ایک لازمی قبول ہونے والی دعا

ایک لازمی قبول ہونے والی دعا

یہ کام کم و بیش ہر روز ہوتا ہے۔فجر کے بعد، کچھ دیر کے لئے مَیں تکیہ فرش پر ڈال دیتا ہوں اور کمرے میں دراز ہو جاتا ہوں ، اس کے بعد جب تک اللہ تعالیٰ چاہتا ہے، اسے یاد کرتا ہوں،پکارتا ہوں، بیشک مَیں کچھ ہوں تو نہیں، لیکن دعا کا یہ عمل سن صغیر سے جاری ہے۔آج جب مَیں فرش پر دراز ہوا۔دعا کا کچھ علیحدہ ہی عمل ہوا۔اول روح و قلب پر ایک کیفیت طاری ہوئی۔مابعد یہ بات قلب پر اتری۔ ”فلاں مولانا سے کہتا ہوں۔شاید بات بن جائے“۔ وہ میرے ہم نام ہیں اور نسب کے اعتبار سے خالص پٹھان !! ایک دن جب مَیں نے ان سے پوچھا: ”مولانا صاحب! آپ جب پہلی بار مکہ مکرمہ گئے تو خانہ کعبہ کو دیکھ کر پہلی دعا کیاکی تھی؟چھوٹا سا سوال تھا، جو مَیں مکہ مکرمہ سے واپس آنے والے ہر شخص سے کرتا ہوں تو انہوں نے عجب عاجزی سے جھکتے ہوئے کہا: ”مَیں نے دعا کی تھی کہ اے اللہ! مجھے اپنے نیک بندوں میں شامل کرلے اور مجھے خود سے نکال کر اپنا بنا لے“!.... دعا تو ہر ایک اچھی ہوتی ہے۔بھلا مسلمان شخص اپنے آقا اور مالک سے کیا بُری شے مانگ سکتا ہے۔ایک بار مَیں نے اپنے ایک مہاجر دوست سے پوچھا۔آپ جب وہاں مکہ، خانہ کعبہ پہنچیں گے۔کس کے لئے دعا کیجئے گا۔امت مسلمہ کے لئے یا اپنی کمیونٹی کے لئے،جس کا خاصہ حق پرستی ہے۔دعا تو بہرحال کی جا سکتی ہے، مگر عجیب بات ہے کوئی بھی کرتا نہیں ہے۔مولانا پہلے بھی مجھے اچھے لگتے تھے، لیکن اس روز کے بعد وہ مجھے بہت اچھے لگنے لگے اور اب مَیں انہیں اور ہی طرح دیکھتا ہوں!!القصہ روح و قلب پر پیغام نازل ہوا تو مَیں صفحہ قرطاس پر لکھتا گیا۔اب بہرحال یہ کہنے کی بات نہیں ہے۔یہ پیغام ہر ایک کے لئے ہے۔اس پر ایک مَیں آپ بھی شامل ہیں۔کون واقف نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق پر کس قدر مہربان ہے۔قرآن پاک پر ایک آیت ”پہلی آیت“ چھائی ہوئی ہے۔بسم اللہ الرحمن الرحیم میں وہ فرماتا ہے۔ ”وہ مہربان اور رحیم ہے“.... آغاز سے اختتام تک، ہر سورہ کے شروع میں (توبہ کے سوا) کہا جارہا ہے۔وہ مہربان اور رحیم ہے۔عرف میں بھی یونہی نہیں کہا جاتا کہ وہ اپنے بندہ پر ستر ماﺅں سے زیادہ مہربان ہے۔تو اب یہ کہنے کی بات نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ کس قدر خوش ہوتا ہے۔جب کوئی شخص اس کے کسی بندہ پر احسان کرے، کس طرح دیدہ و دل فرشِ راہ کرے۔کسی ماں سے پوچھئے اسے وہ لوگ کتنے اچھے لگتے ہیں، جو اس کی اولاد سے پیار کرتے ہیں۔تو آج کون مسلمان ہے،جو ”شام“ میں برپا قیامت صغریٰ سے واقف نہیں۔پندرہ لاکھ مسلمان وہاں سے دربدر ہو کر ترکی ، اردن، لبنان کی سرحدوں پر اور خیموں میں پڑے ہیں۔خیموں میں کیا ہوتا ہے۔خیمہ نصب کر دیکھئے۔برما میں پُرامن اور انسانیت سے محبت کرنے والے ”بدھ“ مسلمانوں کی کیا حالت بتا رہے ہیں۔سُو ہم پہلی بار بدھوں سے واقف ہوئے۔اس طرح بھارت میں امت مسلمہ کے پروانے جس حال میں ہیں۔وطن عزیز امیں لوڈشیڈنگ کے ماتم گزار۔ایک بار جا کر دیکھیں تو سہی!مجھے ذاتی طور پر پاکستان پر ڈرون حملوں، ناکردہ گناہوں کی پاداش میں پابندِ سلاسل ہونے والوں اور معصوم بچوں اور عورتوں وغیرہ کے اغوا، چین سے سُونے نہیں دیتے اور یہ کیا زندگی ہے۔ کراچی میں آدمی صبح گھر سے نکلے اور اہل خانہ شام تک مضطرب رہیں۔اکثر دعا کرنے والے لوگ بھی احساسات سے عاری لگتے ہیں۔دعا گویا سب ایک فریضہ ہو۔ہاتھ اٹھائے اور چہرہ پر پھیر لئے!!سب سے بڑی دعا تو یہی ہے: ”ربنا اتنا فی الدنیا حسنتہ و فی الاخرة حسنة و قنا عذاب النار“یعنی دنیا اور آخرت دونوں جہاں کی خیر اور بھلائی طلب کرلی گئی۔لیکن دعا کے حوالے سے امت مسلمہ کے لئے یہ حدیث بہت اہم ہے۔ہر مرد اور عورت جو مسلمان ہو، اس کے لئے !! دعا کا مفہوم ہے” اللہ کے رسول نے فرمایا: بعض لوگوں کی دعائیں قبول ہوتی ہیں۔ مظلوم کی دعا، مسافر کی دعا، جہاد پر جانے والے کی دعا، باپ کی دعا بیٹے کے حق میں اور ایک مسلمان کی دعا جو اپنے مسلمان بھائی کی پیٹھ پیچھے کرے۔آپ نے فرمایا: ”ان جملہ دعاﺅں میں سب سے پہلے قبول ہونے والی دعا ”آخری والی“ ہے۔یعنی مسلمان کی دعا اپنے بھائی کے لئے، جبکہ کوئی غرض اور مفاد نہ ہو!!اس دعا کا کچھ تجربہ خود مجھے بھی ہے۔ایک مسجد میں ایک سفید ریش بزرگ تادیر مسجد کے فرش پر بیٹھ کر قرآن پاک اذکار اور دعا کیا کرتے تھے۔مابعد کچھ مسئلہ ہوگیا اور وہ فرش سے کرسی پر آ رہے۔مَیں نے دیکھا، وہ کرسی پر تادیر نہیں بیٹھ سکتے تھے۔ایک دن انہیں افسردہ خاطر دیکھا، ایسا لگا گویا کہہ رہے ہوں!“ یا اللہ! مَیں تو تادیر مسجد کے فرش پر بیٹھ کر ذکر کیا کرتا تھا۔دعا کیا کرتا تھا اور مجھے اچھا لگا کرتا تھا۔اب یہ کیا ہوا۔تو نے مجھے کرسی پر بٹھا دیا“.... جب انہیں کئی روز کرسی پر بیٹھے دیکھتا رہا۔جہاں وہ زیادہ دیر ذکر و دعا نہیں کر پاتے تھے تو ایک دن خود بخود میرے ہاتھ ان کے لئے دعا کے لئے اٹھ گئے۔مابعد چند ایام خلوص قلب سے ان کے لئے دعا کرتا رہا تو اب یہ واقعہ ہے۔ایک دن دیکھا وہ پھر سے پہلے کی طرح مسجد کے فرش پر براجمان ہیں اور اللہ اللہ کررہے ہیں۔میری روح خوشی سے جھوم اٹھی۔اس روز کے بعد پھر کبھی انہیں کرسی پر بیٹھے نہیں دیکھا۔اسی طرح بعض اور تجربات ہیں۔معلوم ہوا دردِ دل سے کی جانے والی دعاضرور قبول ہوتی ہے اور ظاہر ہے مذکورہ حدیث تو اس پر مہر تصدیق کرتی ہے!!فجر کے وقت وہ کیفیت پیدا ہوئی تھی، مَیں اللہ کے اس بندہ ، جنہوں نے مکہ میں، خانہ کعبہ میں اللہ سے بس اس کو چاہا تھا تو جی چاہا ان سے درخواست کروں۔” جب اللہ تعالیٰ کی رحیم اور کریم ذات مجھ جیسے معمولی شخص کی دعا، کسی مسلمان کے لئے رد نہیں کرتی۔(حالانکہ یہ دعویٰ نہیں ہے) تو آپ کی ذات تو آپ کی ہے۔بالآخر مَیں نے یہ دعائے عظیم ان تک پہنچا دی اور کہا: ” ایک دن میرے لئے بھی وقف کیجئے اور میرا نمبر تیسرا ہو!اب لُب لباب کالم کا یہ ہے کہ حضور اکرم نے جملہ مسلمانوں کو ایک دوجے کا بھائی قرار دیا ہے۔ سو ایک بار نظر اٹھا کر دیکھئے جہان رنگ و بو میں کیسے کیسے ستم رسیدہ موجود نہیں ہیں۔ان معصوم بچوں کا احساس کیجئے ، جنہیں ظالم اغوا کرکے لے گئے ہیں اور کتنی ہی بیٹیاں، جن کی عمر اپنے گھر کی دہلیز پر گزر گئی اور غربت کی تو حد ہی نہیں ہے۔اُدھر سے فرصت ملے اسی شام کی طرف نکل جایئے،جہاں کوئی 15لاکھ مرد عورتیں اور بچے بے گھر ہو گئے اور ہزارہا بہن، بیٹیاں،ترکی، اُ ردن اور لبنان کی سرحدوں پر ماتم کناں ہیں۔شکریہ!   ٭

مزید : کالم