سب سے بڑی جنگ کا میدان… انسان کا اپنا ذہن ،شعور کو کپتان سمجھیں ، انسان پہلے اپنے اندر جیتتا ہے، پھر دنیا اس جیت کو ماننے پر مجبور ہو جاتی ہے
تحریر : رانا بلال یوسف
انسان کی زندگی اس لمحے بدل جاتی ہے جب اسے پہلی بار احساس ہوتا ہے کہ اصل جنگ دنیا سے نہیں اپنے ذہن سے لڑی جاتی ہے۔ ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ ہمارا مستقبل حالات لکھتے ہیں، حالانکہ سچ یہ ہے کہ اسے وہ خاموش ذہن ترتیب دیتا ہے جو ہماری آنکھیں موند لینے کے بعد بھی جاگتا رہتا ہے۔ کارل یونگ نے کہا تھا: ’’جب تک تم لاشعور کو شعور نہیں بنا لیتے، وہ تمہاری زندگی چلاتا رہے گا اور تم اسے قسمت کہو گے۔‘‘حقیقت یہی ہے کہ انسان کی پہلی فتح بھی ذہن میں جنم لیتی ہے، اور پہلی شکست بھی۔ذہن ہی وہ مقام ہے جہاں تقدیر کے دروازے کھلتے بھی ہیں اور بند بھی ہوتے ہیں۔باہر کی دنیا تو بعد میں بدلتی ہے۔
اندر کی یہی دنیا، جسے نیوروسائنس subconscious کہتی ہے، انسانی شخصیت کی اصل قوت رکھتی ہے۔ ڈاکٹر جوزف مرفی اپنی معروف کتاب The Power of Your Subconscious Mind میں لکھتے ہیں کہ انسان کا شعوری ذہن محدود ہے، جبکہ زندگی کی حقیقی سمت وہ لاشعوری ذہن طے کرتا ہے جو ہمارے جذبات، خوف، یادیں، امیدیں اور رویئے خاموشی سے سنبھالتا ہے۔ شعور کو اگر کپتان سمجھیں تو subconscious وہ بڑا اور طاقتور جہاز ہے جو اصل سفر کرتا ہے۔ کپتان صرف سمت بتاتا ہے، مگر لہروں کو چیرنے اور آگے بڑھنے کی پوری قوت subconscious کے پاس ہوتی ہے۔ ارادہ مضبوط ہو تو یہی قوت راستہ بناتی ہے، اور کمزور پڑ جائے تو انسان کو راستے سے ہٹا دیتی ہے۔
اسی مقام پر Self-belief انسان کی زندگی کا پہلا حکم نامہ بن جاتا ہے۔ نپولین ہل بتاتے ہیں کہ یقین اُس وقت اثر دکھاتا ہے جب انسان اپنے ذہن میں واضح ذہنی تصویر (clear mental picture) بنائے، اسے جذباتی قبولیت (emotional acceptance) کے ساتھ دل میں اُتارے، اور اس پر مسلسل بھروسہ (persistent belief) قائم رکھے۔ جب یہ تینوں عناصر لاشعور میں بیٹھ جائیں تو subconscious دلیل کے بجائے راستہ دکھانے لگتا ہے۔ Placebo effect اسی سچائی کی گواہی ہے کہ جب یقین لاشعور میں جڑ پکڑ لیتا ہے تو بدن میں بھی تبدیلی پیدا کر دیتا ہے؛ ذہنی دنیا میں تو اس کا اثر کہیں زیادہ گہرا ہوتا ہے۔ انسان پہلے اپنے اندر جیتتا ہے، پھر دنیا اس جیت کو ماننے پر مجبور ہو جاتی ہے۔
مگر یہی وہ مقام ہے جہاں آج کا پاکستانی نوجوان سب سے زیادہ زخمی کھڑا ہے۔ معاشی دباؤ، سماجی تقابل، خاندانی توقعات اور مستقل ناکامی کا خوف اس کے یقین پر مسلسل حملہ آور رہتے ہیں۔ صلاحیت موجود ہوتی ہے مگر خود اعتمادی ماند پڑ جاتی ہے، خواہش زندہ رہتی ہے مگر سمت دھندلا جاتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ subconscious اس کے اپنے خلاف پروگرامنگ شروع کر دیتا ہے۔ وہ شکست زندگی میں بعد میں کھاتا ہے، مگر اپنے ذہن میں بہت پہلے قبول کر چکا ہوتا ہے۔ یہی لمحہ فرد کی کمزوری کو اجتماعی بحران میں بدل دیتا ہے، کیونکہ قومیں اپنے نوجوانوں کی ذہنی دنیا سے ہی بنتی ہیں۔
شک وہ پردہ ہے جو آنکھوں پر نہیں، انسان کی اندرونی روشنی پر گرتا ہے۔ Cognitive-behavioral سائنس بتاتی ہے کہ مسلسل منفی سوچ دماغ کے عصبی راستوں کو بدل دیتی ہے۔ جب نوجوان ہر قدم’’لوگ کیا کہیں گے؟‘‘ یا ’’اگر ناکام ہو گیا تو؟‘‘کے خوف میں رکھتا ہے تو subconscious ایک ہی فیصلہ لکھ دیتا ہے: تم نہیں کر سکتے۔ یہ وہ خاموش قید ہے جس کی آواز باہر کوئی نہیں سنتا، مگر اندر بیٹھے ہر خواب پر اس کی جھنکار پڑتی ہے۔ یوں ایک پوری نسل ذہنی توانائی کے بغیر محض حالات کے رحم و کرم پر چلنے لگتی ہے، حالانکہ اصل قید اس کے ذہن کے اندر بند ہوتی ہے۔
تاریخ یہی بتاتی ہے کہ بڑے فاتحین کی قوت اصل میں انہی ذہنی اصولوں کی پیداوار تھی۔ یونانی مورخین لکھتے ہیں کہ سکندر اعظم کو بچپن سے سکھایا جاتا تھا کہ وہ دنیا کو فتح کرنے کے لیے پیدا ہوا ہے۔یہ عقیدہ اس کی جنگی صلاحیت سے زیادہ مضبوط تھا۔ عثمانی تواریخ میں درج ہے کہ سلطان محمد فاتح کے استاد نے اسے وہ حدیث دکھائی جس میں قسطنطنیہ کی فتح کی بشارت تھی اور کہا تھاکہ’’شاید تم وہ امیر ہو جس کی خبر دی گئی ہے۔‘‘یہ یقین توپوں سے زیادہ طاقتور ثابت ہوا کیونکہ فتح سب سے پہلے اس کے ذہن میں ہوئی تھی۔ بعد کے معرکے اسی ذہنی نقشے کی پیروی تھے۔
یہ محض تاریخی واقعات نہیں، انسانی نفسیات کی زندہ شہادتیں ہیں۔ دنیا کو فتح کرنے والے پہلے اپنے ذہن کو فتح کرتے تھے۔ جدید نفسیات اسےGoal-oriented subconscious alignment کہتی ہے، یعنی جب یقین مضبوط ہو جائے تو ذہن پوری توانائی اسی سمت میں لگا دیتا ہے۔ آج کا نوجوان بھی انہی اصولوں سے کامیاب ہو سکتا ہے، مگر اسے اس یقین کی تربیت نہیں دی گئی۔ وہ تاریخ کو کہانی سمجھ کر پڑھ لیتا ہے، حالانکہ تاریخ انسانی ذہن کی گواہی ہے، صرف جنگوں یا سلطنتوں کا بیان نہیں۔ جہاں یقین کمزور پڑ جائے، وہاں قومیں بھی کمزور ہو جاتی ہیں۔
یہی اصول آج کے دور کے بڑے چیمپئنز میں بھی اُسی طرح کام کرتا ہے۔ رونالڈو جب کہتا ہے ’’میں بہترین ہوں‘‘ تو یہ تکبر نہیں بلکہ ذہنی کنڈیشننگ ہے۔ محمد علی نے کہا تھا:I am the greatest, I said it even before I knew I wasشاہ رخ خان کی مثال بھی یہی بتاتی ہے کہ انسان پہلے اپنے ذہن میں اپنے آپ کا مقام متعین کرتا ہے، پھر دنیا اسے اسی مقام پر دیکھنے لگتی ہے۔ یقین ایک بیج ہے،اگر وہ دل میں جڑ پکڑ لے تو باہر کی دنیا خود اس کے مطابق ترتیب پاتی ہے۔ دنیا اکثر دیر سے مانتی ہے، مگر subconscious بہت جلد مان لیتا ہے۔
پاکستانی معاشرہ آج خوف اور بے یقینی کے درمیان جھول رہا ہے۔ ہم ذہین نوجوان پیدا کرتے ہیں مگر بااعتماد نوجوان نہیں۔ ہماری درسگاہیں ہنر تو دیتی ہیں، مگر ذہنی تربیت نہیں کرتیں۔ نتیجہ یہ کہ نوجوان اپنی قدر باہر ڈھونڈتے ہیں، اندر نہیں۔ ان کا کیرئیر خوف سے چلتا ہے، passion سے نہیں۔ ان کے خواب مایوسی میں ناپے جاتے ہیں، یقین میں نہیں۔ یہ سب indicators بتاتے ہیں کہ مسئلہ معیشت کا ضرور ہے، مگر بنیاد مائینڈ سیٹ کی کمزوری ہے۔ جب سوچ چھوٹی ہو جائے تو راستے بھی تنگ ہو جاتے ہیں، چاہے دنیا کتنی ہی وسیع کیوں نہ ہو۔
اگرچہ حقیقت تلخ ہے، مگر راستہ روشن ہے۔ subconscious کی پروگرامنگ بدلی جا سکتی ہے۔ ڈاکٹر مرپی، CBT اور جدید نیورو سائنس3 اصولوں پر متفق ہیں: تکرار، واضح ذہنی تصویر اور یقین کی زبان۔ جس نوجوان نے اپنے ذہن کو روزانہ’’میں کر سکتا ہوں‘‘کہنا سکھا لیا، اس کا subconscious اسے سچ مان لیتا ہے۔ یہ فلسفہ نہیں سائنس ہے۔ انسان جب اپنے ذہن کو سمت دیتا ہے تو ذہن اس سمت کے خلاف نہیں جاتا۔ اور جب ذہن یکسو ہو جائے تو باہر کی دنیا خود بخود ترتیب پانے لگتی ہے، کیونکہ دنیا ہمیشہ اسی انسان کو راستہ دیتی ہے جس کے اندر یقین جاگ اٹھے۔
آخرکار زندگی انہی قدموں کو راستہ دیتی ہے جو ہمت سے اٹھائے جائیں۔ قومیں تب بدلتی ہیں جب ان کے نوجوان اپنی پہلی جیت اپنے اندر جیت لیتے ہیں۔ یقین ایک چراغ ہے، اور چراغ ہمیشہ اندھیروں میں ہی آزمائے جاتے ہیں۔ پاکستان کو بھی ایسے نوجوان چاہئیں جو خوف کی نہیں، مقصد کی پروگرامنگ کریں، جو حالات کے غلام نہ رہیں، بلکہ اپنے ذہن کے مالک بنیں۔ یونگ نے درست کہا تھا کہ’’انسان کی حقیقی تقدیر اندر لکھی جاتی ہے۔‘‘اور جب اندر روشنی جل جائے… تو دنیا خود اس کے لیے راستے ہموار کرنے لگتی ہے۔
نوٹ: ادارے کا لکھاری کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں
