگلہ دیش بننے کے بعد ایسے نعروں کے اوپر عمل ہونے کی صورت میں انکے نتائج سے اہل اقتدار خائف ہیں۔ برادرم بنگلہ دیش نے اپنی اقتصادی صورتحال کو سیلابوں کے باوجود قابو میں رکھا ہے اور آئین شکنی اور ڈکٹیٹرشپ کے جن کو جنرل ارشاد حسن کے بعد اچھی طرح بوتل میں بند کیا ہے۔انہوں نے دفاعی معاملات کو بھارت کی طرز پر استوار کیا ہے اور فوج میں ترقی اور تعیناتی کو ایک سویلین ماتحتی میں ادارہ جاتی شکل دی ہے،ہم ابھی سوچ رہے ہیں۔ دنیا آگے بڑھ رہی ہے ہم ابھی سوچ رہے ہیں زمانہ سمت کی درستگی اور تعین کا متلاشی ہے۔ ہم اپنی سول لیڈرشپ کو گھٹنوں بل لانے کے لئے بیتاب ہیں ۔ ایسے میں موجودہ حکومت اقوام عالم میں کیا عزت اور مقام لیکر آئے گی اس کیلئے لمبے چوڑے قیافے لگانے کی ضرورت نہ ہے۔

موجودہ حکومت کو حریم شاہ کی چند ویڈیوز نے عیاں اور عریاں کردیا ہے۔ پارلیمان کو حکومت کے موجودہ دورانیے کو مدینہ کی ریاست سے تشبیہ دینے پر پابندی عائد کرنی چاہیے کیونکہ یہ ایسے فلسفے کی توہین ہے جسکا ظاہر اور باطن مدینہ کی ریاست سے متضاد ہے۔ ہم جب تک سمت کی درستگی نہیں کرتے اسی طرح دائروں میں سفرکرتےرہیں گے،ملکی سلامتی کےادارے ہمیں ترقی کےسہانےخواب دکھاتےرہیں گےاورہم موجودہ حکومت کی نااہلی کی طرح قافلے کوراہزنوں سے لٹواتے رہیں گے۔ حکومت جو بھی ہو ، جو بھی کرے انصاف اور قانون سب کے لئے یکساں ہونا چاہیے۔ آئین اور پارلیمان کی عزت اور تکریم ہونی چاہیے اور دو نہیں ایک طبقہ اور کلاس پاکستان میں ہونی چاہیے۔ امیر اور غریب اور مراعات یافتہ اور غیر مراعات یافتہ طبقے کا اتنا فرق مزید بگاڑ کا باعث بن سکتا ہے۔یہ حکومت اس فلسفے کو سمجھنے کے لئے منشوری شعور، قابلیت, ٹیم اور استطاعت نہیں رکھتی۔ وقت گہرے سمندر میں گرا ہوا موتی ہےجس کا دوبارہ ملنا ناممکن ہے۔ خوبصورت لوگ لازم نہیں کہ اچھےہوں لیکن اچھے لوگ ہمشہ خوبصورت ہوتے ہیں۔ یااللہ ھمیں ہدایت یافتہ لوگوں میں شامل فرما جو صراط مستقیم پر چلتے ہیں جوتوبہ کرتے ہیں اور تیرا شکر ادا کرتے ہیں۔

بیرسٹر امجد ملک چئیرمین ایسوسی ایشن آف پاکستانی لائیرز برطانیہ ہیں اور سپریم کورٹ بار اور ہیومن رائیٹس کمیشن آف پاکستان کے تاحیات ممبر ہیں ۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید : بلاگ