ہم ادیبوں کی آن ”تھے“ ذوقی!

ہم ادیبوں کی آن ”تھے“ ذوقی!
ہم ادیبوں کی آن ”تھے“ ذوقی!

  

حضرتِ ذوقی مظفر نگری مرحوم کا ایک مقطع ہے:

ہم ، ادیبوں کی آن ہیں ذوقی!

بے ادب سے کلام کیا کرتے؟

حضرت حافظ محمود الحسن المعروف ذوقی مظفر نگری تُنک مزاجی میں واقعی خدائے سخن میر تقی میر کے ہم پلہ تھے۔وہ کسی بے ادب سے بھلا کلام کیا کرتے؟ میر تقی میر کی تُنک مزاجی کے قصے ہم نے کتابوں ہی میں پڑھے، مگر ذوقی مظفر نگری کو تو بہ نفسِ نفیس دیکھا، سنا، پَرکھا اور یہ تو طے شدہ امر ہے کہ :

شُنیدہ کہ بُود مانندِ دیدہ

ذوقی مظفر نگری ہمارے وطن مالوف مظفر نگر [یو پی انڈیا]سے تعلق رکھتے تھے۔مظفر نگر کے حوالے سے بلکہ مظفر نگر کے لاحقے کے ساتھ حضرتِ الم مظفر نگری بڑے صاحبِ فن بزرگ شاعر ہو گزرے ہیں، جن کا ایک شعر مجھے یاد ہے:

اہلِ وفا کے باب میں اغیار کی نہ سُن!

مانندِ دید ہوتا ہے کب ہر شنیدہ دیکھ!

مظفر نگر کے دوسرے اہم شاعر علیم اختر مظفر نگری تھے۔ان دو مشہور شعراءکے علاوہ ایک خلش مظفر نگری بھی تھے جو حیدرآباد(سندھ) میں مقیم رہ کر راہی ءملکِ عدم ہوئے، مگر وہ آخر آخر میں صرف خلش مظفر ہو گئے تھے، اسی طرح زمانہ ءجاہلیت میں ہم خود کو عشرت زیدی مظفر نگری لکھتے تھے، پھر جناب اقبال زبیری کی ادارت میں ایک غزل ماہنامہ ”چمن“ راولپنڈی میں عشرت زیدی کے نام سے چھپوائی اور بعدازاں اسلامیہ کالج ریلوے روڈ لاہور میں طالب علمی کے دوران اپنے اصل نام سید ناصر رضا زیدی کو مختصر کرکے ناصر زیدی ہوگئے....اسی نام سے شہرتِ عام ملی، بقائے دوام تو بہرحال اللہ کے ہاتھ ہے۔

ہمارے ایک شاعر دوست مضافات سے لائل پور اور پھر لاہور منتقل ہوئے تو انہوں نے ایک غزل کے مقطع میں اپنا نام یوں دوبار استعمال کیا:

افضل احسن، افضل احسن کا شہرہ ہے

دُھوم ہے اک دیہاتی کی سب شہروں میں

مگر ان کی دھوم بطور شاعر افضل احسن نہیں مچی تھی، بلکہ جب وہ ”جیالے پن“ کے والہانہ دور سے گزر کر لائلپور سے ایم این اے منتخب ہوئے تو افضل احسن رندھاوا ہوگئے اور یوں بطور ایم این اے ایک دیہاتی کی پاکستان کے سب شہروں میں واقعی دھوم مچی رہی۔ افضل احسن جن کا کلام کبھی ”لیل و نہار“ اور ”امروز“ اور میرے زیرِ ادارت ماہنامہ ”ادبِ لطیف“ میں چھپا کرتا تھا، وہ شاعر نجانے کہاں کھو گیا؟ ماڈل ٹاﺅن لاہور میں افضل احسن کے اور میرے مشترکہ دوست تسنیم احمد خان شیروانی ہوا کرتے تھے۔نہایت عمدہ شعری ذوق رکھتے تھے۔خود بھی خوشگوار شعر کہتے، بہت ہی ہنس مُکھ، چہرے پر عینک کے پیچھے ہر وقت مخصوص سی مسکراہٹ چھپائے رکھتے جو بوقتِ ضرورت قہقہے میں بدل جاتی۔افضل احسن نے ،تسنیم خان کے لئے یہ شعر انہی دنوں کہا تھا:

دیکھو تو یوں کہ جیسے اسے کوئی غم نہ ہو

ہنسنے کا ڈھنگ خوب ہے تسنیم خان کا

مَیں اپنی یادنگاری کی رو میں بھٹکتا، بھٹکاتا کہاں سے کہاں نکل گیا۔بتانا یہ مقصود تھا کہ ضلع مظفر نگر کے نزدیکی قصبہ کاندھلہ کے جناب احسان دانش بھی تھے جو مشہور زمانہ استاد شاعر تھے۔ناصر زیدی کے نام سے شہرت و مقبولیت حاصل کرنے کے باوصف اور ”ادب لطیف“ جیسے ادبی لیجنڈ جریدے کا ایڈیٹر ہونے کے باوجود ہم نے حضرت احسان دانش کی شاگردی اختیار کی، جبکہ ابتدائی تربیت جناب پیام شاہجہانپوری کر چکے تھے۔احسان دانش صاحب نے 1975ءمیں میرے پہلے مجموعہِ غزل ”ڈوبتے چاند کا منظر“ کے فلیپ کے لئے لکھا:ناصر زیدی نسلِ نو کے نمائندہ غزل گو ہیں۔ان کی جوانی، جوان تغزل کی تخلیق کررہی ہے اور ہر آنے والا دن ان کی فکر کو زیادہ سے روشن خیالات دے کر جا رہا ہے“۔ہمارے استاد حضرت احسان دانش کے شاگردوں میں اس وقت ذوقی مظفر نگری،شورش کاشمیری، قمر میرٹھی، کلیم عثمانی، شہرت بخاری، ضمیر فاطمی،آغاز برنی اور حسرت بہاری تھے۔جو بعد میں حسرت حسین حسرت ہوگئے تھے اور منحرف شاگردوں میں یوسف ظفر اور نجمی نگینوی بھی تھے جوشروع میں خود کو نجمی احسانی نگینو ی بھی لکھتے رہے اور جن کا یہ ایک شعر ضرب المثل ہے:

بے چینیاں سمیٹ کے سارے جہان کی

جب کچھ نہ بن سکا تو مرا دل بنا دیا

جانشینی کا مسئلہ اس وقت تک واضح نہ تھا۔ڈاکٹر قمر میرٹھی بھی احسان دانش کی جانشینی کے دعویدار تھے، مگر ان سے زندگی نے زیادہ وفا نہ کی تو بعد ازاں بڑی شد و مد سے ذوقی مظفر نگری، جانشین احسان دانش ہونے کے دعوے دار رہے۔ اور تادم مرگ دعویدار رہے۔گویا وہ احسان دانش کے اس شعر کے پرچارک رہے کہ:

دانش کی قدر کر کہ بساطِ حیات پر

آتا ہے ایسا صاحبِ فن مدتوں کے بعد

انہوں نے شاگردانِ احسان دانش کی ایک فہرست بھی شائع کی تھی۔16مئی 2013ءکو لاہور میں ذوقی مظفرنگری 92برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔17مئی 2013ءکولاہور ہی میں ان کی تدفین ہوئی....

حافظ محمود الحسن [ذوقی مظفر نگری] نے حافظ محمد عمر صدیقی کے ہاں 15جنوری 1921ءکو مظفر نگر میں آنکھ کھولی۔ان کے والد تاجر تھے جو 1937ءمیں انتقال کر گئے۔ ذوقی صاحب کی عمر اس وقت محض 16برس تھی! ذوقی صاحب کا دعویٰ تھا کہ انہوں نے پہلا شعر 8برس کی عمر میں کہا جو یہ تھا:

کسی کو بھی سکوں حاصل نہیں دنیا میں اے ذوقی!

یہ ہلچل ہے زمین و آسماں کے درمیاں کیسی؟

ذوقی تخلص اختیار کرنے کا پس منظر خود ذوقی صاحب نے یوں بیان کیا تھا کہ : آخری مغل تاجدار بہادر شاہ ظفر کے استاد محمد ابراہیم ذوق دہلوی کے بیٹے محمد اسماعیل فوق دہلوی، ذوقی صاحب کی والدہ محترمہ ہماالنساءکے دادا تھے۔ یوں فوق و ذوق کی خاندانی نسبت سے وہ ذوقی ہوگئے۔12سال کی عمر میں قرآن حفظ کرکے حافظ ہوگئے کہ والد صاحب بھی حافظ تھے۔فاضل اردو، فارسی، ریاضی کے امتحانات کے بعد 1940ءمیں ماموں زاد بہن اقبال بیگم سے شادی ہوئی۔1941ءمیں اسلامیہ ہائی سکول بٹھنڈہ میں ٹیچر مقرر ہوئے۔1947ءمیں پاکستان لاہور آمد کے بعد بھی درس و تدریس کا سلسلہ ذریعہ معاش رہا۔تمام عمر حصولِ روزگار کی تگ و دو سے فراغت نہ ملی۔ آخری بیس پچیس سال بینائی سے محرومی کے گزرے۔مگر آواز کا طنطنہ قائم رہا اور مزاج کی برہمی برقرار رہی۔دو بیٹیاں اپنے اپنے گھروں کی ہیں۔ایک بیٹا امریکہ میں ہے اور ایک بیٹا لاہور ہی میں پروفیسر ہے، مگر خود اکادمی ادبیات کے وظیفہ خوار رہے۔اگرچہ ان کے اس قسم کے ایک آدھ شعر سے تو خود داری کا سراغ ملتا ہے:

مرے پیش اطلب رکھتا ہوں لیکن ہاتھ پھیلایا نہیں جاتا

ذوقی مظفر نگری کے موجودہ شاگردوں میں بشیر رحمانی، ممتاز راشد اور اکرم سحر فارانی کے نام نمایاں ہیں، ایک بار میری نظامت میں ریڈیو لاہور کے مشاعرے میں اکرم سحرفارانی نے کوئی لفظ غلط باندھا اور مصرعہ بے وزن پڑھ دیا اور میرے ٹوکنے کی شکایت اپنے استاد سے کر دی، وہ سخت برہم ہوگئے۔کہنے لگے:

”میرا شاگرد بے وزن شعر نہیں پڑھ سکتا“، تاہم جب انہیں فارانی صاحب کے ہاتھ کی لکھی ہوئی نظم میں سے متذکرہ مصرع پڑھ کر سنایا گیا تو مان گئے کہ ”آپ ٹھیک کہتے ہیں، مگر میں نے اصلاح کرتے وقت یہ مصرع اس طرح نہیں لکھوایا تھا۔ شاگرد نے لکھنے میں غلطی کی ہے“۔ پھر بھی اس بات پر برہمی کا اظہار کیا کہ: ”میرے شاگرد کو سرِ بزم ٹو کا اور غلط مصرع پڑھنے سے روکا کیوں؟“ برہمی اور تُنک مزاجی مرحوم کی سرشت میں شامل تھی۔ بلاشبہ وہ صاحبِ فن اُستاد شاعر تھے۔ عروض نہ صرف جانتے تھے، بلکہ فنِ عروض پر ایک کتاب ”تسنیم فصاحت العروض“ کے مصنف بھی تھے، جس میں قافیہ، ردیف اور جملہ اصنافِ سخن کے بارے میں ضروری معلومات، علم البیان اور معائب و محاسن سخن پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ داغ دہلوی کا منظوم ”پندنامہ“ بھی کتاب میں شامل ہے۔ان کے بیٹے بیٹیوں کے نام تنویر، توقیر ، نجم، وسیم، تسنیم وغیرہ تھے، چنانچہ اُن کے اکثر شعری مجموعوں کے نام انہی ناموں پر رکھے گئے۔ مطبوعہ شعری مجموعوں کے نام کچھ یوں ہیں۔ ”نجمِ سحر“، ”وسیمِ فردوس“ اور نُورِ لم یزل، نعتیہ مجموعے ہیں.... تنویرِ فن (غزلیں)، توقیر ادب، چیختی سوچیں، ذوقیات.... ان سب کے علاوہ آپ بیتی ”میرا ادبی سفر“ جو، اُن کے ایک شاگرد ممتاز راشد نے چھپوائی۔

ایک کتاب ”زندہ اُجالے“ بعض شخصیات کے منظوم خاکوں پر مشتمل ہے جس سے ذوقی مظفر نگری کی استادانہ مشاقی عیاں ہے۔ ذوقی مظفر نگری کے کچھ اشعار:

عکسِ جمال آپ کا قلب سے کھیلتا رہا

لذتِ دید خاک ہو، جرا¿تِ دید بھی گئی

اہلِ وفا کی بزم کا جب سے چراغِ گُل ہُوا

راحتِ دوستی کے ساتھ عظمتِ دشمنی گئی

........................

اک سکوں ہے جو کہیں ملتا نہیں

ورنہ میری دسترس میں کیا نہیں

........................

کیسے اندوہِ وقت سے گزروں؟

بہہ گئی آنسوو¿ں میں بینائی

............................

بویا تھا جس کو صحن میں سائے کے واسطے

میں اُس اُبھرتے نیم کے پتے سے کٹ گیا

............................

ذرّہ ذرّہ ہے چراغِ رہِ منزل ذوقی

رہروِ زیست کی منزل پہ نظر ہو تو سہی

ذوقی مظفر نگری انتہائی زُودرنج، بے حد حساس اور مغضوب الغضب شخص تھے۔خلافِ مزاج ذرا سی بات پر فوراً بھڑک اٹھتے تھے۔ایک بار مُحبیّ سبطین شاہجہانی نے میری صدارت میں ایک مشاعرہ منعقد کرایا۔ذوقی مظفر نگری مہمان خصوصی تھے! زراہِ تفنن مَیں نے کہا ”ذوقی صاحب! مَیں اسلام آباد سے اب مستقل لاہور آ گیا ہوں اور حصرت احسان دانش کی جانشینی کا دعویٰ کرنے والا ہوں، اپنی جانشینی کی فکر کیجئے“!” آب آمد تیمم برخواست.... اُس وقت تو بات ٹال گئے ۔مشاعر ے کے اختتام پر ناظم مشاعرہ سے سخت گلہ کیا کہ آپ نے مجھے ناصر زیدی سے بِھڑا دیا“....حالانکہ سبطین شاہجہانی بے قصور تھے۔مَیں بھی جانشینی کے سلسلے میں سنجیدہ ہرگز نہیں تھا....! بہرحال! اگلے وقتوں کے ہیں یہ لوگ انہیں کچھ نہ کہو!  ٭

مزید : کالم