ملالہ اور احبابِ ملالہ

ملالہ اور احبابِ ملالہ

پاکستان کی وادی ¿ جنت نظیر سوات میں ملالہ یوسف زئی کے ساتھ طالبان یا انتہا پسندوں کے ایک گروہ نے جو کچھ بھی کیا، اسے دُنیا کا کوئی بھی انسان درست قرار نہیں دے سکتا۔ طالبان کے حملے کے بعد ملالہ کا علاج پہلے پاکستان ، پھر برطانیہ میں ہوا اور آج کل ملالہ یوسف زئی برطانیہ کے ایک نجی سکول میں تعلیم حاصل کر رہی ہے۔ پچھلے دِنوں ملالہ کی16ویں سالگرہ کے موقع پر اقوام متحدہ (لوگوں کے حقوق کی تنظیم؟) نے ملالہ یوسف زئی کو بطور مہمان خصوصی”یوتھ جنرل اسمبلی“ میں خطاب کی دعوت دی اور ملالہ نے اپنے خطاب میں لڑکیوں کے حوالے سے تعلیمی محرومیوں کا دل کھول کر ذکر کیا۔ اس اہم تقریب میں دُنیا کے80سے زائد ممالک سے آئے ہوئے نوجوان اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے شرکت کی۔یہ بات باعث مسرت تھی کہ ملالہ نے شلوار قمیض اور شال اوڑھ کر پاکستان کے کلچر کو نمایاں کیا۔ انگریزی زبان میں اپنی تقریر کا آغاز ملالہ یوسف زئی نے اللہ کے پاک نام سے کیا ۔ اس تقریب سے اگلے روز اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفیر مسعود خان کے گھر پر ملالہ کے لئے خصوصی عشایئے کا اہتمام کیا گیا۔ یہاں ملالہ کو خراج تحسین پیش کرنے والوں میں سابق برٹش پرائم منسٹر گورڈن براﺅن بھی تھے۔ نیو یارک سے آمدہ رپورٹس کے مطابق عشایئے میں موجود شخصیات، جن میں کئی ممالک کے سفیر اور ان کی بیگمات شامل تھیں اور اقوم متحدہ کے اعلیٰ حکام بھی، ملالہ سے ہاتھ ملانے اور تصاویر بنانے کے لئے پُرجوش تھے۔ ایک پاکستانی کے طور پر یہ سب کچھ میرے لئے باعث مسرت تھا، لیکن ساتھ ساتھ حیرت بھی تھی کہ یہ لوگ جو آج ایک پاکستانی بچی کو خراج تحسین پیش کر رہے ہیں، ملالہ کے نام سے ایک دن منسوب کر چکے ہیں اور باقاعدہ ملالہ ایوارڈ کا اجرا بھی ہو چکا اور پہلا ملالہ ایوارڈ رضیہ سلطانہ نامی ہندوستانی لڑکی کو دیا بھی جا چکا ہے، لیکن انسانی حقوق کا چیمپئن امریکہ دُنیا بھر کے دیگر مسلمان بچوں اور بچیوں کے ساتھ کیا سلوک کر رہا ہے؟انسانی حقوق کے یہ عالمی علمبردار ایک طرف تو ملالہ کو خراج تحسین پیش کر رہے ہیں اور دوسری طرف افغانستان، برما، شام، فلسطین، عراق اور پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ظلم کی انتہا پر خاموش ہیں۔پاکستان میں تسلسل کے ساتھ ڈرون حملے کئے جاتے ہیں، بچے، بوڑھے، جوان بے گناہ لوگ اس کی زد میں آ کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، کیا اقوام متحدہ یا امریکہ کو وہاں کوئی ملالہ یوسف زئی نظر نہیں آتی؟ کیا وہ معصوم بچیاں دہشت گرد ہیں؟ جو امریکہ کے ان ڈرون حملوںکا نشانہ بنتی ہیں۔ امریکہ کو کیا اپنی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی نظر نہیں آتی کہ کِس طرح کا انسانیت سوز سلوک ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔نام نہاد مہذب دُنیا اور اقوام متحدہ کی ڈرون حملوں پر مجرمانہ خاموشی خود ایک سوالیہ نشان ہے۔ کیا امریکہ اور اقوام متحدہ کو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی درندگی نظر نہیں آتی؟ کشمیر میں1948ءسے ظلم و تشدد کا ایسا بازار گرم ہے، جو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا، کیا اقوام متحدہ کو کسی کشمیری بچی میں ملالہ یوسف زئی نظر نہیں آتی؟ کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت مردوں کے علاووہ کشمیری عورتوں اور بچیوں تک کو اغوا کیا جا رہا ہے۔ کشمیر کے جنگلوں میں گم نام قبروں کے انکشافات ہو رہے ہیں۔ کہاں ہے امریکہ؟ کہاں ہے امن، سکون اور انسانی حقوق کی داعی اقوام متحدہ؟ افغانستان، برما، عراق اور شام میں پاکیزہ اور پردہ دار عورتوں اور بچیوں پر وحشیانہ طریقے سے گولیاں برسائی جا رہی ہیں۔ امریکی اور نیٹو فورسز کے مظالم سے اُن کے اپنے فوجی ذہنی امراض میں مبتلا ہو رہے ہیں اور امریکی معیشت تنزلی کا شکار ہونا شروع ہو گئی ہے۔آخر میں اتنا کہنا چاہوں گا کہ ملالہ کو خواتین کی تعلیم کی علامت کے طور پر پیش کرنا بجا، لیکن یہ حقیقت بھی مدنظر رہے کہ ملالہ کے واقعہ سے برسوں پہلے سے سوات میں لڑکیاں تعلیم حاصل کر رہی تھیں، والی ¿ سوات کے دور سے سوات میں تعلیم (اور بچیوں کی تعلیم) کی شرح باقی پاکستان سے کم نہیں، بلکہ کچھ زیادہ ہی تھی۔ پاکستان کے ہر چھوٹے شہر، بلکہ قصبات اور دیہات تک میں لڑکیوں کی تعلیم کی طرف بھرپور توجہ دی جا رہی ہے۔ والدین لڑکوں سے زیادہ لڑکیوں کی تعلیم کی فکر کر رہے ہیں۔ مَیں نے لاہور کی نجی یونیورسٹی سے ماسٹرز کیا۔ اس میں میری کلاس میں20لڑکے اور23لڑکیاں تھیں۔ پاکستان میں یکساں تعلیمی نظام نافذ کر دیا جائے اور تعلیم سستی ہو تو خواندگی کی شرح کہیں زیادہ ہو گی اور ان میں لڑکیوں کی تعداد لڑکوں سے زیادہ نہیں، تو کم بھی نہیں ہو گی۔     ٭مکرمی! ”پاتھی گراﺅنڈ“ آج کل نشہ کے عادی لوگوں کا گڑھ بنا ہوا ہے۔ حساس اداروں کی موجودگی کے باوجود ہیروئن کھلے بندوں بک بھی رہی ہے اور پی بھی جارہی ہے۔ پولیس کے جوان صبح اور شام کو علاقہ کا دورہ کرتے ہیں جس کے بعد نشہ کے بیوپاری بے دھڑک اپنے کام میں مشغول ہوجاتے ہیں۔علاقے کے مکینوں اور ملحقہ گلیوں میں ان ”جہازوں“ کی آمدورفت سے ماحول بہت گندہ اور غیر صحت مند ہے۔ انہیں ذرا منع کرنے پر یہ لوگ لڑائی اور گالی گلوچ پر اتر آتے ہیں۔ جس وجہ سے علاقہ کے مکینوں خصوصاً عورتوں اور بچوں کی زندگی اجیرن بن کررہ گئی ہے۔ علاوہ ازیں علاقہ میں چوریوں کی وارداتیں بھی معمول بن گئی ہیں۔دینی وسماجی لحاظ سے یہ سارا کچھ کسی طرح بھی قابل قبول نہیں۔ لہٰذا متعلقہ ذمہ دار حلقوں اور حساس اداروں کے افسران سے گزارش ہے کہ براہ کرم اس سماجی برائی کا جلد از جلد قلع قمع کیا جائے تاکہ اہل علاقہ سکون اور صحت مند ماحول میں زندگی گزار سکیں۔(اہل محلہ پاتھی گراﺅنڈ لاہو)

مزید : کالم