بڑھتی ہوئی مہنگائی پر کنٹرول کی ضرورت

بڑھتی ہوئی مہنگائی پر کنٹرول کی ضرورت
بڑھتی ہوئی مہنگائی پر کنٹرول کی ضرورت

  

پوری دنیا اس وقت بری طرح موذی اور متعدی مرض کورونا کی لپیٹ میں آ چکی ہے۔ ہر طرف خوف اور آہ و بکا کا عالم ہے حکومتیں اس وبا کی شدت کم کرنے کے لئے اپنی تمام تر توجہ اور صلاحیتیں بروئے کار لا رہی ہیں لیکن انتہائی شرم ناک، تکلیف دہ اور قابلِ مذمت یہ عمل ہے کہ قیامت صغریٰ کے اس ہیبت ناک مرحلے پر ہمارے پیارے وطن میں ناجائز ذرائع سے دولت کے حصول کی حرص و ہوس سے گلے تک بھرے کچھ سفاک، لالچی اور منافع خور تاجر دوکاندار اور آڑھتی بنیادی ضروریات خورونوش، پھل اور سبزیاں بہت مہنگی کر دیتے ہیں جس سے عوام بالخصوص مزدور، دیہاڑی دار اور چھوٹے موٹے ملازمت پیشہ افراد انتہائی بری طرح پستے ہیں اور ان پر اس ناجائز بوجھ ڈالے جانے کی کہیں اور کسی فورم پر کوئی مناسب تلافی بھی نہیں ہو پاتی ایسا کیوں ہو رہا ہے کہ جب کھانے پینے کی اشیاء بازاز میں وافر مقدار میں دستیاب ہیں اور ان کی ترسیل بھی معمول کے مطابق ہو رہی ہے تو پھر کیوں ان اشیاء خورونوش کو  انتہائی مہنگا فروخت کیا جاتا ہے ان اشیاء کی قیمتیں فوراً کیوں آسمان کو چھونے لگتی ہیں جس سے معاشرے کے وہ افراد جو پہلے ہی غربت، مفلسی، تنگدستی، مناسب روز گار اور ذرائع آمدن نہ ہونے کے پیش نظر معاشی مسائل سے دو چار ہوتے ہیں اور اضافی بوجھ اٹھانے کی بالکل سکت نہیں رکھتے کیسے اپنے گھر کا چولہا جلائیں گے روز بروز سوئی گیس کی بھی کمی ہو رہی ہے کس طرح اپنے بچوں کے لئے دو وقت کی روٹی کا بندوبست کریں گے  ایک دن ایک سبزی فروش کی دکان پر بڑی محبت اور پیار سے سبزیوں کے بھاؤ پوچھنے کی جسارت کی تو دوکاندار نے بڑی بے باکی سے تمام سبزیوں کے بھاؤبتائے میں نے صرف عوام کی پریشانیوں کو سنتے ہوئے بھاؤ پوچھے  چند پھلوں کا بھاؤ معلوم کیا پھل  کھانا تو مقدر میں بہت کم ہوتا ہے لیکن مہنگائی کا رونا روتے ہوئے عوام ان سبزی فروشوں اور پھلوں کی دکانوں سے تمام اشیا خریدتے ہیں شاید ہی کوئی سبزی یا پھل  باہر سے منگوایا جاتا ہو تقریباً تمام ملک کے اندر پیدا ہوتے ہیں،

مقامی پیداوار ہے، پھر اچانک ہر روز ان کو پر کیوں لگ جاتے ہیں؟  سرکاری اہل کار چند ایک دوکانداروں کو جرمانے کر کے بری الذمہ ہو جاتے ہیں۔ دکاندار وہ جرمانہ گاہکوں سے وصول کر لیتے ہیں سرکاری اہل کار جرمانے کر کے دیہاڑیاں نہ لگائیں ان منافع خوروں کا محاسبہ کریں جو ان عوام دشمنوں سے روزانہ کی بنیاد پر بھتہ وصول کرتے ہیں عوام ان شاء اللہ کورونا سے بچ جائیں گے لیکن ناجائز تجاوزات مافیا، ناجائز منافع خور مافیا اور حکومت کو سب اچھا کی رپورٹ دینے والے ظالموں سے بچنا مشکل ہے حکومتی ذمہ داروں کو عوام کے لئے ریلیف مہیا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے شاید منافع خوروں اور کرپٹ مافیا کے چند ساتھی اپوزیشن کے ساتھ ملے ہوئے ہیں کہ حکومت کے افسر جلسے جلوسوں کی طرف نگاہ رکھیں اور وہ عوام کو لوٹتے رہیں ایک کریانے کی دوکان پر سودا سلف لینے گیا جہاں چند دن پہلے انڈے 110 روپے درجن تھے اب دو سو سے اوپر جا کر واپس 152کے لگ بھگ ہو گئے ہیں اور ضرورت مند خرید رہے ہیں عوام پر ظلم یہ ہے کہ ہر ریڑھی والے، دکاندار، فروٹ فروش، تجاوزات کرنے والے کو سرکاری اہل کار 30 روپے کی لسٹ فروخت کرتا ہے، اندازہ لگائیں لاہور میں روزانہ کتنی لسٹیں فروخت ہوتی ہوں گی اور ان لسٹوں کی آمدنی کس کی جیب میں جاتی ہے؟ مگر کسی بھی جگہ پر اس لسٹ کے مطابق کوئی چیز نہیں ملتی کسی دکان پر جائیں لسٹ موجود ہے، لیکن ریٹ ان کی مرضی کا جو چیز لسٹ میں مہنگی ہو وہ لسٹ کے مطابق مثلاً انڈے، ڈبل روٹی وغیرہ شنید ہے یہ لسٹ ہر منڈی میں ایک مڈل پاس میٹرک پاس بندہ تیار کرتا ہے اس وقت تمام بڑے بڑے آفیسر خواب استراحت کے مزے لے رہے ہوتے ہیں ہر دور میں عوام پر اسی طرح ظلم و ستم ہوتا ہے بس نعرے بدل جاتے ہیں اور نعرے لگانے والے افراد تبدیل ہو جاتے ہیں جب حکومت پٹرولیم مصنوعات سستی کرتی ہے تو ان کا ملنا مشکل ہو جاتا ہے جب پٹرولیم مصنوعات مہنگی ہوتی ہیں تو ہر چیز کو مہنگائی کے پر لگ جاتے ہیں دکاندار پٹرول مہنگا ہونے کی دہائی دینا شروع کر دیتا ہے اور بسوں کے کرایوں میں اضافہ ہو جاتا ہے۔رکشا ٹیکسی کے کرائے بھی بڑھ جاتے ہیں۔

 دنیا کے تقریباً تمام ملکوں میں قومی و مذہبی تہواروں و دیگر زمینی و آسمانی آفات کے موقع پر تاجر اپنے لوگوں کو خصوصی ریلیف دیتے ہیں لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں ان موقعوں پر بھی عوام کو ریلیف دینا تو در کنار اُلٹا مصنوعی مہنگائی کر کے انتہائی دیدہ دلیری سے من مانے دام وصول کئے جاتے ہیں۔  اس امر سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہمارے ہاں مہنگائی مافیا بہت طاقتور ہے۔ وہ  سرکار کو خاطر میں لائے بغیر  بلا خوف و خطر کبھی تبدیلی اور کبھی کورونا کی آڑ میں عوام کا خون پی رہاہے۔ان لوگوں کو اس  امر کا ادراک نہیں کہ ایسے موقعوں پر اپنے لوگوں کو جائز ریلیف دے کر آپ ان کی دلجوئی کا سامان پیدا کر سکتے ہیں آپ کا یہ عمل اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبول ہو گا ہمیشہ لوگوں میں آسانیاں بانٹو اور اگر آپ دکھی انسانیت کی مدد نہیں کر سکتے تو کم از کم انہیں مصنوعی مہنگائی میں جکڑ کر اذیت مت دو یہاں یہ امر حکومت کی توجہ کا متقاضی ہے کہ وہ ایسے ذخیرہ اندوزوں اور مصنوعی مہنگائی کر کے  پہلے ہی کٹھن اور مشکل ترین زندگی گزارنے والوں کی مشکلات میں اضافہ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرے ان کی سزاؤں کے قوانین مزید سخت کر کے ان کا موثر نفاذ کرے۔

مزید :

رائے -کالم -