عرب دنیا میں عدم استحکام اور امریکی پالیسی(2)

عرب دنیا میں عدم استحکام اور امریکی پالیسی(2)

  

واشنگٹن اومان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان کشیدگی کو ترچھی نظر سے نہیں دیکھتا اور اومان اور سعودی عرب کے درمیان بھی ،حتیٰ کہ قطر اور سعودی عرب کے مابین بھی نہیں،کیونکہ اتنا عرصہ گزر جانے کے باوجود ان میں سے کوئی بھی ایک دوسرے کے خلاف عسکری کارروائیوں کے قابل نہ ہو سکا۔قرین قیاس یہی ہے کہ ان سب ممالک کو ملا کر (کویت اور بحرین کو بھی شامل کرکے)اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف استعمال کیا جائے۔اس میدان میں کوئی چیز تبدیل نہیں ہوئی، اگرچہ بحرین ،اومان اور مشرقی سعودی خطے میں جنم لینا والا اندرونی انتشار کسی نہ کسی کو متفکر کررہا ہے۔امریکی حکام (اسرائیلیوں کے ساتھ مل کر خوش ہورہے ہیں اور ان کوششوں کو آگے بڑھا رہے ہیں)۔ایران کے خلاف مہم کی قیادت کررہے ہیں۔ایران جو کہ خطے کے تین بڑے تیل برآمد کرنے والے ممالک میں سے واحد (دوسرے دو ملک عراق اور سعودی عرب ہیں) ملک ہے جو کہ امریکہ کے مکمل تسلط سے آزاد ہے۔خلیج میں فرقہ وارانہ حکومتیں قائم ہیں۔بحرین اور سعودی عرب میں بغاوت کرنے والے لوگوں کو شعیہ اور لبدی فرقوں کے حوالے سے شناخت کیا گیا ہے....(اومان کے سلطان کا تعلق بھی لبدی فرقے سے ہے۔سعودی عرب اس بات کو اچھال رہا ہے کہ ملک میں سنی فرقے کے ساتھ ناروا سلوک رکھا جارہا ہے)۔

عراق کا تیل اور اس کا انتظامی ڈھانچہ امریکہ کے زیرسرپرستی چلا آرہا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ لیبیا کے تیل کے کنویں بھی یورپی قوتوں کے پا س جا چکے ہیں، جس کی بدولت مستقبل کے بارے میں قیاس آرائی کی جا سکتی ہے۔قطریوں کے بارے میں یہ افواہیں گردش کررہی ہیں کہ وہ نہر سویز کو کرایے پر حاصل کرسکتے ہیں،اگرچہ وہ اس بات سے انکاری ہیں،جس کا مطلب ہے کہ امریکہ دوبارہ اس بات کی یقین دہانی کروائے، حتیٰ کہ انقلاب عرب کے بعد بھی اس چیزکا ایک بڑا حصہ قطر کی جانب شروع کیاگیا اور اس کے فنڈز قطر نے دیئے ہیں اور یہ چیز امریکی مفادات کا تعین نہیں کر پائے گی، اس چیز کا احساس انہیں نہیںہے کہ یہ صرف استحکام ہی ہے، جو امریکی مفادات کا نگہبان ہوسکتا ہے نہ کہ بغارت۔

مصر:حالیہ دنوں میں مصر کے صدر محمد مرسی، عدلیہ، اعلیٰ عسکری قیادت اور امریکہ کی جانب سے اپنے اپنے پتے شو کروانا شائد ان لمحات کا سب سے گرم معرکہ ہے۔واشنگٹن کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ وہ نو منتخب صدر کی حمایت اس لئے کررہا ہے ، وہ عدلیہ اور اعلیٰ عسکری قیادت کو چیلنج کرسکیں۔محمد مرسی کے جلد بازی میں اٹھائے گئے اقدامات کی بدولت عدلیہ اشتعال انگیز ہوگئی ہے او ریہ وہی عدلیہ ہے ،جس کے ممبران کی تعیناتی حسنی مبارک کے دور میں عمل میں لائی گئی تھی۔حالیہ دنوں میں امریکہ کا یہ قدم کہ وہ اخوان المسلمین کی حمایت کرے اور ملٹری کونسل سے بطور اہم اتحادی چھٹکارا حاصل کرے۔وہ واشنگٹن کے اس احساس کی دلالت کرتا ہے کہ فوج کے جرنیل اس قابل نہیں ہیں کہ وہ امریکی مفادا تکی نگہبانی کرتے ہوئے مصر کو دوبارہ استحکام کی راہ پر گامزن کر سکیں اور ان کے خلاف اپوزیشن (فوج کے) اتنی مستعد ہے کہ وہ ایک عظیم الشان بغاوت برپا کرسکتی ہے،بجائے استحکام پیدا کرنے کے اس کے برعکس امریکی حکام نے بارہا خیرات الشتیر سے وعدے کئے ہیں او ران سے ضمانتیں وصول کی ہیں۔خیرات الشتیر ایک نسبتاً آزاد خیال رہنما اور ارب پتی شخص ہیں، کیونکہ اخوان امریکی دارالحکومت کے لئے ایک جدید اور آزاد خیال اتحادی ثابت ہو سکتا ہے اور مشرقی وسطیٰ کے حوالے سے امریکی حکمت عملی کو آگے بڑھانے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔قطری امریکہ کو مسلسل اس بات کے لئے رضامند کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

مسلم اخوان امریکی مفادات کی نگہبانی کے لئے تیار ہے، اس صورت حال میں اس بات کا امکان پیدا ہوگیا ہے کہ صدر محمد مرسی کے خلاف فوجی بغاوت پیدا ہوسکتی ہے، لیکن امریکی حکام اس قسم کے اقدام کے سخت خلاف ہیں،اس لئے نہیں کہ امریکہ فوجی آمریت کے خلاف ہے....(خدا معاف کرے).... بلکہ اس لئے کہ نئے دفاعی تجزیوں کے مطابق فوجی حکومت مصر میں استحکام کا باعث نہیں بنے گا، بلکہ ایسے کسی بھی اقدام سے ملک میں عدم استحکام بڑھے گا۔جرنیل تاہم واشنگٹن کو یہ باور کروانے کی کوشش کررہے ہیں کہ امریکی اخوان المسلمین کی حمایت کرکے غلط گھوڑے پر شرط لگا رہے ہیں۔ اس لئے نئے صدر کے حوالے سے انہوں نے حکمت عملی طے کی ہے کہ اس کے اختیارات کو محدود اور اس کو پارلیمنٹ سے دود کردیا جائے۔امریکہ کی مجموعی حکمت عملی کا تقاضا ہے کہ وہ فوج کے ساتھ ساتھ ملک کے آزاد خیال لوگوں کے ساتھ بھی روابط بھی بڑھائے، لیکن اس کے باوجود وہ اخوان المسلمین کی جانب بھی ایک واضح جھکاﺅ رکھتے ہیں، اس لئے سعودی عرب نے محمد مرسی کو اپنے ملک کے دورے کی دعوت دی، تاکہ وہ ان کے کام میں مداخلت کرسکیں۔سعودیوں نے محمد مرسی کی مکمل تعظیم کی ....(اگرچہ وہ ان کی صدارت کے خلاف ہیں)۔

پرانے اتحادی: اخوان المسلمین کو ذہن میں رکھئے، کون اس کا سربراہ ہے؟ ایک سعودی اخبار نے ایک ہفتہ قبل ایک تصویر شائع کی ہے،جو اس بات کو ظاہر کررہی ہے کہ اخوان المسلمین کے بانی حسن البناءسعودی عرب کے اس وقت کے بادشاہ عبدالعزیز کے ہاتھ چوم رہے ہیں اور یہ 1940ءکی دہائی کا واقعہ ہے۔محمد مرسی کی سعودی عرب میں پذیرائی ذلت آمیز تھی،جبکہ حال ہی میں ولی عہد کا مقام پانے والے ....(لیکن بادشاہ نہیں) نے محمد مرسی کا ہوائی اڈے پر استقبال کیا نہ تو انہیں ہوائی اڈے پر کمپنی دی گئی اور نہ ہی انہیںکوئی الوداعی دعوت دی گئی۔ محمدمرسی کے دشمنوں کا اس بات پر اصرار ہے کہ وہ الشتر کے فرنٹ مین کی حیثیت سے کام کررہے ہیں، اگر ایسا ہے تو پھر جو کچھ بھی ہدایات محمد مرسی کو مل رہی ہیں، وہ یقیناً اچھی ہدایات نہیںہوں گی۔محمد مرسی کے دو فیصلے:کہ وہ عسکری کونسل کو چیلنج کریں اور سعودی عرب کا دورہ کریں، دونوں بڑے فیصلے انہیں الٹے پڑ گئے ہیں۔

 اس تمام صورت حال کا نتیجہ یہ ہے کہ مصر کا مستقبل تاحال غیر واضح اور غیر یقینی ہے،جبکہ واشنگٹن اس سارے کھیل میں تمام مہروں کے ساتھ مل کر کھیل رہا ہے، تاکہ ڈوریاں اس کے ہاتھ میں رہیں، لیکن اس کے باوجود امریکیوں کا تسلط مکمل نہیں ہے، اگرچہ آج وہ اتنے طاقتور نہیں ہیں، جتنے کہ مبارک کے دور میں تھے یا پھر مبارک کے انخلاءکے فوراً بعد تھے۔امریکہ کے سامنے بڑے کھلاڑی فوج کے جرنیل ہیں، اس کے علاوہ اخوان المسلمین جس کے پس پردہ قطر ہے اور سعودی عربہے،جسے مبارک کے دور کا روایتی حمایتی سمجھا جاتا ہے۔ امریکی حکام اس حوالے سے غیر یقینی صورت حال سے دوچار ہیں کہ اس طرح کے واقعات خطے کو کس طرف لے جائیں گے۔اردن کی صورت حال مصر، شام اور مغربی کنارے کے ساتھ متصل ہے،جبکہ عراق اور دیگر خلیجی ممالک بھی اس قسم کی صورت حال سے دوچار ہیں۔سوڈان میں حالیہ دنوں میں ہونے والے زبردست مظاہروں کی بدولت عمر الشیر کی استبدادی حکومت کو کافی کمزور کردیاہے۔عمر الشیر نے 1989ءمیں جمہوری حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کیا تھا۔

امریکہ جمہوریت کے ساتھ مخلص نہیں، بلکہ وہ استحکام چاہتا ہے۔یہ وہ حکمت عملی ہے ،جو کہ امریکی حکومتی کنسلٹنٹ سول پی ہنٹگٹن نے اپنی شاہکار کتاب میں بیان کی ہے اور اسی کتاب میں تبدیل ہوتے سیاسی دور اور سامراجی مفادات کی نشاندہی کی گئی ہے،جہاں تک خطے کی صورت حال کا تعلق ہے تو لوگوں کو جمہوریت کے لئے لڑتے ہوئے ایک صدی کے قریب ہوچکا ہے۔انقلاب عرب سے ہٹ کر موجودہ صورت حال سب سے بڑا فائدہ استحکام کی صورت میں مل سکتا ہے اور وہی عرب دنیا کے لئے اچھی خبر ہے۔(ختم شد)

(بشکریہ:”الجزیرہ آن لائن“.... ترجمہ: وقاص سعد)

مزید :

کالم -