پاکستانی سیاست یا الزامات کی پٹاری

پاکستانی سیاست یا الزامات کی پٹاری
پاکستانی سیاست یا الزامات کی پٹاری

  

پی ڈی ایم کی ریلی الیکشن کمشن اسلام آباد کے سامنے دھواں دھار تقریروں کے بعد اختتام کو پہنچی۔ ایک اور وارننگ دیدی گئی اور کچھ نئے الزامات کی پٹاری بھی کھلی، الیکشن کمشن نے بیان جاری کر دیا کہ وہ کسی کے دباؤ میں نہیں آئے گا۔ وزیروں نے اپنا جوابی غبار نکلا اور مختلف بیانات کے ذریعے اس ریلی کو ناکام ثابت کرنے کی کوشش کی۔ کسی طرف سے بھی ایسا کوئی اشارہ نہیں ملا کہ اس کھینچا تانی، اس رسہ کشی کے خاتمے کے لئے کوئی مضطرب ہو۔ سب کا رویہ وہی ہے جو تماشائیوں کا ہوتا ہے کہ کھیل جاری رہے، تفریح ملتی رہے اور وقت گزرتا جائے۔ ایک خطرناک بات یہ ہوئی کہ تقریروں میں خوفناک دھمکیوں کا مصالحہ شامل کر دیا گیا۔ مولانا فضل الرحمن اور محمود خان اچکزئی نے شاید جھنجلاہٹ میں ایسی باتیں کیں جو کم از کم سیاسی جدوجہد کے زمرے میں تو نہیں آتیں۔ پہلی بار وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے اچھی بات کہی کہ مولانا فضل الرحمن، پی ڈی ایم کے بیانیئے اس طرف نہ لے جائیں جہاں حکومت بھی کچھ نہ کر سکے اور معاملہ سیاسی قوتوں کے ہاتھوں سے نکل جائے۔

میں پھر کہوں گا خرابی ہمارے قومی اداروں کی ہے کہ وہ بروقت فیصلے نہیں کرتے۔ اب یہ فارن فنڈنگ کیس پچھلے چھ برسوں سے الیکشن کمشن میں پڑا ہے۔ حکومتیں بدل گئیں، الیکشن کمشن کے چیف بدل گئے مگر اس کا فیصلہ نہیں ہو سکا۔ جب یہ صورتِ حال پیدا ہوتی ہے تو کبھی نہ کبھی لاوے کی شکل بھی اختیار کر لیتی ہے۔ آج یہ معاملہ سڑکوں پر آ گیا ہے، تحریک کا باعث بن گیا ہے۔ نجانے کیا خرابی ہے کہ ہمارے بعض ادارے معاملات کو حل کرنے کی بجائے ان پر پہرہ دیتے ہیں کہ کہیں وہ حل نہ ہو جائیں الیکشن کمشن نے یہ تو کہہ دیا ہے کہ وہ کسی کا دباؤ قبول نہیں کرے گا مگر اس کا وہ کیا جواب دے گا کہ چھ سال تک ایک کیس کو کس وجہ سے دبا کر بیٹھا ہے۔ اگر سکروٹنی کا مرحلہ ہی سالہا سال تک چلتا رہے تو کیسی سکروٹنی اور کہاں کا انصاف؟ انتخابی عذر داریوں کے فیصلے بھی برسوں تک معطل رہتے ہیں حتٰی کہ منتخب رکن کی مدت پوری ہو جاتی ہے۔ صاف نظر آتا ہے کہ الیکشن کمشن کی ترجیحات بحران کا شکار ہیں ایک انتخاب سے دوسرے انتخاب تک الیکشن کمشن کا سارا عرصہ تقریباً فراغت میں گزرتا ہے، کبھی کبھار کوئی ضمنی انتخاب آ جائے تو اس کا انعقاد کرانا پڑتا ہے۔ پھر سوال یہ ہے کہ فارن فنڈنگ کیس کو اتنا لٹکایا کیوں جا رہا ہے۔ اگر اس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ الیکشن کمشن جانبداری کا مظاہرہ کر رہا ہے تو اس میں کیا غلط ہے۔

قابل غور نکتہ یہ ہے کہ الیکشن کمشن نے جو فیصلہ کرنا ہے اس نے فوراً نافذ نہیں ہو جانا بلکہ اس کے لئے سپریم کورٹ سے رجوع کرنا پڑے گا۔ اگر اس میں نا انصافی ہوتی ہے تو سپریم کورٹ اس کا ازالہ کرے گی، پھر ایک معاملے کو اس قدر طول دینے کی کیا ضرورت ہے سوائے اس کے الیکشن کمشن اسے یکسو نہیں کرنا چاہتا۔ مریم نواز نے اس ریلی میں جو چارج شیٹ پڑھ کر سنائی اس میں دو سنگین الزام لگائے کہ تحریک انصاف کو اسرائیل اور بھارت سے فنڈنگ ہوئی، انہوں نے نام بھی بتائے جنہوں نے مبینہ طور پر رقوم بھیجیں۔ اس سے بھی آگے جا کے انہوں نے کہا بھارت کی فنڈنگ کے پیچھے نریندر مودی کا ہاتھ تھا، اسی لئے اس کے انتخابات میں جیتنے کو خطے کے امن کی ضرورت قرار دیا گیا اور پھر اس فنڈنگ کی وجہ سے نریندر مودی کو مقبوضہ کشمیر میں کھلی مداخلت اور اس کی خود مختار حیثیت کو ختم کرنے کی جرأت ہوئی۔ اب یہ بہت سنگین الزامات ہیں یہ کتنی بڑی بدقسمتی ہے کہ ہمارے سب سے بڑے عہدے پر بیٹھے ہوئے شخص کو بھارت نوازی کے الزامات کا سامنا رہتا ہے، جب نوازشریف وزیر اعظم تھے تو انہیں مودی کا یار کہہ کر ان کی حب الوطنی پر شک کیا جاتا تھا۔

مودی نجی دورے پر جاتی امراء آئے تو ہر طرف تشویش کی لہر دوڑ گئی۔آج تک کسی بھارتی وزیراعظم پر یہ الزام نہیں لگا کہ وہ کسی پاکستانی وزیراعظم کا آلہ کار بنا ہوا ہے۔ یہ الزام صرف پاکستانی وزیراعظم پر ہی لگتا ہے اور اس کی تاریخ بہت پرانی ہے کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ہماری سیاست میں کسی کو عوام کی نظروں سے گرانے کے لئے اس کے سوا کوئی راستہ نہیں کہ اسے بھارت کا یار ثابت کیا جائے۔ مریم نواز کل تک اس الزام پر اپنا دفاع کرتی تھیں کہ نوازشریف نے بغیر ویزے کے نریندر مودی اور اس کے ساتھیوں کو بلا کر ملک کی سلامتی اور اقتدار اعلیٰ کو نقصان پہنچایا۔ وہ اسے جھوٹ اور من گھڑت قرار دیتیں، حالانکہ اس میں تو کسی کو شک تھا ہی نہیں کہ نریندر مودی پاکستان آئے اور جاتی امرا گئے۔ دوسری طرف فارن فنڈنگ میں بھارت سے آنے کے صرف الزامات ہیں جو ابھی ثابت نہیں ہوئے مگر عمران خان کو ملزم نہیں بلکہ ”مجرم“ کہہ رہی ہیں۔

ہماری سیاست نجانے ان الزاماتی ہتھکنڈوں سے کب نکلے گی۔ اب تو ہمارے سیاستدانوں کو اتنا بالغ ہو جانا چاہئے کہ دوسرے کو غدار قرار دینے کی رسمِ بد ختم کر دیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آج تک پاکستان میں کسی سیاستدان نے ملک سے غداری کا سوچا بھی نہیں۔ جمہوریت کی بات کرنے والوں کو بھی وطن عزیز میں غداری کا تمغہ پہنایا جاتا رہا۔ کوئی بھی بات ہو بھارت کا حوالہ ضرور درمیان میں آجاتا ہے۔ پی ڈی ایم جمہوریت کو مکمل طور پر آزاد کرنے کی بات کرے تو کوئی وزیر یا مشیر یہ ضرور کہے گا کہ یہ تو وہی بیانیہ ہے جو بھارت کا ہے۔ نوازشریف نے ووٹ کو عزت دو کی بات شروع کی اور ان پر بھی یہ لیبل لگ گیا کہ وہ فوج کے خلاف وہی کچھ کر رہے ہیں جو بھارت کا میڈیا اور ”را“ کر رہی ہے۔ اب جواب آں غزل کے طور پر عمران خان پر بھی بھارت نوازی کے الزامات لگائے جا رہے ہیں حتٰی کہ یہ تک کہا جا رہا ہے انہوں نے الیکشن سے پہلے بھارت سے فنڈنگ کروائی اور بقول مریم نواز کے جو پیسے دیتا ہے وہ کام بھی لیتا ہے کیا یہ سلسلہ کہیں رکے گا بھی؟

مزید :

رائے -کالم -