ٹرمپ کا ’’بورڈ آف پیس‘‘ کیا ہے؟
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت نے ایک نئی عالمی تنظیم ’’بورڈ آف پیس‘‘ کے قیام کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد دنیا کے مختلف تنازعات کا حل بتایا جا رہا ہے، مگر اس کی رکنیت کی قیمت سن کر سفارتی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ نے کئی ممالک کو دعوت دی ہے کہ اگر وہ ایک ارب ڈالر نقد ادا کریں تو انہیں اس بورڈ میں مستقل رکنیت دی جائے گی۔ یہ بات اس تنظیم کے باضابطہ چارٹر میں دبھی رج ہے۔
بورڈ آف پیس کا مقصد کیا ہے؟
چارٹر کے مطابق، بورڈ آف پیس ایک ایسی بین الاقوامی تنظیم ہوگی جو:
تنازعات سے متاثرہ علاقوں میں استحکام لائے گی
قابلِ اعتماد اور قانونی طرزِ حکمرانی بحال کرے گی
دیرپا امن کو یقینی بنانے کی کوشش کرے گی
ابتدا میں اس بورڈ کا تصور غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے پیش کیا گیا تھا، تاہم چارٹر میں اس کے دائرۂ اختیار کو کسی ایک خطے تک محدود نہیں رکھا گیا۔
بورڈ کا سربراہ کون ہوگا؟
بورڈ آف پیس کے چیئرمین خود ڈونلڈ ٹرمپ ہوں گے، وہ امریکا کے نمائندے کے طور پر بھی خدمات انجام دیں گے۔ انہیں مکمل اختیار حاصل ہوگا کہ وہ ذیلی ادارے بنائیں، ختم کریں یا ان میں تبدیلی کریں۔
چیئرمین کو ہٹایا صرف استعفیٰ یا جسمانی/ذہنی نااہلی کی صورت میں جا سکے گا
چیئرمین کسی بھی قرارداد کو منظور یا مسترد کرنے کا حتمی اختیار رکھے گا۔ یعنی آخری فیصلہ بہرحال ٹرمپ ہی کا ہوگا۔
ایگزیکٹو بورڈ میں کون شامل ہے؟
وائٹ ہاؤس کے مطابق، ایگزیکٹو بورڈ میں سات طاقتور شخصیات شامل ہوں گی:
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
ٹرمپ کے خصوصی مذاکرات کار اسٹیو وِٹکوف
ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر
سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر
امریکی ارب پتی سرمایہ کار مارک رووان
ورلڈ بینک کے صدر اجے بنگا
نیشنل سکیورٹی کونسل کے رکن رابرٹ گیبریل
یہ بورڈ تنظیم کے عملی فیصلے کرے گا، مگر چیئرمین کی منظوری کے بغیر کچھ نہیں ہوگا۔
رکنیت کے اصول کیا ہیں؟
رکن ممالک کو امریکی صدر کی دعوت پر شامل ہونا ہوگا۔ ہر ملک کی نمائندگی اس کا سربراہِ مملکت یا حکومت کرے گا۔
عام رکنیت کی مدت تین سال ہوگی۔ لیکن اگر کوئی ملک پہلے سال میں ایک ارب ڈالر ادا کر دے، تو اس پر مدت کی کوئی حد لاگو نہیں ہوگی۔
ہر ملک کو ایک ووٹ ملے گا، مگرفیصلے اکثریت سے ہوں گے۔ ٹائی کی صورت میں چیئرمین ووٹ ڈالے گا، اور ہر فیصلہ چیئرمین کی منظوری سے مشروط ہوگا
کن ممالک کو شمولیت کی دعوت دی گئی ہے؟
چین
بھارت
روس
یوکرین
کینیڈا
مصر
ارجنٹینا
پاکستان
اردن
برازیل
متعدد یورپی، وسطی ایشیائی اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک
کون شامل ہو رہا ہے؟
ہنگری (وزیراعظم وکٹر اوربان)
متحدہ عرب امارات
کینیڈا (لیکن ایک ارب ڈالر دینے سے انکار)
دیگر ممالک جیسے آرمینیا، بیلاروس، قازقستان اور مراکش نے بھی شمولیت میں دلچسپی ظاہر کی ہے، مگر رقم دینے پر خاموشی ہے۔
کون شامل نہیں ہوگا؟
فرانس نے شرکت سے انکار کر دیا۔ جس پر ٹرمپ نے فوری طور پر فرانسیسی وائن پر بھاری ٹیرف لگانے کی دھمکی دے دی۔
یوکرینی صدر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ ’’روس کے ساتھ ایک ہی کونسل میں بیٹھنا بہت مشکل ہوگا‘‘
یہ بورڈ کب کام شروع کرے گا؟
چارٹر کے مطابق جیسے ہی تین ممالک تحریری رضامندی ظاہر کریں گے، بورڈ آف پیس نافذ العمل ہو جائے گا۔
