ن لیگ کے دور میں برآمدات کی تباہی کاالزام بے بنیاد،ملکی معیشت چلانے اور کلاس کو پڑھانے میں فرق ہوتا ہے:اسحاق ڈار

ن لیگ کے دور میں برآمدات کی تباہی کاالزام بے بنیاد،ملکی معیشت چلانے اور کلاس ...
ن لیگ کے دور میں برآمدات کی تباہی کاالزام بے بنیاد،ملکی معیشت چلانے اور کلاس کو پڑھانے میں فرق ہوتا ہے:اسحاق ڈار

  



لندن (ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہاہے کہ ملکی معیشت چلانے اور کلاس کو پڑھانے میں فرق ہوتا ہے،مسلم لیگ(ن)کےدورمیں برآمدات کی تباہی کاالزام بے بنیاد ہے،کیا کوئی موجودہ حکومت کی ان کوتاہیوں کو تسلیم کرے گا کہ کن وجوہات کے باعث برآمدات میں اضافے کا ڈھنڈورا پیٹا جا رہا ہے؟۔

تفصیلات کے مطابق مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ پر اپنے ٹویٹس میں اسحاق ڈار نے کہاکہ مسٹرعاطف کو پتا ہونا چاہیے کہ ملکی معیشت چلانے اور کلاس کو پڑھانے میں فرق ہوتا ہے،ہمارے ایکسچینج ریٹ پالیسی جسے ہم نے آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کرکے چارہفتے کے اندر تین سالہ پروگرام منظور کرایا جو کہ پاکستان کی تاریخ کا واحد کامیابی سے مکمل کیا جانے والا آئی ایم ایف پروگرام تھا اس پروگرام کے ذریعے 7.6 ارب ڈالر کا معاہدہ کیا اور اس کے ساتھ ہم نے ایکسچینج ریٹ کو بھی متوازن رکھا۔ جس کے باعث بیرونی سرمایہ کاری آئی۔ ہمارے دور میں افراط زر اوسطاً 5فیصد رہا۔اسحاق ڈار نے کہاکہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ عام عوام کو پہنچایا جس باعث ان کی قوت خرید میں اضافہ ہوا۔ آپ کا یہ کہنا کہ مسلم لیگ (ن) کے دور میں برآمدات تباہ ہوئی ایک بے بنیاد بات ہے۔ ہمارے دور میں برآمدات کی پالیسی مشکلات کا شکار رہی بالخصوص ٹیکسٹائل اس کی ایک بنیادی وجہ پوری دنیا میں اشیاء کی قیمتوں میں کمی تھا تاہم ہمارے دور میں ایمپورٹ بل میں پاکستان کو بچت ہوئی جس کے باعث ایکسپورٹ میں کمی کا معاملہ متوازن رہا،اس سے بڑھ کر جنوری 2017 میں ایکسپورٹر کو 180 ارب روپے کا خصوصی پیکیج دیا گیا۔ مالی سال 2018 میں برآمدات میں 18 فیصد اضافہ ہوا ڈیلولیشن پروگرام جس کے تحت 40 فیصد صوبوں کو دیا گیا اس باعث صرف 2 فیصد برآمدات میں کمی واقع ہوئی تاہم مالی سال 2020 میں 3.8 فیصد برآمدات میں اضافہ بھی ہماری پالیسیوں کے باعث ممکن ہوا۔

اُنہوں نے کہا کہ آپ کس طریقے سے معیشت کی تباہی کو جھٹلا سکتے ہیں جب ملکی سطح پر پیداوار گر چکی ہو؟درآمدات میں کمی آ گئی ہو اور ملک میں افراط زر بہت زیادہ اونچا چلا جائے؟اس صورتحال میں ایکسپورٹس کس طریقے سے نہیں بڑھے گی جب 4 ہزار ارب روپے پبلک ڈیٹ کی مد میں بڑھ جائیں لاکھوں لوگ بیروزگار ہو جائیں۔لاکھوں لوگ بے روزگار ہونے کے باعث خط غربت سے نیچے چلے جائیں اور ملکی معیشت تباہ ہو جائے۔کیا کوئی موجودہ حکومت کی ان کوتاہیوں کو تسلیم کرے گا کہ کن وجوہات کے باعث برآمدات میں اضافے کا ڈھنڈورا پیٹا جا رہا ہے حالانکہ ہمارے دور میں غیر یقینی سیاسی صورتحال انجینئر ڈ دھرنوں کی سازش کے باوجود پاکستان مسلم لیگ ن کے دور میں جی ڈی پی گروتھ 2018 کے مالی سال تک 5.8 فیصد رہی۔

مزید : قومی