احتجاج براے زندگی 

احتجاج براے زندگی 
احتجاج براے زندگی 

  

وطن عزیز میں احتجاج کے نام سے ہر شخص واقف ہے، ہم نے جب سے ہوش سنبھالی ہے، احتجاج ہوتے دیکھے ہیں، کبھی مذہب کے نام پر احتجاج، کبھی مہنگائی کے خلاف احتجاج،لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج،امن و امان کی خراب صورت حال کے خلاف احتجاج،پولیس کی من مانیوں کے خلاف احتجاج، فیسوں میں اضافے کے خلاف احتجاج، سیاسی جماعتوں کے خلاف احتجاج، حکومتیں گرانے اور بنانے کے لیے احتجاج،یہاں تک کہ  بہت سے ایسے بھی احتجاج دیکھے ہیں جن کا کوئی مقصد ہی نہیں تھا……تو پھر کیوں نہ ہم ایک بامقصد احتجاج ترتیب دیں، زندگی کی بقاء کے لئے احتجاج کریں، اپنی آنے والی نسلوں کو بچانے کے لئے احتجاج کریں جس میں نہ کوئی توڑ پھوڑ ہو نہ سڑکیں بلاک ہوں، نہ کسی کو تکلیف ہو، تمام اہل وطن اپنے اپنے شہروں میں خالی جگہوں کا انتخاب کریں،میڈیا کو بلائیں،چند گھنٹوں کا احتجاج ریکارڈ کروائیں اور اپنے اپنے گھروں کو چلے جائیں۔اس احتجاج کو احتجاج برائے زندگی کا نام دیں،جس میں جعلی دودھ، جعلی ادویات، ناقص خوراک،گردآلود آ ب و ہوا،چمنیوں سے زہریلے دھویں کی شکل میں موت ا گلتی فیکٹریوں کے خلاف احتجاج،جس میں اساتذہ کرام،پولیس، ڈاکئے، جج،وکیل ڈاکٹر، مالی، جمعدار،کنٹریکٹر، ریڑ ھی بان،سبزی فروش، پراپرٹی ڈیلر،میڈیکل سٹور والے، درزی، لوہار، ترکھان، مستری،مزدور،پٹواری،تحصیلدار قانون گو ،اہلمد،نائب قاصد، ہا کر، آڑھتیے،منشی،ٹھیکیدار،زمیندار،مولوی، پادری،پنڈت، ملنگ،مالشیے،نون لیگی جیالے،دہاڑی دار،دہاڑی باز،فراڈیے، چور،ڈکیت رنگ باز،بینکر،منیجرز، سیکیورٹی گارڈ، چوکیدار،دھو بی،نائی، موچی، گدی نشین،تخت نشین،  اور زیادہ دیر تک زندہ رہنے کے خواہش مند افراد شریک ہوں جن کا ایجنڈا صرف اور صرف زندگی بچانا ہو۔

ایشیا سمیت ساری دنیا کا مطالعہ کرلیں، میرے خیال میں سب سے کم زندہ  رہنے والے لوگ پاکستان، ہندوستان میں پائے جاتے ہیں۔ کسی بھی ملک کی ترقی ناپنے کے لئے جہاں مختلف قسم کے پیمانے استعمال کیے جاتے ہیں، وہیں سب سے اہم پیمانہ یہ بھی ہے کہ وہاں کے شہری کتنی لمبی اور صحت مند زندگی گزارتے ہیں؟ اگر ہم تین چار دہائیاں پیچھے چلے جائیں تو پاکستان میں اوسط عمر ا سی سال کے قریب ہوا کرتی تھی جو  اب کم ہوتے ہوتے سا ٹھ سے پینسٹھ  سال پر آگئی ہے اور گزرتے وقت کے ساتھ اس میں مزید کمی آ رہی ہے،جبکہ اس کے برعکس اگر ہم بات کریں ایشیائی ملک جاپان کی تو اس میں کچھ سال قبل اوسط عمر چو راسی سال ہوا کرتی تھی جو اب بڑھ کر  پچانوے سال کے قریب ہو چکی ہے۔ جاپان میں اس وقت دو کروڑ کے قریب ایسے بزرگ موجود ہیں جن کی عمریں سو سال کے قریب ہو چکی ہیں، جبکہ وطن عزیز میں عمر میں تیزی سے کمی آرہی ہے، جس کی وجہ ناقص خوراک،گرد آلود آب و ہوا،حادثاتی اموات،غربت، افلاس اور  ذہنی وجسمانی تناؤ ہے۔

جاپانی شہریوں کی عمریں اتنی طویل کیسے ہوتی ہیں؟…… آج کے کالم میں ہم یہ جاننے کی کوشش کریں گے۔ جاپان کا شمار ایشیائی ممالک سمیت دنیا کے ترقی یافتہ ترین ممالک میں ہوتا ہے۔ جاپان میں لوگوں کی عمریں تو لمبی ہیں، لیکن وہ لمبی عمر کے ساتھ ساتھ صحت مند زندگی گزارنے میں بھی دنیا میں سرفہرست ہیں،جب جاپانی شہریوں کی صحت مند زندگی کی بات کی جاتی ہے تو وہاں پر کچھ ایسے عوامل ہیں جو انہیں زیادہ صحت مند اور توانا رکھتے ہیں، ان میں سب سے پہلے تو ان کی قوت مدافعت ہے۔ جاپانیوں میں مدافعت کا نظام بہت مضبوط ہے،جس کی وجہ سے انہیں بیماریاں بہت کم متاثر کرتی اور انہیں بڑ ھتی عمر کے ساتھ کمزور ہونے سے بچاتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کی آب و ہوا  بہت زیادہ صاف ستھری ہے،جو انہیں طویل عمر گزارنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔ یہ بات بالکل درست ہے کہ پاکستان کے لوگوں کی قوت مدافعت بھی بہت زیادہ مضبوط ہے،لیکن وہ قوت مدافت حادثاتی اموات عصابی تناؤ،گردآلود آب و ہوا کے سامنے گھٹنے ٹیک دیتی ہے، اسی وجہ سے ہمارا مدافعتی نظام بھی ہمیں طویل عمر گزارنے میں مدد گار ثابت نہیں ہوتا۔ دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ جاپان میں نہانے اور پینے کے لئے سارا سال  گرم پانی کا استعمال کیا جاتا ہے جو انہیں بہت سی بیماریوں سے تحفظ فراہم کرتا ہے، جبکہ ہم ٹھنڈے پانی کا استعمال بہت شوق سے کرتے ہیں۔جاپانی کہاوت ہے کہ اگر ٹھنڈا پانی آپ کو جوانی میں نقصان نہیں پہنچاتا تو بڑھاپے میں آپ کو بہت زیادہ نقصان پہنچائے گا۔

میرے ایک قریبی دوست چودھری ندیم وڑائچ  ایک عرصے سے کوریا میں مقیم ہیں،انہوں نے ایک کورین خاتون سے شادی بھی کی ہوئی ہے،وہ چند سال قبل میرے گھر میں کچھ روز کے لئے مہمان رہے۔ انہوں نے ہمارے کھانوں کو پسند کیا، لیکن تیسرے دن سے  ہماری بھابھی محترمہ نے خود سے اپنے ذائقے کے مطابق کھانا تیار کرنا شروع کر دیا۔یہ  جان کر بہت حیرانی ہوئی کہ ان کے کھانوں میں کوکنگ آئل، مرچیں،نمک اور چینی کا استعمال نہیں ہے  اور  نہ ہی یہ ٹھنڈا پانی پیتے ہیں۔ مزید یہ جان کر اور حیرانی ہوئی کہ کورین  لوگوں کی زیادہ تعداد سو سال سے بھی زیادہ زندہ رہتی ہے۔ گپ شپ سے معلوم ہوا کہ آئل، چینی اور نمک عمر کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔اس لئے اب ہمیں خود ہی احتجاج کرنا ہوگا اپنے چسکو ں والے کھانوں کے خلاف،اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہم اپنی اوسط عمر کو اوپر لے جائیں تو ہمیں اپنے کھانوں سے گھی، چینی، نمک اور مصالحہ جات کو کم کرنا ہوگا،بازاری اشیاء کا استعمال کم سے کم کرنا ہو گا ہوٹل سے  کھانا بند کرنا ہوگا فاسٹ فوڈ  کا بائیکاٹ کرنا ہوگا سوڈا واٹر کو مکمل طور پر زندگی میں بین کرنا ہوگا شاید اس معاملے میں حکومت بھی ہمارا ساتھ دے دے اور فوڈ اتھارٹی کو خیال آ جائے کہ قوم کے پیسوں سے لی گئی تنخواہوں کو حلال کر کے کھانا ہے اور وہ کوئی ایسا گرینڈآپریشن تشکیل دے دیں  کہ جعلی دودھ،ادویات، ناقص خوراک تیار کرنے والے اداروں اور لوگوں کو پکڑیں  ان کے خلاف سخت سے سخت کارروائی عمل میں لائیں  انہیں قرار واقعی سزا دلوائیں  اگر ایسا نہ کیا گیا تو یہ بدبخت اپنے چند روپوں کی خاطر ہماری نسلیں ختم کر دیں گے،اللہ کریم آپ اور آپ کے اہل خانہ کو اپنے حفظ و امان میں رکھے، آمین۔

مزید :

رائے -کالم -