اسرائیل کو کسی کا باپ بھی تسلیم نہیں کرسکے گا، مولانا فضل الرحمان نے امریکی صدر سے بڑا مطالبہ کردیا

اسرائیل کو کسی کا باپ بھی تسلیم نہیں کرسکے گا، مولانا فضل الرحمان نے امریکی ...
 اسرائیل کو کسی کا باپ بھی تسلیم نہیں کرسکے گا، مولانا فضل الرحمان نے امریکی صدر سے بڑا مطالبہ کردیا

  

کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن )پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ(پی ڈی ایم) کے صدر اور جمعیت علمائے اسلام(ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اسرائیل کو کسی کا باپ بھی تسلیم نہیں کرسکے گا،فلسطینی بھائیوں کو واضح پیغام دیتا ہوں کہ پاکستانی قوم خون کے آخری قطرے تک آپ کے ساتھ کھڑے رہیں گے،جب تک فلسطین اور مسجد اقصی کو یہودیوں کے پنجے سے آزادی نہیں ملتی پاکستان اور دنیا کا کوئی مسلمان خاموش نہیں بیٹھے گا،اگر جوبائیڈن جمہوریت پسند ہےتو وہ بیت المقدس میں امریکی سفارت خانہ بنانےکےڈونلڈ ٹرمپ کےاعلان کو واپس لیں،پانچ فروری کو راولپنڈی میں کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کریں گے،عمران خان کو الیکشن کے لیے پیسہ دو دشمن ملکوں سے آیا،اسرائیلیوں نے بھی اس فنڈ میں حصہ ڈالا،جو کچھ کرلو میری آواز کرہ ارض کے کونے کونے تک پہنچ چکی ہے۔

کراچی میں اسرائیل نامنظور ملین  مارچ  سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ہم اس با ت کے پابند ہیں کہ اسرائیل کو تسلیم نہیں کریں گے،شاہ فیصل نے فرمایا تھا کہ تمام عرب اسرائیل کو تسلیم کرلیں ہم نہیں کریں گے،بانی پاکستان نے کہا تھا کہ اسرائیل نے مسلمانوں کی پیٹھ میں خنجر گھونپا،ہم کبھی اسرائیل کو تسلیم نہیں کریں گے،امتِ مسلمہ ان آوازوں کو بھولی نہیں،قرار داد پاکستان کا حصہ ہے کہ بانی پاکستان نے کہا یہودی فلسطینی زمینوں میں اپنی آبادیاں بنارہے ہیں اس عمل کو تسلیم نہیں کرتے،1949 کی قرار داد پاکستان کے قیام کی بنیاد ہے تو اسرائیل کو مسترد کرنے کی بھی بنیاد ہے،جب اسرائیل بنا تو پہلے وزیر اعظم نے اسرائیل کی خارجہ پالیسی کی بنیاد رکھی کہ دنیا میں ایک نوزائیدہ مسلم ملک پاکستان کو ختم کرنا ترجیح ہوگی،اسرائیل نے پاکستان کو ختم کرنا اپنی خارجہ پالیسی کی ترجیح رکھی،اس ملک کو تسلیم کرنا پاکستان کی وفاداری کیسے ہوسکتی ہے؟پاکستان کے غدار ہے تو اسرائیل کو تسلیم کریں گے اگر پاکستان کے وفا دار ہے تو اسرائیل کو تسلیم نہیں کریں گے،پاکستان نے سب سے پہلے اقوام متحدہ میں اپنا پہلا موقف فلسطین پر اسرائیل کے غاصبانہ قبضے پر دیا۔

انہوں نے کہا کہ جس کو خاتم النبینﷺ پڑھنا نہ آتا ہو وہ کہتا ہے کہ مجھے مولانا کہنا ظلم ہے،عجیب اتفاق ہے پاکستان میں حکومت کو نہیں ماننے کی تحریک چل رہی ہے ،ساتھ ہی اسرائیل کو بھی نہیں مانتے،حرمین شریفین کا تحفظ ہمارے ایمان کا حصہ ہے،سعودی عرب کے حکمرانوں اور عوام کو یقین دلاتے ہیں کہ حرمین شریف کے تحفظ کے لیے بچہ بچہ کٹنے مرنے کو تیار ہے،اب حرمین شریفین پر قبضہ کی سازش کررہے ہیں،جس طرح حکمرانوں نے کشمیر کو بیچ دیا۔اقتدار میں آنے سے قبل ہی کشمیر کی تقسیم کا فارمولا پیش کیا۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ حکمراں کشمیر فروش ہیں،عوام نے اجتماع عام سے دنیا کو پیغام دیا کہ فلسطین کی آزادی کے لیے فلسطینیوں کیں شانہ بشانہ رہیں گے،5 فروری کو کشمیریوں کے ساتھ راولپنڈی میں اظہار یک جہتی کریں گے،پی ڈی ایم کی قیادت 5 فروری کو کشمیریوں کے ساتھ اظہار یک جہتی کرے گی،پانچ فروری کے بعد کراچی سے حیدرآباد جائیں گے،کارکن اتنی گرمجوشی پیدا کریں کہ یہ حکمرانوں اس کے شعلوں میں بھسم ہوجائیں۔انہوں نے کہا کہ بڑا اعتراض ہے کہ مدرسہ کے طلبا جلسوں میں کیوں آتے ہیں؟طلبا عاقل و بالغ ہیں،جب تک کالج میں پڑھتے تھے تو مظاہروں میں شریک نہیں ہوتے تھے،طلبا اس ملک کے شہری ہیں،ملک پر کڑا وقت آیا تو یہ طلبا مورچوں میں جاکر ملک کا دفاع کریں گے،ملک سے وفاداری کوئی ہم سے سیکھے۔اُن کا کہنا تھا کہ  امریکا کا سفارتخانہ بیت المقدس میں کھولنا عالمی قوانین کے خلاف ہے،امریکا بیت المقدس میں سفارتخانہ کھولنے کا فیصلہ واپس لے ، جمہوریت پسند عوام کی رائے اور نظریے پر نظر رکھتے ہیں،اگر امریکا میں جمہوریت پسندوں کی حکومت ہے تووہ  فلسطینیوں کے حقوق کا احترام کرے،میرا ان سے مطالبہ ہے کہ وہ زبردستی قوموں پر اپنے فیصلے مسلط نہ کریں،اسرائیل متنازعہ علاقہ ہے،جوبائیڈن کشمیریوں کو ان کاحق خود اردایت  دلانے کے لیے کردار ادا کریں،فلسطین اور کشمیر کے عوام کی رائے کا احترام ہونا چاہیے۔

مزید :

قومی -