نواز شریف کی یاد تو آتی ہوگی۔۔۔!

نواز شریف کی یاد تو آتی ہوگی۔۔۔!
نواز شریف کی یاد تو آتی ہوگی۔۔۔!

  

قارئین! میں ایک طالب علم ہوں اور پہلی مرتبہ میری یہ تحریر کسی جگہ شائع ہورہی ہے، اس کے پیچھے  محرک احمد فراز کا یہ شعر ہے

شکوہ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا

اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے

یہ تحریر آج ایسی ہی ایک شمع جلانے کی کاوش ہے جس کی روشنی میں شاید کسی کو سوچ کا نیا زاویہ اور موجودہ ابتر حالات سے بغاوت کرنے کا حوصلہ مل سکے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب کسی مرد حق نے اس کرہ ارض پر کوئی مثبت تبدیلی لانا چاہی یا خلق خدا کی خدمت کے لئے کوئی عملی قدم اُٹھایا تو مخالف قوتوں نے ہمیشہ اس کے راستے میں کانٹے بچھائے اور اس کا خمیازہ ہمیشہ اسی زمین پر بسنے والے عام انسانوں کو بھگتنا پڑا۔۔۔

آج ملک عزیز کی یہ تباہ حال معیشت، بے روزگاری، مہنگائی، لوڈشیڈنگ، بڑھتے ہوئے بل، ضروریات زندگی سے محرومی ہمیں ایسے ہی ایک مرد مومن میاں محمد نواز شریف کی شدت سے یاد دلارہی ہے جس نے تین بار عوامی ووٹ سے منتخب ہوکر اس ملک پاکستان کی دن رات خدمت کی ۔ فقط میرے الفاظ نہیں بلکہ اس بات کی گواہی موٹروے، لیپ ٹاپ سکیم، میٹروبس سروس، اورنج ٹرین، ییلوکیب سکیم، یوتھ اسکالر شپ ، ماضی میں ملک سے دہشت گردی اور لوڈشیڈنگ کا خاتمہ، 2روپے کی روٹی اور کئی نئے ہسپتال اور کالج کررہے ہیں جو آج ہمیں مسلم لیگ ن کی مخلص قیادت کی یاددلارہے ہیں۔ افسوس تو یہ ہے کہ  ایک دن کرپشن کرپشن کا شور مچا کر ترقی کی راہ پر گامزن ہوئے اس ملک کی باگ ڈور میاں صاحب کے ہاتھ سے چھین لی اور وطن کو غربت و بدحالی کے کیچڑ میں دھنسنے کے لیے چھوڑ دیا گیا۔ نواز شریف کو تو کرپٹ کہہ کر نکال دیا مگر تین سال سے ملک جس اذیت کا شکار ہے اس کا قصور وار کون؟؟؟

جس دور میں لُٹ جائے غریبوں کی کمائی 

اُس عہد کے سلطاں سے کوئی بھول ہوئی ہے

ایسے میں پی ڈی ایم کا اس ظلم و زیادتی کے خلاف یک زبان ہوکر آواز اٹھانا قابل تحسین ہے۔ ہماری قوم کو شعور کے آئینے میں جھانک کر اب فیصلہ کرلینا چاہئے کہ وہ اسی تنگ دست اور بے حال معاشرے میں سانس لینا چاہتے ہیں یا پھر سے مُلک کو آگے بڑھتا دیکھنا چاہتے ہیں۔ وطن کی مٹی سے وفا کا تقاضہ یہ ہے کہ ہم ایک ہوکر اس جعلی حکومت کے عذاب سے خود کو اور خاص کر اپنی آنے والی نسلوں کو محفوظ کرلیں ورنہ کل شاید یہ مٹی ہماری لاش تک قبول نہ کرے گی۔! تو سوچ لیجئے۔۔۔ اور یقین کریں کہ محض ایک دیا اندھیروں کی نفی کرنے کو کافی ہوتا ہے۔ حوصلہ پیدا کریں گے تو راستے نکلیں گے وگرنہ یہ کالی رات یونہی قائم رہے گی۔۔۔

     نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں.

مزید :

بلاگ -