حافظ اسامہ عبدالکریم اور دینی سیاست
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کچھ لمحات ایسے ہوتے ہیں جو بظاہر ایک حلقے یا ایک انتخابی نتیجے تک محدود دکھائی دیتے ہیں، مگر درحقیقت وہ پورے سیاسی و فکری منظرنامے پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ حافظ اسامہ عبدالکریم کی بلا مقابلہ کامیابی بھی ایسا ہی ایک لمحہ ہے۔ یہ کامیابی محض ایک فرد کی جیت نہیں، بلکہ ایک سوچ، ایک نظریے اور ایک طرزِ سیاست کی فتح ہے۔ یہ اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ عوام اب روایتی سیاست، مفاداتی نعروں اور لبرل ازم کے نام پر مسلط کی گئی فکری یلغار سے بیزار ہو چکے ہیں اور وہ سیاست میں دیانت، اخلاق اور دینی اقدار کی واپسی چاہتے ہیں۔اسامہ عبدالکریم کی شاندار کامیابی کے پس منظر میں جہاں ان کے والدِ محترم سینیٹر ڈاکٹر حافظ عبدالکریم کی طویل جدوجہد، دیانت داری اور پاکیزہ کردار کارفرما ہے،وہاں پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی مجموعی سیاسی کارکردگی کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہی وہ اعتماد، عوامی پذیرائی اور سیاسی فضا تھی جس کے باعث اسامہ عبدالکریم بلا مقابلہ منتخب ہوئے، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ کردار، خدمت اور مؤثر سیاست جب یکجا ہوں تو کامیابی خود قدم چومتی ہے۔گزشتہ کئی دہائیوں سے پاکستان کی سیاست ایک مخصوص طبقے کے ہاتھوں یرغمال بنی رہی۔ اس طبقے نے سیاست کو خدمت کے بجائے کاروبار، اقتدار کے حصول کا ذریعہ اور ذاتی مفادات کے تحفظ کا ہتھیار بنا لیا۔ لبرل ازم کے خوشنما نعروں کے پیچھے دراصل ایسی سوچ پروان چڑھائی گئی جس نے دین کو سیاست سے الگ، مسجد کو پارلیمنٹ سے دور اور اخلاق کو اقتدار کے ایوانوں سے بے دخل کر دیا۔اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کرپشن، جھوٹ، وعدہ خلافی اور اخلاقی انحطاط سیاست کا لازمی جزو بن گیا۔ایسے ماحول میں حافظ اسامہ عبدالکریم جیسے دینی پس منظر رکھنے والے نوجوان رہنماء کی جیت ایک تازہ ہوا کا جھونکا ہے۔ یہ کامیابی اس بات کا اعلان ہے کہ سیاست صرف لبرل طبقے کی جاگیر نہیں،بلکہ دین دار، باکردار اور نظریاتی لوگ بھی اس میدان میں آ کر نہ صرف کامیاب ہو سکتے ہیں بلکہ عوام کے دل بھی جیت سکتے ہیں۔حافظ اسامہ عبدالکریم کی شخصیت محض ایک سیاست دان کی نہیں بلکہ ایک نظریاتی فرد کی عکاس ہے۔ ان کا دینی پس منظر قرآن و سنت سے وابستگی، اخلاقی تربیت اور سادہ طرزِ زندگی اس بات کی ضمانت ہے کہ ان کی سیاست اقتدار کے حصول کے لئے نہیں بلکہ خدمتِ خلق کے جذبے سے عبارت ہے۔ دینی طبقہ جب سیاست میں آتا ہے تو اس کے فیصلوں پر اللہ کا خوف غالب ہوتا ہے، اور جہاں خوفِ خدا ہو وہاں کرپشن، اقربا پروری اور ناانصافی پنپ نہیں سکتی۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ لبرل ازم کے نام پر سیاست میں جو تجربات کیے گئے، انہوں نے معاشرے کو فکری انتشار، اخلاقی بے راہ روی اور نظریاتی خلا کے سوا کچھ نہیں دیا۔ آزادیِ رائے کے نام پر مقدسات کی توہین انسانی حقوق کے نام پر خاندانی نظام پر حملے اور ترقی کے نام پر مغربی ایجنڈوں کی اندھی تقلید یہ سب اسی لبرل بیانیے کے ثمرات ہیں۔ سیاست میں اس سوچ کے غلبے نے ریاست کو اس کی نظریاتی بنیادوں سے دور کر دیا۔حافظ اُسامہ عبدالکریم کی کامیابی اس بیانیے کے خلاف ایک خاموش، مگر مضبوط عوامی ریفرنڈم ہے۔ عوام نے یہ پیغام دے دیا ہے کہ وہ اب ایسی سیاست چاہتے ہیں،جو ان کی دینی شناخت، تہذیبی اقدار اور معاشرتی روایات کی محافظ ہو۔ یہ جیت اس سوچ کی نفی ہے کہ دین اور سیاست دو الگ دنیائیں ہیں۔ درحقیقت، اسلامی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ بہترین سیاست وہی ہے جو دین کی اخلاقی بنیادوں پر استوار ہو۔
یہ بھی ایک اہم پہلو ہے کہ حافظ اسامہ عبدالکریم کی کامیابی بلا مقابلہ ہوئی جو اس بات کا ثبوت ہے کہ عوامی اعتماد کس قدر مضبوط تھا۔ بلا مقابلہ کامیابی دراصل سیاسی مخالفین کی اخلاقی شکست بھی ہوتی ہے، کیونکہ وہ عوامی تائید کے فقدان کے باعث میدان میں آنے کی ہمت ہی نہیں کر پاتے۔ یہ صورتحال اس بات کی علامت ہے کہ دینی سیاست کو اب عوامی قبولیت حاصل ہو رہی ہے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ حافظ اسامہ عبدالکریم کی جیت کو ایک فرد تک محدود نہ سمجھا جائے بلکہ اسے ایک تحریک، ایک دعوت اور ایک راستہ تصور کیا جائے۔ دینی طبقے کو چاہئے کہ وہ سیاست سے کنارہ کشی ترک کرے۔ برسوں تک یہ تاثر دیا جاتا رہا کہ سیاست ایک گندا کھیل ہے اور دین دار لوگوں کو اس سے دور رہنا چاہئے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ سیاست واقعی گندی ہوتی چلی گئی، کیونکہ میدان انہی لوگوں کے لئے خالی چھوڑ دیا گیا جن کے لئے اخلاق اور اقدار ثانوی حیثیت رکھتے تھے۔اگر دینی طبقہ سیاست میں آگے بڑھے، تو نہ صرف لبرل ازم کا فکری غلبہ ٹوٹے گا بلکہ سیاست کا مجموعی معیار بھی بلند ہو گا۔ دینی لوگ سیاست میں آئیں گے تو قانون سازی میں اخلاقیات، عدل اور سماجی انصاف کو فوقیت ملے گی۔ عوامی وسائل کو امانت سمجھا جائے گا، اقتدار کو آزمائش تصور کیا جائے گا اور سیاست کو عبادت کا درجہ دیا جائے گا۔حافظ اسامہ عبدالکریم کی جیت نوجوانوں کے لئے بھی ایک پیغام ہے۔ یہ پیغام کہ سیاست صرف دولت، خاندان یا طاقت کے بل بوتے پر نہیں جیتی جاتی، بلکہ کردار، نظریہ اور عوامی اعتماد بھی کامیابی کی کنجی ہو سکتے ہیں۔ یہ جیت اس سوچ کو تقویت دیتی ہے کہ دین دار ہونا کمزوری نہیں بلکہ ایک طاقت ہے ایسی طاقت جو عوام کے دلوں کو جوڑتی ہے۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ سیاست میں دینی لوگوں کی شمولیت کسی خاص طبقے کے خلاف نہیں، بلکہ ایک متوازن، اخلاقی اور نظریاتی سیاست کے قیام کے لئے ضروری ہے۔ یہ سیاست کسی پر قدغن لگانے کے لئے نہیں، بلکہ معاشرے کو بگاڑ سے بچانے کے لئے ہے۔ یہ سیاست نفرت کے بجائے اصلاح، تصادم کے بجائے مکالمہ اور انتشار کے بجائے وحدت کا پیغام دیتی ہے۔
حافظ اسامہ عبدالکریم کی کامیابی اس امر کی بھی متقاضی ہے کہ دینی سیاسی نمائندے خود کو اعلیٰ معیار پر پرکھیں۔ ان سے توقعات زیادہ ہوں گی ان کا احتساب سخت ہو گا اور ان کی لغزشیں زیادہ نمایاں ہوں گی،مگر یہی تو اصل امتحان ہے۔ اگر دینی لوگ اس امتحان میں سرخرو ہو گئے تو سیاست میں ایک مستقل اور مثبت تبدیلی کی بنیاد پڑ سکتی ہے۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ حافظ اسامہ عبدالکریم کی جیت سیاست میں دینی بیانیے کی واپسی کا نقطہ آغاز ہے۔ یہ ایک امید ہے، ایک راستہ ہے اور ایک چیلنج بھی۔ اُمید اس بات کی کہ سیاست بہتر ہو سکتی ہے، راستہ اس طرف کہ دین اور سیاست میں ہم آہنگی ممکن ہے اور چیلنج ان تمام قوتوں کے لیے جو لبرل ازم کے نام پر اس قوم کی نظریاتی اساس کو کمزور کرنا چاہتی ہیں۔اگر دینی طبقہ اس موقع کو پہچان لے اگر وہ آگے بڑھے، متحد ہو اور دیانت داری کے ساتھ سیاست کرے، تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان کی سیاست ایک بار پھر اخلاق، عدل اور خدمت ِ خلق کا استعارہ بن جائے گی۔
٭٭٭٭٭
