’میاں بیوی راضی تو کیا کرے گا قاضی‘ چائلڈ میرج ایکٹ کے تحت گرفتار ملزم کی ضمانت

’میاں بیوی راضی تو کیا کرے گا قاضی‘ چائلڈ میرج ایکٹ کے تحت گرفتار ملزم کی ...
’میاں بیوی راضی تو کیا کرے گا قاضی‘ چائلڈ میرج ایکٹ کے تحت گرفتار ملزم کی ضمانت

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ نے چائلڈ میرج ایکٹ کے تحت گرفتار ملزم کی ضمانت منظور کرلی۔

نجی ٹی وی’’ ایکسپریس نیوز‘‘ کے مطابق چائلڈ میرج ایکٹ کے تحت گرفتار ملزم محمد عرفان کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست پر سماعت جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے کی، جس میں عدالت نے ملزم کی 1  لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی ۔

دورانِ سماعت درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ملزم عرفان نے لڑکی کو اغوا ء کیااور گھر سے سونا و پیسے چوری کیے۔ اغواء ہونے والی لڑکی کی عمر 16 سال ہے۔

ملزم کے وکیل  نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ لڑکی نے ملزم سے کورٹ میرج کی ہے۔ مجسٹریٹ کے سامنے بیان ریکارڈ پر موجود ہے۔ کورٹ میرج کرنے والی لڑکی جڑواں بہنیں ہیں اور دوسری بہن کی 3 سال پہلے شادی ہو چکی ہے۔

جسٹس   ہاشم کاکڑ نے دوران سماعت ریمارکس دیئے کہ آپ فیملی ٹری نہ نکالیں،آپ چاہتے ہیں اُن کے خلاف بھی کارروائی ہو؟۔ بچی 3 بار مجسٹریٹ کے سامنے پیش ہو چکی ہے اور بیان میں واضح کر چکی ہے کہ مرضی سے شادی کی۔ جب میاں بیوی راضی ہیں تو کیا ایشو ہے۔

عدالت کے استفسار پر وکیل نے بتایا کہ ملزم جون 2025 سے گرفتار ہے۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے پوچھا کہ چائلڈ میرج ایکٹ کے تحت مقدمہ چلے گا،چائلڈ میرج ایکٹ کے تحت کتنی سزا ہے؟ جس پر پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ چائلڈ میرج ایکٹ کے تحت 16 سال 4 ماہ سزا ہے۔

بعد ازاں عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر  1 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی ۔