”جو بے عمل پہ بھی رحمت وہ بے نیاز کرے‘ ‘

”جو بے عمل پہ بھی رحمت وہ بے نیاز کرے‘ ‘
”جو بے عمل پہ بھی رحمت وہ بے نیاز کرے‘ ‘

  

رمضان المبارک میں مجھ جیسے کمزور دل لوگ جن ہستیوں کو یاد کرکے تقویت حاصل کرتے ہیں ان میں مرزا غالب ہی نہیں ، علامہ اقبال بھی شامل ہیں ۔ ڈاکٹر جاوید اقبال کا بیان ہے کہ ان کے والد جب کبھی روزہ رکھ لیتے تو طبیعت دن بھر بے چین سی رہتی اور کئی کئی بار پوچھتے کہ بھئی ، افطار میں کتنا وقت باقی رہ گیا ہے ۔ میری یہ بات سن کر ڈنڈے کے زور پہ اسلامی تمدن کو فروغ دینے والے بعض مومن ضرور سوچ رہے ہوں گے کہ کیوں نہ پچھلی تاریخ ڈال کر حضرت علامہ پہ احترام رمضان آرڈیننس کی شقوں کا اطلاق کر دیا جائے اور جب وہ حیران و پریشان ہو کر قانون نافذ کرنے والے حاکموں کی طرف دیکھیں تو ان سے پوچھا جائے کہ اے حکیم الامت ہم تجھے موقع دیتے ہیں کہ ’بتا تیری رضا کیا ہے؟‘

یہ تو سب جانتے ہیں کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق روزہ ڈھال ہے ، جسے عام الفاظ میں یوں کہہ سکتے ہیں کہ اس کا مقصد ناجائز ترغیبات ، نفسانی خواہشوں ، بے انصافی اور لاتعداد دیگر برائیوں سے اپنے آپ کو بچا کر رکھنا ہے ۔ اس لحاظ سے دیکھیں تو خطروں سے نمٹنے کے لئے اسے خود حفاظتی کا ایک حصار سمجھنا چاہئیے ، مگر اقبال کا ذکر یوں کرنا پڑے گا کہ ہم نے اس ڈھال کو مدافعتی آلہ تورہنے ہی نہیں دیا بلکہ جارحیت کا ہتھیار بنا ڈالا ہے ۔ یقین نہ آئے تو کسی بھی سرکاری ، نیم سرکاری یا نجی شعبہ کی افطار پارٹی میں دھینگا مشتی کے مناظر دیکھ لیجئے یا روزہ کھلنے کے وقت لاہور کی ایم ایم عالم روڈ کا ایک چکر لگا لیجئے جہاں اب سے دو سال پہلے ایک ریستوراں میں ہر عمر ، صنف اور سماجی پس منظر کے روزہ داروں کی بے تابیاں دیکھ کر مجھے ’غذائی دہشت گردی‘ کی اصطلاح ایجاد کرنا پڑی تھی ۔

معمولی سے فرق کے ساتھ ، جسے میرے صحافی اور دانشور دوست اعجاز رضوی محض ’پروسیجرل اختلاف‘ کہتے ہیں ، تمام مسلمانوں کے روزہ کھولنے کا وقت نماز مغرب کے قریب ہے ، لیکن تقوے کے غرور سے پیدا ہونے والی ہماری جارحانہ کارروائیاں افطار کے مرحلے سے کئی گھنٹے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہیں ۔ اول تو ماہ صیام کے دوران صبح دس ، ساڑھے دس بجے سے پہلے دفتر پہنچنے والے افسروں کو ہر گز خاندانی آدمی تصور نہیں کیا جاتا ۔ پھر اگر آپ بینک ، نجی ادارے یا سیکرٹیریٹ میں ڈیوٹی پہ حاضر ہو ہی گئے ہیں تو رمضان کی برکت سے رعائتی وقت پہ ہونے والی چھٹی سے پہلے دن بھر آپ کی ’ پبلک ڈیلنگ‘ میں ایسی متقیانہ بے رخی ہونی چاہئیے جیسے ، بقول ضمیر جعفری ‘ یہ کہہ رہے ہوں کہ :

مجھ سے مت کر یار ، کچھ گفتار ، میں روزے سے ہوں

ہو نہ جائے تجھ سے بھی تکرار ، میں روزے سے ہوں

میرا روزہ اک بڑا احسان ہے لوگوں کے سر

مجھ کو ڈالو موتیے کے ہار ، میں روزے سے ہوں

میں نے ہر فائل کی دمچی پر یہ مصرعہ لکھ دیا

کام ہو سکتا نہیں سرکار ، میں روزے سے ہوں

یہ تو رمضان کے پہلے عشرے کی صورتحال تھی ۔ ایک ہفتہ اور گزرنے دیں کہ گھر کا پرنالہ ٹھیک کرانے سے لے کر لائیبریری سے ریفرنس مٹیریل کی کاپی نکلوانے تک کوئی بھی شعبہ ہو ، جوتے ، کپڑے یا گوٹا کناری بیچنے والے کے سوا ہر کارندے سے یہی جواب ملے گا کہ بس اب آپ اپنا کام عید کے بعد ہی سمجھیں ۔ ایک درزی ہیں جن کا ’لارا‘ کاج بٹن کے بہانے چاند رات تک ہوتا ہے ۔ پھر بھی روزوں کے مہینہ میں جس مسئلہ کی نشاندہی میں کر نا چاہتا ہوں ، وہ کام چوری ، حد سے بڑھی ہوئی مصروفیات یا اوقات نامے کے الجھاﺅ تک محدود نہیں ۔ معاملہ اس سے کہیں زیادہ گمبھیر ہے ، اور وہ ہے ’پپو یار ، تنگ نہ کر‘ کا ملک گیر عوامی رویہ ، اور ساتھ ہی پوری قوم کے سب ’پپوﺅں‘ میں سے ایک ایک کا یہ پختہ عزم کہ وہ اپنے سوا ہر کسی کو تنگ نہ کر سکا تو اس کا نام بھی پپو نہیں۔

تماشہ دیکھنا ہو تو کسی سہ پہر نہر کے ایف سی کالج والے پل پہ پہنچ جائیے ، جس کا نام ایک منصف مزاج جج کے نام پہ اب جسٹس کارنیلیس ایگزٹ ہے ۔ ایک تو یہاں سے پنجاب یونیورسٹی ، گلبرگ ، اچھرہ ، شاہ جمال ، شادمان اور مال روڈ کی جانب نکلنے والی تمام سڑکیں اور ضمنی راستے شمار کر کے کار ، موٹر سائیکل یا رکشا پر مختلف زاویوں پہ مڑنے کی گنجائش متعین کی جائے تو آپ مانیں یا نہ مانیں ، امکانی موڑ مڑنے کی کل تعداد تینتیس بنتی ہے ۔ چونکہ ہمارے نزدیک سالانہ خفیہ رپورٹ کے ’کوانٹیفکیشن سسٹم‘ کی طرح سحری کھانے ، دن بھر روزہ رکھنے اور شام کو افطاری کرنے کے زمرے الگ الگ ہیں ، سو ثواب کی دوڑ میں سب کو پیچھے چھوڑ کر فرسٹ آنے کی تگ و دو شدید تر ہو جاتی ہے ۔ جیسے کوئی پکار رہا ہو کہ ’اے روزہ دار جلدی سے پل پار کر لے ۔ شائد یہ تیری زندگی کی آخری افطاری ہو‘ ۔

ہزار خرابیوں کے باوجود آزاد پاکستان نے روزہ کشائی کی جس گمبھیر روایت کو جنم دیا ہے ، ہمارے موجودہ وطن میں پچھلی نسل کے لوگ اس کی لذت سے آشنا ہی نہیں تھے ۔ اب شہروں میں چھوٹے متوسط طبقے کا حال بھی یہ ہوتا جا رہا ہے کہ افطاری اور رات کے کھانے کو دو الگ الگ غذائی اکائیاں شمار کرتے ہیں ، جن کے درمیان وقفہ بہت ضروری ہے ۔ معاشرے کی جو پرتیں اس سے ذرا اوپر ہیں ان کی جدید فقہ میں کھجور ، فروٹ چاٹ اور پکوڑوں کے بغیر روزہ کھل ہی نہیں سکتا ۔ چونکہ آجکل روزے گرمیوں میں آ تے ہیں ، اس لئے ’ٹھوس ‘ افطاری کے ساتھ لیموں کا رس ، کوئی مشرقی شربت یا کو لا وغیرہ بھی لازمی ہے اور اگر ان سب مشروبات کی کاک ٹیل مل جائے تو پھر آپ کے درجات کی بلندی کا کیا کہنا ۔

اپنے تمدنی پس منظر کی طرف جائیں تو ’روزگار فقیر ‘ میں پلاﺅ اور شامی کباب کے لئے ’اسلامی غذاﺅں‘ کی تر کیب اقبال سے منسوب کی گئی ہے ، جو ان سماجی ، لسانی اور نسلی اثرات کی طرف ایک اشارہ ہے جن کی تاریخ دنیائے عرب ہی سے نہیں ، ترکی ، ایران ، افغانستان اور مشرق وسطیٰ سے بھی جڑی ہوئی ہے ۔ پھر بھی ان علاقوں میں جن پر پاکستان مشتمل ہے ، روحانی شخصیات کے مزاروں کو چھوڑ کر ، جہاں بڑے بڑے پاپی اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے اور لنگروں سے ایک خلق خدا کو رزق ملتا ، ہمارے ماضی کی عوامی زندگی میں آپ کو آج کے پر تکلف تقریباتی کھانوں کا نام و نشان کم ہی ملے گا ۔ معروف افسانہ نگار اے حمید نے اپنے لڑکپن کے امرتسر میں سحری کی تیاریوں اور چائے کے سماوار کا ذکر ہمیشہ چاہت سے کیا ہے ، مگر اکثر پاکستانیوں کے لئے 14 اگست کا سورج ہی انڈے پراٹھے لایا تھا ۔

امرتسری مسلمانوں کے برعکس ، میرے بچپن کے سیالکوٹ میں روزہ رکھنے کا بندوبست دہی اور گھی والی روٹی سے آگے کبھی نہ بڑھا جس میں کشمیری روایت کے مطابق ذرا سا نمک ڈال کے خمیر اٹھا دیا جاتا ۔ افطاری بالکل ہی غیر محسوس انداز میں ہوتی اس لئے تخم لنگاں کی چپچپاہٹ اور کبھی کبھار اڑھائی آنے والی کھاری بوتل کی ’درد تہہ جام‘ کے سوا کچھ یاد نہیں ۔ شائد اس کے پیچھے ایک پسماندہ مسلمان علاقہ میں نیم زرعی معاشرت سے نکل کر شہری متوسط طبقہ میں ’نقب‘ لگانے کی ہماری کاوش کو دخل ہو ۔ یوں ، اپنے داد ا ابا میں ہر رتبہ کے آدمی کے ساتھ کندھے ملا کر نماز ادا کرنے کا شوق تو نظر آیا ، لیکن روزہ رکھنے سے شائد خوراک میں ’لیٹ نکالنے‘ کی خواہش پہ زد پڑتی ہوگی ۔ اس لئے روزہ داری کی پابندی میں نے صرف دادی، ماں اور پھوپھیوں میں دیکھی ، جو ’چپ چپیتی‘ اور غیر نمائشی نوعیت کی تھی ۔

ابتدائی عمر کی یتیمی ، سخت جسمانی محنت ، کاروباری سوجھ بوجھ اور انسان دوستی سے پھوٹنے والی اس انسانی اکائی کے تضادات کو میں آج تک نہیں سمجھ سکا جسے بچوں اور آگے ان کے بیٹے بیٹیوں نے ہمیشہ ابا جی ہی کہا ۔ رمضان ہو یا کوئی اور مہینہ ، ابا جی کی بڑے پایوں والی چارپائی پہ میری آنکھ صبح کے جھٹپٹے میں انہی کی نیم مترنم آواز سے کھلا کرتی ۔ یہ ترنم قدرے بلند آواز میں نماز پڑھنے سے پیدا ہوتا ۔ پھر پنجابی لہجہ میں تلاوت کرتے ، جسے قرا ت کا لوک انداز کہنا چاہئیے ۔ اس کے بعد حقے کی گڑگڑاہٹ ، جو ہلکی پھلکی بات چیت شروع ہو نے کے بعد ہنسی اور معمولی کھانسی کے ایک مشفقانہ مکسچر میں تبدیل ہو جاتی ۔ اباجی جس خاموشی سے ہر نماز کی پابندی کرتے ، اتنی ہی آہستگی کے ساتھ روزے بھی چھوڑتے جاتے ۔ نہ کبھی نمازیں بحث کا موضوع بنیں ، نہ روزہ خوری پہ کوئی تنازعہ اٹھا ۔

یہ رویہ فقط گھر کی چار دیواری تک محدود نہیں تھا ، محلہ میں بھی کوئی آدمی اس پہ نظر نہ رکھتا کہ کس کس کا روزہ ہے اور کون محض وضعداری سے کام لے رہا ہے ۔ نہ یہ حساب کیا جاتا کہ کس شخص نے کونسی مسجد میں نماز ادا کی ، ہاتھ کس کر باندھے یا ڈھیلے، اور سجدوں کی طوالت میں بخل سے کام تو نہیں لیا گیا ۔ اگر کوئی میری بات کو گپ نہ سمجھے تو ہمارے سو ، سوا سو گز نصف قطر کے اندر تین میں سے دو مساجد ان معنوں میں ’سیکولر‘ نوعیت کی تھیں کہ ان میں فل ٹائم تنخواہ دار پیش امام تھے ہی نہیں ۔ مجھ سے بڑے کئی لڑکے اذان کہنے کے مشتاق ہوتے اور امامت کے لئے بھی معززین کا ایک غیر رسمی پینل موجود رہتا ، جن میں سے پنجاب اسمبلی کو پہلی بار فرنیچر سپلائی کرنے والے مستری جھنڈا کے داماد پروفیسر عبدالمجید واحد باریش بزرگ تھے ۔

اس زمانے میں احترام رمضان آرڈیننس کے نہ ہوتے ہوئے بھی ہم نے کسی روزہ دار کی دل آزاری کا کوئی ظاہری سامان کہیں نہ دیکھا ، بلکہ یوں محسوس ہوتا کہ لوگ ایک دوسرے کے طرز عمل کو دل سے برداشت کر رہے ہیں ۔مثال کے طور پہ میری اور میرے بھائی کی عمریں آٹھ اور سات سال ہوں گی جب ایک عید الفطر پہ آبائی شہر جاتے ہوئے ابا کے اردلی نذیر نے ہم دونوں اور خود اپنے لئے ٹرین کی سیٹ پہ دسترخوان بچھایا تو ایک عمر رسیدہ مسافر بہت شائستہ لہجہ میں کہنے لگے’ بیٹا ، روزہ نہیں ہے؟‘ پھر اس مختصر جواب سے مطمئن ہو گئے کہ ’جی ، آج نہیں رکھا‘ ۔ نہ استغاثہ کے بیان ہوئے ، نہ صفائی کی جرح ۔ آپ پوچھیں گے کہ اس صورت میں نذیر کی ڈھال کا کیا بنا ۔ سیدھا سا جواب ہے کہ ڈھال تو ہر حال میں موجود رہی ، بس اس کا رخ الٹا دیا تھا تاکہ ہماری روزہ خوری سے کسی اور کا روزہ خراب نہ ہو نے پائے ۔ کیا پتا اللہ میاں کو ان کی یہی ادا پسند آگئی ہو:

کوئی یہ پوچھے کہ واعظ کا کیا بگڑتا ہے

جو بے عمل پہ بھی رحمت وہ بے نیاز کرے

رمضان المبارک میں مجھ جیسے کمزور دل لوگ جن ہستیوں کو یاد کرکے تقویت حاصل کرتے ہیں ان میں مرزا غالب ہی نہیں ، علامہ اقبال بھی شامل ہیں ۔ ڈاکٹر جاوید اقبال کا بیان ہے کہ ان کے والد جب کبھی روزہ رکھ لیتے تو طبیعت دن بھر بے چین سی رہتی اور کئی کئی بار پوچھتے کہ بھئی ، افطار میں کتنا وقت باقی رہ گیا ہے ۔ میری یہ بات سن کر ڈنڈے کے زور پہ اسلامی تمدن کو فروغ دینے والے بعض مومن ضرور سوچ رہے ہوں گے کہ کیوں نہ پچھلی تاریخ ڈال کر حضرت علامہ پہ احترام رمضان آرڈیننس کی شقوں کا اطلاق کر دیا جائے اور جب وہ حیران و پریشان ہو کر قانون نافذ کرنے والے حاکموں کی طرف دیکھیں تو ان سے پوچھا جائے کہ اے حکیم الامت ہم تجھے موقع دیتے ہیں کہ ’بتا تیری رضا کیا ہے؟‘

یہ تو سب جانتے ہیں کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق روزہ ڈھال ہے ، جسے عام الفاظ میں یوں کہہ سکتے ہیں کہ اس کا مقصد ناجائز ترغیبات ، نفسانی خواہشوں ، بے انصافی اور لاتعداد دیگر برائیوں سے اپنے آپ کو بچا کر رکھنا ہے ۔ اس لحاظ سے دیکھیں تو خطروں سے نمٹنے کے لئے اسے خود حفاظتی کا ایک حصار سمجھنا چاہئیے ، مگر اقبال کا ذکر یوں کرنا پڑے گا کہ ہم نے اس ڈھال کو مدافعتی آلہ تورہنے ہی نہیں دیا بلکہ جارحیت کا ہتھیار بنا ڈالا ہے ۔ یقین نہ آئے تو کسی بھی سرکاری ، نیم سرکاری یا نجی شعبہ کی افطار پارٹی میں دھینگا مشتی کے مناظر دیکھ لیجئے یا روزہ کھلنے کے وقت لاہور کی ایم ایم عالم روڈ کا ایک چکر لگا لیجئے جہاں اب سے دو سال پہلے ایک ریستوراں میں ہر عمر ، صنف اور سماجی پس منظر کے روزہ داروں کی بے تابیاں دیکھ کر مجھے ’غذائی دہشت گردی‘ کی اصطلاح ایجاد کرنا پڑی تھی ۔

معمولی سے فرق کے ساتھ ، جسے میرے صحافی اور دانشور دوست اعجاز رضوی محض ’پروسیجرل اختلاف‘ کہتے ہیں ، تمام مسلمانوں کے روزہ کھولنے کا وقت نماز مغرب کے قریب ہے ، لیکن تقوے کے غرور سے پیدا ہونے والی ہماری جارحانہ کارروائیاں افطار کے مرحلے سے کئی گھنٹے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہیں ۔ اول تو ماہ صیام کے دوران صبح دس ، ساڑھے دس بجے سے پہلے دفتر پہنچنے والے افسروں کو ہر گز خاندانی آدمی تصور نہیں کیا جاتا ۔ پھر اگر آپ بینک ، نجی ادارے یا سیکرٹیریٹ میں ڈیوٹی پہ حاضر ہو ہی گئے ہیں تو رمضان کی برکت سے رعائتی وقت پہ ہونے والی چھٹی سے پہلے دن بھر آپ کی ’ پبلک ڈیلنگ‘ میں ایسی متقیانہ بے رخی ہونی چاہئیے جیسے ، بقول ضمیر جعفری ‘ یہ کہہ رہے ہوں کہ :

مجھ سے مت کر یار ، کچھ گفتار ، میں روزے سے ہوں

ہو نہ جائے تجھ سے بھی تکرار ، میں روزے سے ہوں

میرا روزہ اک بڑا احسان ہے لوگوں کے سر

مجھ کو ڈالو موتیے کے ہار ، میں روزے سے ہوں

میں نے ہر فائل کی دمچی پر یہ مصرعہ لکھ دیا

کام ہو سکتا نہیں سرکار ، میں روزے سے ہوں

یہ تو رمضان کے پہلے عشرے کی صورتحال تھی ۔ ایک ہفتہ اور گزرنے دیں کہ گھر کا پرنالہ ٹھیک کرانے سے لے کر لائیبریری سے ریفرنس مٹیریل کی کاپی نکلوانے تک کوئی بھی شعبہ ہو ، جوتے ، کپڑے یا گوٹا کناری بیچنے والے کے سوا ہر کارندے سے یہی جواب ملے گا کہ بس اب آپ اپنا کام عید کے بعد ہی سمجھیں ۔ ایک درزی ہیں جن کا ’لارا‘ کاج بٹن کے بہانے چاند رات تک ہوتا ہے ۔ پھر بھی روزوں کے مہینہ میں جس مسئلہ کی نشاندہی میں کر نا چاہتا ہوں ، وہ کام چوری ، حد سے بڑھی ہوئی مصروفیات یا اوقات نامے کے الجھاﺅ تک محدود نہیں ۔ معاملہ اس سے کہیں زیادہ گمبھیر ہے ، اور وہ ہے ’پپو یار ، تنگ نہ کر‘ کا ملک گیر عوامی رویہ ، اور ساتھ ہی پوری قوم کے سب ’پپوﺅں‘ میں سے ایک ایک کا یہ پختہ عزم کہ وہ اپنے سوا ہر کسی کو تنگ نہ کر سکا تو اس کا نام بھی پپو نہیں۔

تماشہ دیکھنا ہو تو کسی سہ پہر نہر کے ایف سی کالج والے پل پہ پہنچ جائیے ، جس کا نام ایک منصف مزاج جج کے نام پہ اب جسٹس کارنیلیس ایگزٹ ہے ۔ ایک تو یہاں سے پنجاب یونیورسٹی ، گلبرگ ، اچھرہ ، شاہ جمال ، شادمان اور مال روڈ کی جانب نکلنے والی تمام سڑکیں اور ضمنی راستے شمار کر کے کار ، موٹر سائیکل یا رکشا پر مختلف زاویوں پہ مڑنے کی گنجائش متعین کی جائے تو آپ مانیں یا نہ مانیں ، امکانی موڑ مڑنے کی کل تعداد تینتیس بنتی ہے ۔ چونکہ ہمارے نزدیک سالانہ خفیہ رپورٹ کے ’کوانٹیفکیشن سسٹم‘ کی طرح سحری کھانے ، دن بھر روزہ رکھنے اور شام کو افطاری کرنے کے زمرے الگ الگ ہیں ، سو ثواب کی دوڑ میں سب کو پیچھے چھوڑ کر فرسٹ آنے کی تگ و دو شدید تر ہو جاتی ہے ۔ جیسے کوئی پکار رہا ہو کہ ’اے روزہ دار جلدی سے پل پار کر لے ۔ شائد یہ تیری زندگی کی آخری افطاری ہو‘ ۔

ہزار خرابیوں کے باوجود آزاد پاکستان نے روزہ کشائی کی جس گمبھیر روایت کو جنم دیا ہے ، ہمارے موجودہ وطن میں پچھلی نسل کے لوگ اس کی لذت سے آشنا ہی نہیں تھے ۔ اب شہروں میں چھوٹے متوسط طبقے کا حال بھی یہ ہوتا جا رہا ہے کہ افطاری اور رات کے کھانے کو دو الگ الگ غذائی اکائیاں شمار کرتے ہیں ، جن کے درمیان وقفہ بہت ضروری ہے ۔ معاشرے کی جو پرتیں اس سے ذرا اوپر ہیں ان کی جدید فقہ میں کھجور ، فروٹ چاٹ اور پکوڑوں کے بغیر روزہ کھل ہی نہیں سکتا ۔ چونکہ آجکل روزے گرمیوں میں آ تے ہیں ، اس لئے ’ٹھوس ‘ افطاری کے ساتھ لیموں کا رس ، کوئی مشرقی شربت یا کو لا وغیرہ بھی لازمی ہے اور اگر ان سب مشروبات کی کاک ٹیل مل جائے تو پھر آپ کے درجات کی بلندی کا کیا کہنا ۔

اپنے تمدنی پس منظر کی طرف جائیں تو ’روزگار فقیر ‘ میں پلاﺅ اور شامی کباب کے لئے ’اسلامی غذاﺅں‘ کی تر کیب اقبال سے منسوب کی گئی ہے ، جو ان سماجی ، لسانی اور نسلی اثرات کی طرف ایک اشارہ ہے جن کی تاریخ دنیائے عرب ہی سے نہیں ، ترکی ، ایران ، افغانستان اور مشرق وسطیٰ سے بھی جڑی ہوئی ہے ۔ پھر بھی ان علاقوں میں جن پر پاکستان مشتمل ہے ، روحانی شخصیات کے مزاروں کو چھوڑ کر ، جہاں بڑے بڑے پاپی اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے اور لنگروں سے ایک خلق خدا کو رزق ملتا ، ہمارے ماضی کی عوامی زندگی میں آپ کو آج کے پر تکلف تقریباتی کھانوں کا نام و نشان کم ہی ملے گا ۔ معروف افسانہ نگار اے حمید نے اپنے لڑکپن کے امرتسر میں سحری کی تیاریوں اور چائے کے سماوار کا ذکر ہمیشہ چاہت سے کیا ہے ، مگر اکثر پاکستانیوں کے لئے 14 اگست کا سورج ہی انڈے پراٹھے لایا تھا ۔

امرتسری مسلمانوں کے برعکس ، میرے بچپن کے سیالکوٹ میں روزہ رکھنے کا بندوبست دہی اور گھی والی روٹی سے آگے کبھی نہ بڑھا جس میں کشمیری روایت کے مطابق ذرا سا نمک ڈال کے خمیر اٹھا دیا جاتا ۔ افطاری بالکل ہی غیر محسوس انداز میں ہوتی اس لئے تخم لنگاں کی چپچپاہٹ اور کبھی کبھار اڑھائی آنے والی کھاری بوتل کی ’درد تہہ جام‘ کے سوا کچھ یاد نہیں ۔ شائد اس کے پیچھے ایک پسماندہ مسلمان علاقہ میں نیم زرعی معاشرت سے نکل کر شہری متوسط طبقہ میں ’نقب‘ لگانے کی ہماری کاوش کو دخل ہو ۔ یوں ، اپنے داد ا ابا میں ہر رتبہ کے آدمی کے ساتھ کندھے ملا کر نماز ادا کرنے کا شوق تو نظر آیا ، لیکن روزہ رکھنے سے شائد خوراک میں ’لیٹ نکالنے‘ کی خواہش پہ زد پڑتی ہوگی ۔ اس لئے روزہ داری کی پابندی میں نے صرف دادی، ماں اور پھوپھیوں میں دیکھی ، جو ’چپ چپیتی‘ اور غیر نمائشی نوعیت کی تھی ۔

ابتدائی عمر کی یتیمی ، سخت جسمانی محنت ، کاروباری سوجھ بوجھ اور انسان دوستی سے پھوٹنے والی اس انسانی اکائی کے تضادات کو میں آج تک نہیں سمجھ سکا جسے بچوں اور آگے ان کے بیٹے بیٹیوں نے ہمیشہ ابا جی ہی کہا ۔ رمضان ہو یا کوئی اور مہینہ ، ابا جی کی بڑے پایوں والی چارپائی پہ میری آنکھ صبح کے جھٹپٹے میں انہی کی نیم مترنم آواز سے کھلا کرتی ۔ یہ ترنم قدرے بلند آواز میں نماز پڑھنے سے پیدا ہوتا ۔ پھر پنجابی لہجہ میں تلاوت کرتے ، جسے قرا ت کا لوک انداز کہنا چاہئیے ۔ اس کے بعد حقے کی گڑگڑاہٹ ، جو ہلکی پھلکی بات چیت شروع ہو نے کے بعد ہنسی اور معمولی کھانسی کے ایک مشفقانہ مکسچر میں تبدیل ہو جاتی ۔ اباجی جس خاموشی سے ہر نماز کی پابندی کرتے ، اتنی ہی آہستگی کے ساتھ روزے بھی چھوڑتے جاتے ۔ نہ کبھی نمازیں بحث کا موضوع بنیں ، نہ روزہ خوری پہ کوئی تنازعہ اٹھا ۔

یہ رویہ فقط گھر کی چار دیواری تک محدود نہیں تھا ، محلہ میں بھی کوئی آدمی اس پہ نظر نہ رکھتا کہ کس کس کا روزہ ہے اور کون محض وضعداری سے کام لے رہا ہے ۔ نہ یہ حساب کیا جاتا کہ کس شخص نے کونسی مسجد میں نماز ادا کی ، ہاتھ کس کر باندھے یا ڈھیلے، اور سجدوں کی طوالت میں بخل سے کام تو نہیں لیا گیا ۔ اگر کوئی میری بات کو گپ نہ سمجھے تو ہمارے سو ، سوا سو گز نصف قطر کے اندر تین میں سے دو مساجد ان معنوں میں ’سیکولر‘ نوعیت کی تھیں کہ ان میں فل ٹائم تنخواہ دار پیش امام تھے ہی نہیں ۔ مجھ سے بڑے کئی لڑکے اذان کہنے کے مشتاق ہوتے اور امامت کے لئے بھی معززین کا ایک غیر رسمی پینل موجود رہتا ، جن میں سے پنجاب اسمبلی کو پہلی بار فرنیچر سپلائی کرنے والے مستری جھنڈا کے داماد پروفیسر عبدالمجید واحد باریش بزرگ تھے ۔

اس زمانے میں احترام رمضان آرڈیننس کے نہ ہوتے ہوئے بھی ہم نے کسی روزہ دار کی دل آزاری کا کوئی ظاہری سامان کہیں نہ دیکھا ، بلکہ یوں محسوس ہوتا کہ لوگ ایک دوسرے کے طرز عمل کو دل سے برداشت کر رہے ہیں ۔مثال کے طور پہ میری اور میرے بھائی کی عمریں آٹھ اور سات سال ہوں گی جب ایک عید الفطر پہ آبائی شہر جاتے ہوئے ابا کے اردلی نذیر نے ہم دونوں اور خود اپنے لئے ٹرین کی سیٹ پہ دسترخوان بچھایا تو ایک عمر رسیدہ مسافر بہت شائستہ لہجہ میں کہنے لگے’ بیٹا ، روزہ نہیں ہے؟‘ پھر اس مختصر جواب سے مطمئن ہو گئے کہ ’جی ، آج نہیں رکھا‘ ۔ نہ استغاثہ کے بیان ہوئے ، نہ صفائی کی جرح ۔ آپ پوچھیں گے کہ اس صورت میں نذیر کی ڈھال کا کیا بنا ۔ سیدھا سا جواب ہے کہ ڈھال تو ہر حال میں موجود رہی ، بس اس کا رخ الٹا دیا تھا تاکہ ہماری روزہ خوری سے کسی اور کا روزہ خراب نہ ہو نے پائے ۔ کیا پتا اللہ میاں کو ان کی یہی ادا پسند آگئی ہو:

کوئی یہ پوچھے کہ واعظ کا کیا بگڑتا ہے

جو بے عمل پہ بھی رحمت وہ بے نیاز کرے

رمضان المبارک میں مجھ جیسے کمزور دل لوگ جن ہستیوں کو یاد کرکے تقویت حاصل کرتے ہیں ان میں مرزا غالب ہی نہیں ، علامہ اقبال بھی شامل ہیں ۔ ڈاکٹر جاوید اقبال کا بیان ہے کہ ان کے والد جب کبھی روزہ رکھ لیتے تو طبیعت دن بھر بے چین سی رہتی اور کئی کئی بار پوچھتے کہ بھئی ، افطار میں کتنا وقت باقی رہ گیا ہے ۔ میری یہ بات سن کر ڈنڈے کے زور پہ اسلامی تمدن کو فروغ دینے والے بعض مومن ضرور سوچ رہے ہوں گے کہ کیوں نہ پچھلی تاریخ ڈال کر حضرت علامہ پہ احترام رمضان آرڈیننس کی شقوں کا اطلاق کر دیا جائے اور جب وہ حیران و پریشان ہو کر قانون نافذ کرنے والے حاکموں کی طرف دیکھیں تو ان سے پوچھا جائے کہ اے حکیم الامت ہم تجھے موقع دیتے ہیں کہ ’بتا تیری رضا کیا ہے؟‘

یہ تو سب جانتے ہیں کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق روزہ ڈھال ہے ، جسے عام الفاظ میں یوں کہہ سکتے ہیں کہ اس کا مقصد ناجائز ترغیبات ، نفسانی خواہشوں ، بے انصافی اور لاتعداد دیگر برائیوں سے اپنے آپ کو بچا کر رکھنا ہے ۔ اس لحاظ سے دیکھیں تو خطروں سے نمٹنے کے لئے اسے خود حفاظتی کا ایک حصار سمجھنا چاہئیے ، مگر اقبال کا ذکر یوں کرنا پڑے گا کہ ہم نے اس ڈھال کو مدافعتی آلہ تورہنے ہی نہیں دیا بلکہ جارحیت کا ہتھیار بنا ڈالا ہے ۔ یقین نہ آئے تو کسی بھی سرکاری ، نیم سرکاری یا نجی شعبہ کی افطار پارٹی میں دھینگا مشتی کے مناظر دیکھ لیجئے یا روزہ کھلنے کے وقت لاہور کی ایم ایم عالم روڈ کا ایک چکر لگا لیجئے جہاں اب سے دو سال پہلے ایک ریستوراں میں ہر عمر ، صنف اور سماجی پس منظر کے روزہ داروں کی بے تابیاں دیکھ کر مجھے ’غذائی دہشت گردی‘ کی اصطلاح ایجاد کرنا پڑی تھی ۔

معمولی سے فرق کے ساتھ ، جسے میرے صحافی اور دانشور دوست اعجاز رضوی محض ’پروسیجرل اختلاف‘ کہتے ہیں ، تمام مسلمانوں کے روزہ کھولنے کا وقت نماز مغرب کے قریب ہے ، لیکن تقوے کے غرور سے پیدا ہونے والی ہماری جارحانہ کارروائیاں افطار کے مرحلے سے کئی گھنٹے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہیں ۔ اول تو ماہ صیام کے دوران صبح دس ، ساڑھے دس بجے سے پہلے دفتر پہنچنے والے افسروں کو ہر گز خاندانی آدمی تصور نہیں کیا جاتا ۔ پھر اگر آپ بینک ، نجی ادارے یا سیکرٹیریٹ میں ڈیوٹی پہ حاضر ہو ہی گئے ہیں تو رمضان کی برکت سے رعائتی وقت پہ ہونے والی چھٹی سے پہلے دن بھر آپ کی ’ پبلک ڈیلنگ‘ میں ایسی متقیانہ بے رخی ہونی چاہئیے جیسے ، بقول ضمیر جعفری ‘ یہ کہہ رہے ہوں کہ :

مجھ سے مت کر یار ، کچھ گفتار ، میں روزے سے ہوں

ہو نہ جائے تجھ سے بھی تکرار ، میں روزے سے ہوں

میرا روزہ اک بڑا احسان ہے لوگوں کے سر

مجھ کو ڈالو موتیے کے ہار ، میں روزے سے ہوں

میں نے ہر فائل کی دمچی پر یہ مصرعہ لکھ دیا

کام ہو سکتا نہیں سرکار ، میں روزے سے ہوں

یہ تو رمضان کے پہلے عشرے کی صورتحال تھی ۔ ایک ہفتہ اور گزرنے دیں کہ گھر کا پرنالہ ٹھیک کرانے سے لے کر لائیبریری سے ریفرنس مٹیریل کی کاپی نکلوانے تک کوئی بھی شعبہ ہو ، جوتے ، کپڑے یا گوٹا کناری بیچنے والے کے سوا ہر کارندے سے یہی جواب ملے گا کہ بس اب آپ اپنا کام عید کے بعد ہی سمجھیں ۔ ایک درزی ہیں جن کا ’لارا‘ کاج بٹن کے بہانے چاند رات تک ہوتا ہے ۔ پھر بھی روزوں کے مہینہ میں جس مسئلہ کی نشاندہی میں کر نا چاہتا ہوں ، وہ کام چوری ، حد سے بڑھی ہوئی مصروفیات یا اوقات نامے کے الجھاﺅ تک محدود نہیں ۔ معاملہ اس سے کہیں زیادہ گمبھیر ہے ، اور وہ ہے ’پپو یار ، تنگ نہ کر‘ کا ملک گیر عوامی رویہ ، اور ساتھ ہی پوری قوم کے سب ’پپوﺅں‘ میں سے ایک ایک کا یہ پختہ عزم کہ وہ اپنے سوا ہر کسی کو تنگ نہ کر سکا تو اس کا نام بھی پپو نہیں۔

تماشہ دیکھنا ہو تو کسی سہ پہر نہر کے ایف سی کالج والے پل پہ پہنچ جائیے ، جس کا نام ایک منصف مزاج جج کے نام پہ اب جسٹس کارنیلیس ایگزٹ ہے ۔ ایک تو یہاں سے پنجاب یونیورسٹی ، گلبرگ ، اچھرہ ، شاہ جمال ، شادمان اور مال روڈ کی جانب نکلنے والی تمام سڑکیں اور ضمنی راستے شمار کر کے کار ، موٹر سائیکل یا رکشا پر مختلف زاویوں پہ مڑنے کی گنجائش متعین کی جائے تو آپ مانیں یا نہ مانیں ، امکانی موڑ مڑنے کی کل تعداد تینتیس بنتی ہے ۔ چونکہ ہمارے نزدیک سالانہ خفیہ رپورٹ کے ’کوانٹیفکیشن سسٹم‘ کی طرح سحری کھانے ، دن بھر روزہ رکھنے اور شام کو افطاری کرنے کے زمرے الگ الگ ہیں ، سو ثواب کی دوڑ میں سب کو پیچھے چھوڑ کر فرسٹ آنے کی تگ و دو شدید تر ہو جاتی ہے ۔ جیسے کوئی پکار رہا ہو کہ ’اے روزہ دار جلدی سے پل پار کر لے ۔ شائد یہ تیری زندگی کی آخری افطاری ہو‘ ۔

ہزار خرابیوں کے باوجود آزاد پاکستان نے روزہ کشائی کی جس گمبھیر روایت کو جنم دیا ہے ، ہمارے موجودہ وطن میں پچھلی نسل کے لوگ اس کی لذت سے آشنا ہی نہیں تھے ۔ اب شہروں میں چھوٹے متوسط طبقے کا حال بھی یہ ہوتا جا رہا ہے کہ افطاری اور رات کے کھانے کو دو الگ الگ غذائی اکائیاں شمار کرتے ہیں ، جن کے درمیان وقفہ بہت ضروری ہے ۔ معاشرے کی جو پرتیں اس سے ذرا اوپر ہیں ان کی جدید فقہ میں کھجور ، فروٹ چاٹ اور پکوڑوں کے بغیر روزہ کھل ہی نہیں سکتا ۔ چونکہ آجکل روزے گرمیوں میں آ تے ہیں ، اس لئے ’ٹھوس ‘ افطاری کے ساتھ لیموں کا رس ، کوئی مشرقی شربت یا کو لا وغیرہ بھی لازمی ہے اور اگر ان سب مشروبات کی کاک ٹیل مل جائے تو پھر آپ کے درجات کی بلندی کا کیا کہنا ۔

اپنے تمدنی پس منظر کی طرف جائیں تو ’روزگار فقیر ‘ میں پلاﺅ اور شامی کباب کے لئے ’اسلامی غذاﺅں‘ کی تر کیب اقبال سے منسوب کی گئی ہے ، جو ان سماجی ، لسانی اور نسلی اثرات کی طرف ایک اشارہ ہے جن کی تاریخ دنیائے عرب ہی سے نہیں ، ترکی ، ایران ، افغانستان اور مشرق وسطیٰ سے بھی جڑی ہوئی ہے ۔ پھر بھی ان علاقوں میں جن پر پاکستان مشتمل ہے ، روحانی شخصیات کے مزاروں کو چھوڑ کر ، جہاں بڑے بڑے پاپی اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے اور لنگروں سے ایک خلق خدا کو رزق ملتا ، ہمارے ماضی کی عوامی زندگی میں آپ کو آج کے پر تکلف تقریباتی کھانوں کا نام و نشان کم ہی ملے گا ۔ معروف افسانہ نگار اے حمید نے اپنے لڑکپن کے امرتسر میں سحری کی تیاریوں اور چائے کے سماوار کا ذکر ہمیشہ چاہت سے کیا ہے ، مگر اکثر پاکستانیوں کے لئے 14 اگست کا سورج ہی انڈے پراٹھے لایا تھا ۔

امرتسری مسلمانوں کے برعکس ، میرے بچپن کے سیالکوٹ میں روزہ رکھنے کا بندوبست دہی اور گھی والی روٹی سے آگے کبھی نہ بڑھا جس میں کشمیری روایت کے مطابق ذرا سا نمک ڈال کے خمیر اٹھا دیا جاتا ۔ افطاری بالکل ہی غیر محسوس انداز میں ہوتی اس لئے تخم لنگاں کی چپچپاہٹ اور کبھی کبھار اڑھائی آنے والی کھاری بوتل کی ’درد تہہ جام‘ کے سوا کچھ یاد نہیں ۔ شائد اس کے پیچھے ایک پسماندہ مسلمان علاقہ میں نیم زرعی معاشرت سے نکل کر شہری متوسط طبقہ میں ’نقب‘ لگانے کی ہماری کاوش کو دخل ہو ۔ یوں ، اپنے داد ا ابا میں ہر رتبہ کے آدمی کے ساتھ کندھے ملا کر نماز ادا کرنے کا شوق تو نظر آیا ، لیکن روزہ رکھنے سے شائد خوراک میں ’لیٹ نکالنے‘ کی خواہش پہ زد پڑتی ہوگی ۔ اس لئے روزہ داری کی پابندی میں نے صرف دادی، ماں اور پھوپھیوں میں دیکھی ، جو ’چپ چپیتی‘ اور غیر نمائشی نوعیت کی تھی ۔

ابتدائی عمر کی یتیمی ، سخت جسمانی محنت ، کاروباری سوجھ بوجھ اور انسان دوستی سے پھوٹنے والی اس انسانی اکائی کے تضادات کو میں آج تک نہیں سمجھ سکا جسے بچوں اور آگے ان کے بیٹے بیٹیوں نے ہمیشہ ابا جی ہی کہا ۔ رمضان ہو یا کوئی اور مہینہ ، ابا جی کی بڑے پایوں والی چارپائی پہ میری آنکھ صبح کے جھٹپٹے میں انہی کی نیم مترنم آواز سے کھلا کرتی ۔ یہ ترنم قدرے بلند آواز میں نماز پڑھنے سے پیدا ہوتا ۔ پھر پنجابی لہجہ میں تلاوت کرتے ، جسے قرا ت کا لوک انداز کہنا چاہئیے ۔ اس کے بعد حقے کی گڑگڑاہٹ ، جو ہلکی پھلکی بات چیت شروع ہو نے کے بعد ہنسی اور معمولی کھانسی کے ایک مشفقانہ مکسچر میں تبدیل ہو جاتی ۔ اباجی جس خاموشی سے ہر نماز کی پابندی کرتے ، اتنی ہی آہستگی کے ساتھ روزے بھی چھوڑتے جاتے ۔ نہ کبھی نمازیں بحث کا موضوع بنیں ، نہ روزہ خوری پہ کوئی تنازعہ اٹھا ۔

یہ رویہ فقط گھر کی چار دیواری تک محدود نہیں تھا ، محلہ میں بھی کوئی آدمی اس پہ نظر نہ رکھتا کہ کس کس کا روزہ ہے اور کون محض وضعداری سے کام لے رہا ہے ۔ نہ یہ حساب کیا جاتا کہ کس شخص نے کونسی مسجد میں نماز ادا کی ، ہاتھ کس کر باندھے یا ڈھیلے، اور سجدوں کی طوالت میں بخل سے کام تو نہیں لیا گیا ۔ اگر کوئی میری بات کو گپ نہ سمجھے تو ہمارے سو ، سوا سو گز نصف قطر کے اندر تین میں سے دو مساجد ان معنوں میں ’سیکولر‘ نوعیت کی تھیں کہ ان میں فل ٹائم تنخواہ دار پیش امام تھے ہی نہیں ۔ مجھ سے بڑے کئی لڑکے اذان کہنے کے مشتاق ہوتے اور امامت کے لئے بھی معززین کا ایک غیر رسمی پینل موجود رہتا ، جن میں سے پنجاب اسمبلی کو پہلی بار فرنیچر سپلائی کرنے والے مستری جھنڈا کے داماد پروفیسر عبدالمجید واحد باریش بزرگ تھے ۔

اس زمانے میں احترام رمضان آرڈیننس کے نہ ہوتے ہوئے بھی ہم نے کسی روزہ دار کی دل آزاری کا کوئی ظاہری سامان کہیں نہ دیکھا ، بلکہ یوں محسوس ہوتا کہ لوگ ایک دوسرے کے طرز عمل کو دل سے برداشت کر رہے ہیں ۔مثال کے طور پہ میری اور میرے بھائی کی عمریں آٹھ اور سات سال ہوں گی جب ایک عید الفطر پہ آبائی شہر جاتے ہوئے ابا کے اردلی نذیر نے ہم دونوں اور خود اپنے لئے ٹرین کی سیٹ پہ دسترخوان بچھایا تو ایک عمر رسیدہ مسافر بہت شائستہ لہجہ میں کہنے لگے’ بیٹا ، روزہ نہیں ہے؟‘ پھر اس مختصر جواب سے مطمئن ہو گئے کہ ’جی ، آج نہیں رکھا‘ ۔ نہ استغاثہ کے بیان ہوئے ، نہ صفائی کی جرح ۔ آپ پوچھیں گے کہ اس صورت میں نذیر کی ڈھال کا کیا بنا ۔ سیدھا سا جواب ہے کہ ڈھال تو ہر حال میں موجود رہی ، بس اس کا رخ الٹا دیا تھا تاکہ ہماری روزہ خوری سے کسی اور کا روزہ خراب نہ ہو نے پائے ۔ کیا پتا اللہ میاں کو ان کی یہی ادا پسند آگئی ہو:

کوئی یہ پوچھے کہ واعظ کا کیا بگڑتا ہے

جو بے عمل پہ بھی رحمت وہ بے نیاز کرے

رمضان المبارک میں مجھ جیسے کمزور دل لوگ جن ہستیوں کو یاد کرکے تقویت حاصل کرتے ہیں ان میں مرزا غالب ہی نہیں ، علامہ اقبال بھی شامل ہیں ۔ ڈاکٹر جاوید اقبال کا بیان ہے کہ ان کے والد جب کبھی روزہ رکھ لیتے تو طبیعت دن بھر بے چین سی رہتی اور کئی کئی بار پوچھتے کہ بھئی ، افطار میں کتنا وقت باقی رہ گیا ہے ۔ میری یہ بات سن کر ڈنڈے کے زور پہ اسلامی تمدن کو فروغ دینے والے بعض مومن ضرور سوچ رہے ہوں گے کہ کیوں نہ پچھلی تاریخ ڈال کر حضرت علامہ پہ احترام رمضان آرڈیننس کی شقوں کا اطلاق کر دیا جائے اور جب وہ حیران و پریشان ہو کر قانون نافذ کرنے والے حاکموں کی طرف دیکھیں تو ان سے پوچھا جائے کہ اے حکیم الامت ہم تجھے موقع دیتے ہیں کہ ’بتا تیری رضا کیا ہے؟‘

یہ تو سب جانتے ہیں کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق روزہ ڈھال ہے ، جسے عام الفاظ میں یوں کہہ سکتے ہیں کہ اس کا مقصد ناجائز ترغیبات ، نفسانی خواہشوں ، بے انصافی اور لاتعداد دیگر برائیوں سے اپنے آپ کو بچا کر رکھنا ہے ۔ اس لحاظ سے دیکھیں تو خطروں سے نمٹنے کے لئے اسے خود حفاظتی کا ایک حصار سمجھنا چاہئیے ، مگر اقبال کا ذکر یوں کرنا پڑے گا کہ ہم نے اس ڈھال کو مدافعتی آلہ تورہنے ہی نہیں دیا بلکہ جارحیت کا ہتھیار بنا ڈالا ہے ۔ یقین نہ آئے تو کسی بھی سرکاری ، نیم سرکاری یا نجی شعبہ کی افطار پارٹی میں دھینگا مشتی کے مناظر دیکھ لیجئے یا روزہ کھلنے کے وقت لاہور کی ایم ایم عالم روڈ کا ایک چکر لگا لیجئے جہاں اب سے دو سال پہلے ایک ریستوراں میں ہر عمر ، صنف اور سماجی پس منظر کے روزہ داروں کی بے تابیاں دیکھ کر مجھے ’غذائی دہشت گردی‘ کی اصطلاح ایجاد کرنا پڑی تھی ۔

معمولی سے فرق کے ساتھ ، جسے میرے صحافی اور دانشور دوست اعجاز رضوی محض ’پروسیجرل اختلاف‘ کہتے ہیں ، تمام مسلمانوں کے روزہ کھولنے کا وقت نماز مغرب کے قریب ہے ، لیکن تقوے کے غرور سے پیدا ہونے والی ہماری جارحانہ کارروائیاں افطار کے مرحلے سے کئی گھنٹے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہیں ۔ اول تو ماہ صیام کے دوران صبح دس ، ساڑھے دس بجے سے پہلے دفتر پہنچنے والے افسروں کو ہر گز خاندانی آدمی تصور نہیں کیا جاتا ۔ پھر اگر آپ بینک ، نجی ادارے یا سیکرٹیریٹ میں ڈیوٹی پہ حاضر ہو ہی گئے ہیں تو رمضان کی برکت سے رعائتی وقت پہ ہونے والی چھٹی سے پہلے دن بھر آپ کی ’ پبلک ڈیلنگ‘ میں ایسی متقیانہ بے رخی ہونی چاہئیے جیسے ، بقول ضمیر جعفری ‘ یہ کہہ رہے ہوں کہ :

مجھ سے مت کر یار ، کچھ گفتار ، میں روزے سے ہوں 

ہو نہ جائے تجھ سے بھی تکرار ، میں روزے سے ہوں

میرا روزہ اک بڑا احسان ہے لوگوں کے سر

مجھ کو ڈالو موتیے کے ہار ، میں روزے سے ہوں

میں نے ہر فائل کی دمچی پر یہ مصرعہ لکھ دیا

کام ہو سکتا نہیں سرکار ، میں روزے سے ہوں

یہ تو رمضان کے پہلے عشرے کی صورتحال تھی ۔ ایک ہفتہ اور گزرنے دیں کہ گھر کا پرنالہ ٹھیک کرانے سے لے کر لائیبریری سے ریفرنس مٹیریل کی کاپی نکلوانے تک کوئی بھی شعبہ ہو ، جوتے ، کپڑے یا گوٹا کناری بیچنے والے کے سوا ہر کارندے سے یہی جواب ملے گا کہ بس اب آپ اپنا کام عید کے بعد ہی سمجھیں ۔ ایک درزی ہیں جن کا ’لارا‘ کاج بٹن کے بہانے چاند رات تک ہوتا ہے ۔ پھر بھی روزوں کے مہینہ میں جس مسئلہ کی نشاندہی میں کر نا چاہتا ہوں ، وہ کام چوری ، حد سے بڑھی ہوئی مصروفیات یا اوقات نامے کے الجھاﺅ تک محدود نہیں ۔ معاملہ اس سے کہیں زیادہ گمبھیر ہے ، اور وہ ہے ’پپو یار ، تنگ نہ کر‘ کا ملک گیر عوامی رویہ ، اور ساتھ ہی پوری قوم کے سب ’پپوﺅں‘ میں سے ایک ایک کا یہ پختہ عزم کہ وہ اپنے سوا ہر کسی کو تنگ نہ کر سکا تو اس کا نام بھی پپو نہیں۔

تماشہ دیکھنا ہو تو کسی سہ پہر نہر کے ایف سی کالج والے پل پہ پہنچ جائیے ، جس کا نام ایک منصف مزاج جج کے نام پہ اب جسٹس کارنیلیس ایگزٹ ہے ۔ ایک تو یہاں سے پنجاب یونیورسٹی ، گلبرگ ، اچھرہ ، شاہ جمال ، شادمان اور مال روڈ کی جانب نکلنے والی تمام سڑکیں اور ضمنی راستے شمار کر کے کار ، موٹر سائیکل یا رکشا پر مختلف زاویوں پہ مڑنے کی گنجائش متعین کی جائے تو آپ مانیں یا نہ مانیں ، امکانی موڑ مڑنے کی کل تعداد تینتیس بنتی ہے ۔ چونکہ ہمارے نزدیک سالانہ خفیہ رپورٹ کے ’کوانٹیفکیشن سسٹم‘ کی طرح سحری کھانے ، دن بھر روزہ رکھنے اور شام کو افطاری کرنے کے زمرے الگ الگ ہیں ، سو ثواب کی دوڑ میں سب کو پیچھے چھوڑ کر فرسٹ آنے کی تگ و دو شدید تر ہو جاتی ہے ۔ جیسے کوئی پکار رہا ہو کہ ’اے روزہ دار جلدی سے پل پار کر لے ۔ شائد یہ تیری زندگی کی آخری افطاری ہو‘ ۔

ہزار خرابیوں کے باوجود آزاد پاکستان نے روزہ کشائی کی جس گمبھیر روایت کو جنم دیا ہے ، ہمارے موجودہ وطن میں پچھلی نسل کے لوگ اس کی لذت سے آشنا ہی نہیں تھے ۔ اب شہروں میں چھوٹے متوسط طبقے کا حال بھی یہ ہوتا جا رہا ہے کہ افطاری اور رات کے کھانے کو دو الگ الگ غذائی اکائیاں شمار کرتے ہیں ، جن کے درمیان وقفہ بہت ضروری ہے ۔ معاشرے کی جو پرتیں اس سے ذرا اوپر ہیں ان کی جدید فقہ میں کھجور ، فروٹ چاٹ اور پکوڑوں کے بغیر روزہ کھل ہی نہیں سکتا ۔ چونکہ آجکل روزے گرمیوں میں آ تے ہیں ، اس لئے ’ٹھوس ‘ افطاری کے ساتھ لیموں کا رس ، کوئی مشرقی شربت یا کو لا وغیرہ بھی لازمی ہے اور اگر ان سب مشروبات کی کاک ٹیل مل جائے تو پھر آپ کے درجات کی بلندی کا کیا کہنا ۔

اپنے تمدنی پس منظر کی طرف جائیں تو ’روزگار فقیر ‘ میں پلاﺅ اور شامی کباب کے لئے ’اسلامی غذاﺅں‘ کی تر کیب اقبال سے منسوب کی گئی ہے ، جو ان سماجی ، لسانی اور نسلی اثرات کی طرف ایک اشارہ ہے جن کی تاریخ دنیائے عرب ہی سے نہیں ، ترکی ، ایران ، افغانستان اور مشرق وسطیٰ سے بھی جڑی ہوئی ہے ۔ پھر بھی ان علاقوں میں جن پر پاکستان مشتمل ہے ، روحانی شخصیات کے مزاروں کو چھوڑ کر ، جہاں بڑے بڑے پاپی اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے اور لنگروں سے ایک خلق خدا کو رزق ملتا ، ہمارے ماضی کی عوامی زندگی میں آپ کو آج کے پر تکلف تقریباتی کھانوں کا نام و نشان کم ہی ملے گا ۔ معروف افسانہ نگار اے حمید نے اپنے لڑکپن کے امرتسر میں سحری کی تیاریوں اور چائے کے سماوار کا ذکر ہمیشہ چاہت سے کیا ہے ، مگر اکثر پاکستانیوں کے لئے 14 اگست کا سورج ہی انڈے پراٹھے لایا تھا ۔

امرتسری مسلمانوں کے برعکس ، میرے بچپن کے سیالکوٹ میں روزہ رکھنے کا بندوبست دہی اور گھی والی روٹی سے آگے کبھی نہ بڑھا جس میں کشمیری روایت کے مطابق ذرا سا نمک ڈال کے خمیر اٹھا دیا جاتا ۔ افطاری بالکل ہی غیر محسوس انداز میں ہوتی اس لئے تخم لنگاں کی چپچپاہٹ اور کبھی کبھار اڑھائی آنے والی کھاری بوتل کی ’درد تہہ جام‘ کے سوا کچھ یاد نہیں ۔ شائد اس کے پیچھے ایک پسماندہ مسلمان علاقہ میں نیم زرعی معاشرت سے نکل کر شہری متوسط طبقہ میں ’نقب‘ لگانے کی ہماری کاوش کو دخل ہو ۔ یوں ، اپنے داد ا ابا میں ہر رتبہ کے آدمی کے ساتھ کندھے ملا کر نماز ادا کرنے کا شوق تو نظر آیا ، لیکن روزہ رکھنے سے شائد خوراک میں ’لیٹ نکالنے‘ کی خواہش پہ زد پڑتی ہوگی ۔ اس لئے روزہ داری کی پابندی میں نے صرف دادی، ماں اور پھوپھیوں میں دیکھی ، جو ’چپ چپیتی‘ اور غیر نمائشی نوعیت کی تھی ۔

ابتدائی عمر کی یتیمی ، سخت جسمانی محنت ، کاروباری سوجھ بوجھ اور انسان دوستی سے پھوٹنے والی اس انسانی اکائی کے تضادات کو میں آج تک نہیں سمجھ سکا جسے بچوں اور آگے ان کے بیٹے بیٹیوں نے ہمیشہ ابا جی ہی کہا ۔ رمضان ہو یا کوئی اور مہینہ ، ابا جی کی بڑے پایوں والی چارپائی پہ میری آنکھ صبح کے جھٹپٹے میں انہی کی نیم مترنم آواز سے کھلا کرتی ۔ یہ ترنم قدرے بلند آواز میں نماز پڑھنے سے پیدا ہوتا ۔ پھر پنجابی لہجہ میں تلاوت کرتے ، جسے قرا ت کا لوک انداز کہنا چاہئیے ۔ اس کے بعد حقے کی گڑگڑاہٹ ، جو ہلکی پھلکی بات چیت شروع ہو نے کے بعد ہنسی اور معمولی کھانسی کے ایک مشفقانہ مکسچر میں تبدیل ہو جاتی ۔ اباجی جس خاموشی سے ہر نماز کی پابندی کرتے ، اتنی ہی آہستگی کے ساتھ روزے بھی چھوڑتے جاتے ۔ نہ کبھی نمازیں بحث کا موضوع بنیں ، نہ روزہ خوری پہ کوئی تنازعہ اٹھا ۔

یہ رویہ فقط گھر کی چار دیواری تک محدود نہیں تھا ، محلہ میں بھی کوئی آدمی اس پہ نظر نہ رکھتا کہ کس کس کا روزہ ہے اور کون محض وضعداری سے کام لے رہا ہے ۔ نہ یہ حساب کیا جاتا کہ کس شخص نے کونسی مسجد میں نماز ادا کی ، ہاتھ کس کر باندھے یا ڈھیلے، اور سجدوں کی طوالت میں بخل سے کام تو نہیں لیا گیا ۔ اگر کوئی میری بات کو گپ نہ سمجھے تو ہمارے سو ، سوا سو گز نصف قطر کے اندر تین میں سے دو مساجد ان معنوں میں ’سیکولر‘ نوعیت کی تھیں کہ ان میں فل ٹائم تنخواہ دار پیش امام تھے ہی نہیں ۔ مجھ سے بڑے کئی لڑکے اذان کہنے کے مشتاق ہوتے اور امامت کے لئے بھی معززین کا ایک غیر رسمی پینل موجود رہتا ، جن میں سے پنجاب اسمبلی کو پہلی بار فرنیچر سپلائی کرنے والے مستری جھنڈا کے داماد پروفیسر عبدالمجید واحد باریش بزرگ تھے ۔

اس زمانے میں احترام رمضان آرڈیننس کے نہ ہوتے ہوئے بھی ہم نے کسی روزہ دار کی دل آزاری کا کوئی ظاہری سامان کہیں نہ دیکھا ، بلکہ یوں محسوس ہوتا کہ لوگ ایک دوسرے کے طرز عمل کو دل سے برداشت کر رہے ہیں ۔مثال کے طور پہ میری اور میرے بھائی کی عمریں آٹھ اور سات سال ہوں گی جب ایک عید الفطر پہ آبائی شہر جاتے ہوئے ابا کے اردلی نذیر نے ہم دونوں اور خود اپنے لئے ٹرین کی سیٹ پہ دسترخوان بچھایا تو ایک عمر رسیدہ مسافر بہت شائستہ لہجہ میں کہنے لگے’ بیٹا ، روزہ نہیں ہے؟‘ پھر اس مختصر جواب سے مطمئن ہو گئے کہ ’جی ، آج نہیں رکھا‘ ۔ نہ استغاثہ کے بیان ہوئے ، نہ صفائی کی جرح ۔ آپ پوچھیں گے کہ اس صورت میں نذیر کی ڈھال کا کیا بنا ۔ سیدھا سا جواب ہے کہ ڈھال تو ہر حال میں موجود رہی ، بس اس کا رخ الٹا دیا تھا تاکہ ہماری روزہ خوری سے کسی اور کا روزہ خراب نہ ہو نے پائے ۔ کیا پتا اللہ میاں کو ان کی یہی ادا پسند آگئی ہو:

کوئی یہ پوچھے کہ واعظ کا کیا بگڑتا ہے

جو بے عمل پہ بھی رحمت وہ بے نیاز کرے

مزید : کالم