جانشین پیغمبرﷺ ،یارِغارومزار، ثانی اثنین،حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ

جانشین پیغمبرﷺ ،یارِغارومزار، ثانی اثنین،حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ ...
جانشین پیغمبرﷺ ،یارِغارومزار، ثانی اثنین،حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ

  

نام عبداللہ رضی اللہ عنہ، ابوبکر کنیت اور عتیق و صدیق لقب تھا والد کا نام عثمانؓ اورکنیت ابو قحافہ تھی ، والدہ ماجدہ کا نام سلمیٰؓ اور کنیت ام الخیر تھی۔نسب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ قریش کی ایک شاخ تیم سے تعلق رکھتے تھے. والد کی طرف سے شجرۂ نسب یہ ہے عبداللہ بن عثمان بن عامر بن عمرو بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ بن کعب بن لوی بن غالب بن فہر بن مالک بن نضر بن کنانہ اور والدہ کیطرف سے نسب سلمٰی بنت صخر بن عمرو بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ بن کعب بن لوی بن غالب بن فہر بن مالک بن نضر بن کنانہ ...

حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے والد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ابو قحافہ  اور والدہ حضرت سلمٰی  رضی اللہ عنہ اُم الخیر دونوں کو حضور نبی کریم  ﷺ کے صحابی و صحابیہ ہونے کا شرف حاصل ہے۔حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی فطرت شروع سےہی سلیم تھی چنانچہ آپ رضی اللہ عنہ کو اسلام سے پہلے بھی بت پرستی سے نفرت تھی اور شراب نوشی کو بُرا جانتے تھے ۔

جلال الدین سیوطی نے تاریخ الخلفآء میں ابو نعیم کے حوالے سے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا کا یہ قول نقل کیا ہے  کہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عہد جاہلیت میں بھی شراب اپنے اوپر حرام کر رکھی تھی ۔۔۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر جب پہلی وحی نازل ہوئی تو حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اس وقت تجارت کی غرض سے یمن گئے ہوئے تھے، واپس آئے تو سرداران قریش سے سنا کہ آپ ﷺ  نے دعوی نبوت فرمایا ہے یہ سن کر دل تڑپ اٹھا، سیدھے خدمت نبویﷺ  میں حاضر ہوئے، آپ رضی اللہ عنہ مشرف با سلام ہوئے۔۔ آنحضرت ﷺ  نے ایک مرتبہ فرمایا کہ میں نے جس کسی کے سامنے اسلام پیش کیا اس نے تھوڑی بہت جھجک ضرور محسوس کی لیکن جب حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے سامنے اسلام پیش کیا تو انہوں نے بغیر جھجک کے اسلام قبول کر لیا۔۔۔

ترمذی میں روایت ہےکہ ایک مرتبہ آپ ﷺ  نے ابوبکر (رضی اللہ عنہ) کو دیکھا تو فرمایا انت عتیق من النار  تم اللہ کی طرف سے دوزخ سے آزاد ہو ،اس وقت سے ان کا لقب عتیق پڑ گیا ،  اسی طرح طبقات ابن سعد میں حضرت سیدنا ابوھریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہےکہ آنحضرتﷺ  نے شب معراج میں جبریل آمین علیہ السلام سے پوچھا کہ میری قوم میں اس واقعہ کی تصدیق کون کرے گا تو انہوں نے عرض کیا ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کی تصدیق کریں گے ، اس دن سے آپکا لقب عتیق کے ساتھ صدیق بھی پڑ گیا۔۔۔

اصابہ اور اسدالغابہ میں روایت ہےکہ آپ رضی اللہ عنہ بڑے پیمانہ پر کپڑے کی تجارت کرتے تھے اسی سلسلہ میں  شام ویمن کے متعدد اسفار کر چکے تھے ۔حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ عقل و فہم ، اصابت رائے حلم وبردباری میں مشہور تھے علم الانساب والاخبار کے ماہر تھے ، اسلام سے قبل ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے دوستی تھی ،اسلام کے بعد یہ تعلق اسی قدر گہرا ہو گیا۔۔ بخاری شریف میں روایت ہےکہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں ہم پر کوئی دن ایسا نہیں گزرا جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر صبح وشام نہ آئے ہوں۔۔۔

آپ رضی اللہ عنہ نے آغازِ اسلام سے ہی دینِ متین کی دعوت وتبلیغ فرمائی اور قبولِ اسلام کی وجہ سے ان غلاموں کو جن کو اسلام کی پاداش میں مصائب وشدائد کا سامنا تھا انہیں آزاد بھی فرماتے۔۔۔ آپ کی یہ فیاضیاں خالصتہً لوجہ اللہ تھیں۔ ایک مرتبہ ان کے والد حضرت عثمان ابو قحافہ رضی اللہ عنہ نے کہا ابوبکر رضی اللہ عنہ بیٹے!تم زیادہ تر عورتوں اور ان میں بھی بوڑھوں لاغر و کمزور لوگوں کو خرید کر آزاد کرتے ہو، بھلا یہ تمہارے کس کام آئیں گے؟ اگر ان کی بجائے تم تندرست وتوانا غلام مردوں کو خرید کر آزاد کرو تو کبھی وقت پڑنے پر وہ تمہاری مدد کر سکتے ہیں ۔۔۔حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا ابا جان! میں تو یہ سب کچھ اللہ تعالی رضاوخوشنودی اور انعام خداوندی حاصل کرنے کیلئے کرتا ہوں۔ ۔۔

سورت اللیل کی آخری آیات حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے اس قول کی تائید اور انکے شان ومنقبت کا واضح اظہار کرتی ہیں ۔

حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جن اسلام لائے تھے تو ان کے پاس چالیس ہزار درہم تھے لیکن جب ہجرت کر کے مدینہ پہنچے تو صرف پانچ ہزار درہم رہ گئے باقی، سب اللہ کے راستے میں خرچ کر دیئے اور جس دن حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی رحلت کے دن ایک درھم بھی باقی نہ رہا ۔۔سب راہِ خدا میں خرچ فرما چکے تھے۔ ۔ 

ایک مرتبہ آپ ﷺ  نے ارشاد فرمایا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے مال نے مجھ کو جو نفع پہچانا ہے کسی اور کے مال نے اتنا نفع نہیں پہنچایا ، (ترمذی )

ایک دوسرے موقع پر آنحضرت ﷺ  نے بہت زیادہ امتنان وتشکر کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا بیشک جان ومال کے لحاظ سے ابوبکر (رضی اللہ عنہ) سے زیادہ مجھ پر کسی اور کا احسان نہیں ہے اس پر حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ رونے لگے اور عرض کیا یارسول اللہ ﷺ  ! یہ جان اور مال کیا کسی اور کیلئے ہے ؟؟؟(کنزالعمال)

سفر ہجرت میں حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی قسمت کے کیا کہنے رفیق غارثور ہونے کی سعادت نصیب ہوئی، آپ ﷺ  کیساتھ تین دن اور تین راتیں غارثور میں گزار کر مدینہ منورہ پہنچنے کا اعزار حاصل ہوا ، عقد مواخات میں حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو حضرت خارجہ بن زید انصاری (رضی اللہ عنہ) جو مدینہ کے قریب مقام سخ میں قیام رکھتے تھے اور تجارت پیشہ تھے ان کا بھائی بنایا ۔

مسجد نبویﷺ  کیلئے جب جگہ خریدی گئی تو اس قطعہ زمین کی قیمت بھی حضرت سیدنا صدیق اکبر  رضی اللہ عنہ نے ادا فرمائی بلکہ سرور دوعالم ﷺ  کے ساتھ مسجد نبویﷺ  کی تعمیر بھی بھرپور حصہ لیا۔ غزوؤ بدر سے لیکر تمام غزوات میں آپ ﷺ  کے ساتھ برابر شریک رہے آپﷺ  کی محبت وعقیدت اطاعت واتباع میں اپنی شجاعت و دلیری کیساتھ لڑتے رہے ۔،

اسدالغابہ میں حضرت سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ غزوہ بدر کے دن حضرت ابوبکر صدیو رضی اللہ عنہ تلوار نیام سے باہر نکالے آنحضرت ﷺ  کا پہرہ دے رہے تھے جو کوئی حضور ﷺ  کی طرف بڑھتا حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اسکا تعاقب کرتے تھے ۔۔اس واقعہ کو بیان کرنے کی بعد حضرت سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں (فھو اشجع الناس) تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سب سے زیادہ بہادر انسان ہیں ۔۔۔ غروہ   تبوک کے موقع پر حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس جو کچھ تھا وہ حضور ﷺ  کے قدموں پر لا کر رکھ دیا حضور ﷺ  نے پوچھا ابوبکر (رضی اللہ عنہ)! تم نے اپنے گھر والوں کیلئے کیا چھوڑا؟؟ عرض کیا بس! میں نے ان کیلئے اللہ اور اس کے رسول ﷺ  کو چھوڑا ہے ، ابن عساکر نے سیدنا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے اس چندہ کی مقدار چار ہزار درہم بتائی ہے۔

9 ہجری میں سب سے پہلا موقع تھا کہ کعبتہ اللہ کو کفر وشرک کی ظلمتوں سے بالکل پاک و صاف کر دیا جائے اور ارکان حج سنت ابراھیی کے مطابق ادا ہوں۔ آنحضرت ﷺ  نے تین سو مسلمانوں کا ایک کارواں حج کیلئے روانہ فرمایا۔۔۔ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اس کاروانِ حج کی امیر الحج تھے۔۔حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے اپنے پانچ اونٹ بھی قربانی کیلئے ساتھ تھے ،10ہجری میں آنحضرت ﷺ  حج کیلئے تشریف لے گئے جس کو حجتہ الوداع بھی کہتے ہیں۔۔ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بھی اس سفر میں ہمرکاب تھے اور خصوصیت یہ تھی کہ آنحضرت ﷺ  کا سامانِ سفر حضرت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی اونٹنی پر تھا۔

آنحضرت ﷺ  کی رحلت کے بعد آپ ﷺ  کے جانشین ہونے کا شرف بھی حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو حاصل ہوا ۔۔۔اجماع امت کی سب سے بڑی مثال آپ رضی اللہ عنہ کی خلافت ہی ہے جس پر امت کا اتحاد واتفاق ضرب المثل ہے۔ 

حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں جیش اسامہ (رضی اللہ عنہ ) کی روانگی ،ارتداد و بغاوت کرنے والوں بالخصوص منکرین زکوہ کیخلاف علمِ جہاد اور اسی طرح مسلمہ کذاب اور اہل یمامہ سے اعلان جنگ کرتے ہوئے مسلمہ کذاب کو جھنم واصل کیا اور عقیدہ ختم نبوت ﷺ  کا تحفظ و دفاع کیا گیا۔ اسی طرح قرآن مجید کو کتابی شکل میں جمع کیا گیا یقیناً آپکا یہ کارنامہ پوری امت مسلمہ پر احسانِ عظیم ہے۔ اللہ تعالی اپنی شایانِ شان پوری امت کیطرف سے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو جزائے خیر عطا فرمائیں۔۔۔!!!

اتوار کا دن تھا ,جمادی الاخریٰ 13 ھ کی ساتویں تاریخ تھی, اس روز سردی شدید تھی, حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے غسل کیا اور اسکے بعد ہی بخار ہو گیا جو وفات کے روز تک مسلسل پندرہ دن چڑھا رہا۔ ضعف شدید ہو گیا.آپ رضی اللہ عنہ نے حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ نماز پڑھائیں ، حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیھم اجمعین کی مشاورت کے بعد امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کو اپنا جانشین نامزد فرمایا۔ 

آخر وقت زبان مبارک پر یہ دعا تھی  

رب توفنی مسلما والحقنی بالصالحین۔ 

اے رب تو مجھ کو مسلمان اٹھانا اور صالحین کے ساتھ میرا حشر فرمانا 

22جمادی الاخریٰ بروز دو شنبہ مغرب اور عشاء کے درمیان وفات پائی۔۔۔ وصیت کے مطابق آپکی بیوی سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنھا نے غسل دیا ۔ امیرالمومنین حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے نماز جنازہ پڑھائی اور پھر حضرت عمر ، حضرت عثمان ، حضرت طلحہ اور حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ تعالی عنھم نے قبر میں اتر کر اس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مرقد انور کے پہلو میں لٹا دیا کہ آپ کا سر حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے شانہ مبارک تک آتا تھا اللہ اکبر۔

آقائے وشہنشاہ کونینﷺ  کے ادب واحترام کا مرنے کے بعد بھی یہ اہتمام ہے کہ برابر نہ ہوں بجائے ہمدوش ہونے کے زیر سایہ دوش ہی ہو کر رہیں۔ رضی اللہ عنھم ورضو عنہ 

وفات کے وقت عمر 63 برس تھی مدت خلافت دو برس تین ماہ اور گیارہ دن ہے۔   یارِغارثور،یار مزار اقدس اور یار حوض کوثر ہونے کا شرفِ عظیم حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو حاصل ہے۔

مزید :

بلاگ -روشن کرنیں -