سپریم جوڈیشل کونسل اور حبیب وہاب الخیری کیس

     سپریم جوڈیشل کونسل اور حبیب وہاب الخیری کیس
     سپریم جوڈیشل کونسل اور حبیب وہاب الخیری کیس

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 گزشتہ ہفتے لکھا تھا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کا دائرہ اختیار ججوں کی جسمانی و ذہنی معذوری اور بدعملی (misconduct) تک محدود ہے اور یہ کہ ججوں پر دیگر تمام الزامات کے مقدمے عام ملکی قانون کے مطابق عام عدالتوں میں چلائے جائیں (جس کا نتیجہ جج کی برطرفی کی صورت میں بھی نکل سکتا ہے)اس پر کئی سینئر وکلاءنے یہ کہہ کر مجھ سے اختلاف کیا کہ میں نے آئین پڑھے بغیر اتنا بڑا دعویٰ کر ڈالا۔ ان وکلاءکہنا یہ ہے کہ سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کے کسی جج کو آرٹیکل 209 میں مذکور طریقے کے سوا نہیں نکالا جاسکتا(7) 209 ان کے خیال میں جج گویا وہ محفوظ اور مامون طبقہ ہے کہ جرم نام کی چیز اس کے قریب بھی نہیں پھٹکتی۔لہٰذا آرٹیکل 209 میں مذکور طریقے کے سوا اسے نہیں نکالا جا سکتا ہے کہ آئین یہی کہہ رہا ہے۔

اگر آئین بالوضاحت یہ کہہ رہا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کے بغیر کسی جج کو بر طرف نہیں کیا جا سکتا تو ہمیں کونسل کا دائرہ اختیار دیکھنا ہو گا جو جج کی جسمانی و ذہنی معذوری اور بد عملی کا جائزہ لینے ہی تک محدود ہے۔ کونسل صرف انہی تین امور میں سے کسی کو زیر بحث لا کر فیصلہ کرنے کی مجاز ہے۔ مزید وضاحت آرٹیکل (8)209 میں ہے کہ کونسل ججوں کے لئے ضابطہ کار(code of conduct) جاری کرے گی۔ پاسداری نہ کرنے پر جج کے خلاف کارروائی ہو گی۔ کونسل کا جاری کردہ ضابطہ کار لامحالہ طور پر محکمانہ، مختصر، محدود اور زیادہ تر اخلاقی نوعیت ہی کا ہو سکتا ہے۔ چنانچہ اس سوال کا جواب باقی ہے کہ کسی جج کے دیگر مبینہ جرائم کا کیا کیا جائے گا کہ جب کونسل کو تین امور کے سوا کسی اور سماعت کا اختیار ہی نہیں ہے۔

اصل نکتہ یہی ہے کہ کونسل کا دائرہ اختیار صرف انہی تین امور تک محدود ہے۔ دیگر تمام امور میں کونسل نہ تو جج کے خلاف کارروائی کر سکتی ہے، نہ استعفیٰ دینے پر اسے تحفظ دے سکتی ہے، نہ کسی محکمے کو اس کے خلاف کارروائی کرنے سے روک سکتی ہے۔ اگر ثاقب نثار یا کسی دیگر نے ایسے کیا ہے تو وہ ویسا ہی غلط ہے جیسے حبیب وہاب الخیری کیس سے قبل عدلیہ میں ججوں کی تقرریاں بغیر چیف جسٹس کی مشاورت سے ہوتی رہیں اور کبھی نوٹس ہی نہیں لیا گیا تاوقتیکہ جسٹس سجاد علی شاہ نے ایسی تمام تقرریاں خلاف آئین قرار دے کر 40 سے زائد ججوں کو معزول کر دیا۔ یوں اگلے سالوں میں عدلیہ کا نقشہ بدل کر رہ گیا۔ آج سپریم جوڈیشل کونسل میں مظاہر علی اکبر نقوی کا معاملہ بھی ایسا ہی ایک اور نقطہ آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔ اب ارکان کونسل نے اگر اپنے مقدس ادارے سے لگاوٹ والا فیصلہ دے کر ججوں کے دیگر تمام امور متعلقہ محکموں کو سونپ دیے تو ہماری عدلیہ سدرآلمنتہی کی طرف مائل بہ پرواز ہو جائے گی۔ اور فیصلہ لکھنے سے قبل اگر ارکان کونسل کی آنکھوں کے سامنے ساتھی ججوں کے چہرے اور مخصوص چیمبر جھلملانے لگے تو پاتال کی گہرائی عدلیہ کا مقدر بنے گی اور فیصلے کے کالے سائے ہم عوام کا مقدر ہوں گے۔

مسئلے کی جڑ یہ ہے کہ ہم عوام 77سال سے تمام ریاستی عہدے داروں کے اختیاراتی رعب اور دبدبے کے آسیب میں زندگی گزارتے رہے۔ کسی جج کے خلاف مقدمہ ؟ ناقابل ِ تصور! کسی جرنیل کے خلاف تو یہ سوچنا بھی جرم رہا۔ دیگر اعلیٰ حکومتی ملازم اگر کبھی قانون کی لپیٹ میں آئے تو اس کے اسباب سیاسی اور ہاتھیوں کی لڑائی کے سے رہے۔ ماضی میں ہمیشہ یہی دیکھا گیا کہ قانون کی لپیٹ میں عوام اور عوامی نمائندے ہی آتے رہے۔ رہا یہ خیال کہ آرٹیکل (8) 209 کہ تحت سپریم جوڈیشل کونسل کے طریق کار کے سوا کسی جج کو نہیں نکالا جا سکتا تو اس سے مراد یہ ہے کہ صرف جسمانی و ذہنی معذوری اور بد عملی کے امور (کونسل کا اختیار انہی تین تک محدود ہے) میں نہ تو پارلیمان کے ایکٹ کے ذریعے کسی جج کو نکالا جا سکتا ہے، نہ جج عام عدالتی کارروائی کا نشانہ بن سکتا ہے، حتیٰ کہ پارلیمان کے دونوں ایوان اتفاقِ رائے سے بھی ان تین امور میں کسی جج کو بر طرف نہیں کر سکتے۔

بھلا بتائیے کونسل کے اختیارات اس سے زیادہ کیوں کر ہو سکتے ہیں۔ ثاقب نثار کا ایک یہی جرم کیا اس کی پنشن ضبط کرنے کو کافی نہیں ہے کہ وہ چیف جسٹس ہو کر بھی بدنام زمانہ سیاست دان کی انتخابی مہم چلاتا رہا۔ کون سا معزز شخص ایسا رہا جو اس کی متعفن زبان کے شر سے محفوظ رہا۔ کل کو کوئی اور ایسا شخص منشیات کا کاروبار شروع کر دے اور کونسل اس کے ہم خیال ججوں سے معمور ہو تو آئین ایسے شخص کا کیا بگاڑ سکے گا۔ چنانچہ وقت آگیا ہے کہ کونسل خود کو صرف تین آئینی الزامات تک محدود رکھ کر عوام کے لئے یہ دروازہ کھلا چھوڑ دے کہ ہر جج کے ہر مبینہ جرم کے خلاف ہر متاثرہ شخص موثر بہ ماضی (retrospective) عدالتی چارہ جوئی کر سکے۔ یہ آئینی تشریح بھی وقت کا تقاضا ہے کہ ہر جج، ہر جرنیل، ہر ریاستی عہدے دار کے خلاف عام ملکی قانون کے تحت مقدمات قائم ہو سکتے ہیں۔ پھر ہم دیکھیں گے کہ ہر شخص سوچ سمجھ سمجھ کر قدم بڑھائے گا۔

چیف جسٹس نے عدالتی کارروائی ٹی وی پر براہ راست دکھا کر متعدد ”سینئر“ وکلاء کا وہ پول کھولا کہ کئی کو تو مدتوں سے عدالتی احاطے سے آگے جاتے دیکھا ہی نہیں گیا۔ وہ معززین تو کہیں غائب ہیں جو آئے دن جسٹس بندیال کے ساتھ چائے کی میز پر چیمبری فیصلوں سے ”فیض“ یاب ہوا کرتے تھے۔ اب جب بردوش ہوا کھلی عدالت میں سیاسی واویلے کی جگہ آئینی و قالونی دلائل مانگے جاتے ہیں تو ان لوگوں کی جائے پناہ یو ٹیوبر ہی رہ گئے ہیں جہاں ان کا سیاپا پست ذہنی سطح کے لوگ ہی سن سہہ سکتے ہیں۔ معمولی آئینی و قانونی ذوق رکھنے والوں کو متلی ہونے لگتی ہے۔

 رہے کینچلی بدل کر ڈنک مارنے والے چند معروف صحافی تو ان کی گزر اوقات ہی مقتدرہ مخالف رویے پر ہے، لیکن وہ جو کہتے ہیں نا کہ کچھ لوگوں کو طویل عرصے تک، چند ایک کو تھوڑی مدت تک اور دو ایک کو طویل مدت کے لئے بے وقوف بنایا جا سکتا ہے لیکن یہ نہیں کہ تمام لوگوں کو ہمیشہ کے لئے بے وقوف بنایا جا سکے۔ یہی وجہ ہے کہ بیشتر ”سینئر“ وکلا کے پول کھل رہے ہیں کیونکہ محترم چیف جسٹس کا اثاث البیت آئین اور قانون ہے اور ان سینئر وکلاءکی گزر بسر واویلے پر رہتی ہے۔ اللہ چیف کی حفاظت فرمائے تاہم ان سے ایک بار پھر کہوں گا کہ کفایت شعاری اگر عالمگیر انسانی عمل ہے تو جج سے الفاظ کی کفایت شعاری نہیں، کنجوسی مطلوب ہوا کرتی ہے۔ چیف کو یہ بات بار بار کہہ رہا ہوں۔ وما علینا الا البلاغ۔

مزید :

رائے -کالم -