کپتان کی نئی تجویز، ذرا غور کریں!

کپتان کی نئی تجویز، ذرا غور کریں!
کپتان کی نئی تجویز، ذرا غور کریں!

  

کپتان تو کپتان ہی ہوتا ہے، اس کی مرضی ہے کہ میدان میں جب چاہے کسی بھی باﺅلر کو تبدیل کر دے اور کسی فیلڈر کو ایک جگہ سے ہٹا کر دوسری جگہ کھڑا کر دے، کیونکہ اس وقت صرف وہی ایک شخص ہوتا ہے جو پوری ٹیم کو کھلانے کا ذمہ دار ہے اور وہ جو کہتا ہے وہ سب کو کرنا ہوتا ہے، چاہے وہ کچھ غلط ہی کیوں نہ ہو، شائقین ٹیلی ویژن پر بیٹھ کر تنقید ، افسوس اور خوشی کا جو اظہار کرتے ہیں وہ گراﺅنڈ تک تو پہنچتا نہیں، اس لئے پنجابی کہاوت کے مطابق ”ہانڈی ابلے گی تے اپنے ہی کنڈے لُوئے گی“ یعنی اگر چولہے پر چڑھی ہانڈی یا دیگچی کو زیادہ ابال آئے گا تو وہ کسی کا کیا بگاڑ لے گی، خود اپنے ہی کنارے جلائے گی، چنانچہ شائقین تو یہی کر سکتے ہیں۔ فیصلہ اور کمانڈ کپتان کے ہاتھ میں ہے تو اسی نے کرنا ہے جو کچھ کرنا ہے۔ جیسے جنگل میں شیر ہی کو یہ اختیار حاصل ہوتا ہے۔ اب پیارے انعام اللہ نیازی اور حفیظ اللہ نیازی جیسی مرضی صلاح دیتے رہیں اس کا اثر بھی تو نہیں ہو سکتا، عادت تو بدلنا مشکل ہوتی ہے۔ آپ لاکھ خود کو ڈیمو کریٹ کہتے اور ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہیں۔ یہ عادت تو نہیں بدل سکتی، جو مُنہ سے نکلے حکم یا ہدایت کی تعمیل چاہتی ہے۔

اپنے کپتان صاحب نے جب سیاست میں قدم رکھا تو اُن کے اور میاں محمد نواز شریف کے تعلقات بہت خوشگوار تھے، میاں محمد نواز شریف کرکٹ کے شوقین ہیں تو عمران خان کا سورج چمک رہا تھا، شائد یہ انہی دِنوں کی بات ہے کہ کپتان عمران خان کو مشورہ دیا گیا کہ وہ الگ سے سیاست کرنے کی بجائے مسلم لیگ(ن) میں شامل ہو کر ایسا کریں۔ ایک یہ خبر بھی ہے کہ ان دِنوں مسلم لیگ (ن) کے دروازے بھی کھلے تھے اور عمران خان کو خوش آمدید کہتے ہوئے ان کو نائب صدر تک بنایا جا سکتا تھا، لیکن انہوں نے اپنی سیاست آپ کرنے کا فیصلہ کیا۔ جماعت بنا ڈالی اور16سالہ محنت کے بعد وہ آج اس مقام پر ہیں کہ خیبرپختونخوا میں ان کی جماعت مخلوط حکومت کی سربراہ ہے۔ قومی اسمبلی میں نشستیں ہیں اور پنجاب میں تو حزب اختلاف انہی کی جماعت اور قائد حزب اختلاف بھی انہی کا ہے۔

اب ذرا جائزہ لیا جائے تو ان کی اس کامیابی کے پیچھے عوام کے جذبات کیا تھے ۔ عمران خان نے تبدیلی کے ساتھ ساتھ اصول کا ذکر کیا۔ انتخابات اور اس سے پہلے کپتان کے بیانات اور تقریریں سنیں اور پڑھی گئیں تو لوگ فدا ہوتے رہے، داد دی کہ ایک لیڈر تو سامنے آیا، جس نے سٹیٹس کو کو چیلنج کیا۔ ایسا محسوس ہونے لگا کہ لوگ دونوں بڑی جماعتوں سے زچ ہیں۔ کپتان نے خود بھی باری کا ذکر کر کے اس تاثر کو تقویت دی۔ ایسے میں کئی بار یہ بھی کہا گیا کہ محترم خان صاحب اسٹیبلشمنٹ کے پسندیدہ کھلاڑی ہیں اور ان کو مسلم لیگ(ن) کو نقصان پہنچانے کے لئے میدان میں اتارا گیا ہے۔ پیپلزپارٹی والے بھی ابتدا میں یہی تصور کر کے خاموش تھے، لیکن جب انتخابات کا عملی میدان لگا تو احساس ہوا کہ تحریک انصاف تو مسلم لیگ(ن) کی بجائے پیپلزپارٹی کے ”گِٹے گوڈوں“ میں بیٹھ گئی ہے۔ بہرحال تحریک انصاف کو شناخت اور حیثیت مل گئی تو عوام اس سے وابستہ توقعات کی تکمیل کے خواہش مند ہوئے۔ عمران خان کے حادثے میں زخمی ہونے اور اس کے بعد تک بھی یہ پوزیشن برقرار تھی۔ اگرچہ اس عرصے میں ان کی کمزوریاں اجاگر کرنے والے ہمدرد اُن کی توجہ بھی مبذول کراتے رہے۔

اب عمران خان اپنے قول کے خلاف انگلینڈ میں زیر علاج ہیں۔ وہ واپس آنے والے ہیں، وہاں ان کو پرنس چارلس نے ایک دعوت میں خصوصی طور پر مدعو کیا، اُن کی ملاقات اور گفتگو بھی ہوئی۔ لیڈی کمیلا پارکر بھی موجود تھیں، اس ملاقات کی فوٹیج چلی تو تصاویر بھی شائع ہوئیں۔ عمران خان کالے سوٹ میں بو لگائے (ڈنر سوٹ) بہت جچ رہے تھے، لیکن ان کے پرستاروں کا کیا کِیا جائے کہ ان کو یہ بھلا نہیں لگا کہ جیسا دیس ویسا بھیس، وہ تو کہتے ہیں یہ پہلی بار تو نہیں ، پہلے بھی ایسے ہی ہوتا تھا کہ عمران خان پاکستان میں شلوار قمیض اور واسکٹ میں ہوتے ہیں اور یورپ جاتے ہی سوٹ پہن لیتے ہیں۔ یہ کوئی ایسی بات تو نہیں، لیکن ان سے محبت اور مخالفت کرنے والے دونوں ہی مضطرب اور گفتگو کر رہے ہیں۔

ابھی یہ بات چل ہی رہی تھی کہ عمران خان کا ایک اور پہلو سامنے آیا جو شدید تنقید کا باعث بنا ہوا ہے۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے حلف اٹھانے سے قبل ہی یہ کہہ دیا تھا کہ دہشت گردی کا مقابلہ مکمل اتفاق رائے ہی سے ممکن ہے اور وہ تمام جماعتوں کو اعتماد میں لیں گے۔ اقتدار سنبھالنے کے بعد انہوں نے ایک اے پی سی کی تیاریاں بھی شروع کر دیں۔ 12جولائی 2013ءکی تاریخ بھی مقرر ہوئی اور ملتوی ہو گئی۔ عمران خان پروگرام کے مطابق لندن روانہ ہو گئے، ابھی نئی تاریخ کا تعین نہیں ہوا، احسن اقبال کہتے ہیں کہ یہ عمران خان کے ملک واپس آنے کے بعد ہو گا۔

مسلم لیگ(ن) کی طرف سے ان کو یہ اہمیت دی گئی تو انہوں نے بھی اسے صدق دل سے قبول کر لیا ہے۔ وہ کہتے ہیں، پہلے بھی تین مختلف کل جماعتی کانفرنسیں ہو چکی ہیں، فائدہ نہیں ہوا، لہٰذا اب ہونے والی کانفرنس فائدہ مند ہونا چاہئے۔ انہوں نے ساتھ ہی کہا کانفرنس سے قبل میری میاں محمد نواز شریف اور آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کے ساتھ بند کمرے کی میٹنگ ہونا چاہئے، کیونکہ یہ حساس مسئلہ ہے اور کھلے بندوں بعض باتیں نہیں کی جا سکتیں۔

ماشاءاللہ یہ وہی عمران خان ہیں، جو باری کی بات کرتے اور اصولوں پر قائم رہنے کا عزم دہراتے اور ان کا مُنہ بھی خشک نہیں ہوتا تھا، اب کیا ہوا، اس نوعیت کا بیان دے کر وہ کیا ظاہر کرنا چاہتے ہیں۔ لوگ تو ان کے پہلے بیانات اور اصول کی باتوں کو پسند کرتے ہیں۔ یہ اچانک تبدیلی ہے، کیا یہ سمجھا جائے کہ عمران خان کے نزدیک اس ملک میں اب تین ہی قوتیں ہے۔ ایک وہ، دوسرے میاں محمد نواز شریف اور تیسرے جنرل اشفاق پرویز کیانی، باقی کوئی نہیں۔ قومی اسمبلی میں جماعتی پوزیشن کیا ہے۔

 جہاں تک بند کمرے میں اجلاس اور اس میں نمائندہ جماعتوں کے صرف سربراہوں کی شرکت کا تعلق ہے تو یہ تجویز ان کالموں میں ایک سے زیادہ بار دہرائی جا چکی اور اب بھی یہ بہتر بات ہے، لیکن صرف وزیراعظم، عمران اور جنرل اشفاق پرویز کیانی کی میٹنگ کیا نتائج دے گی، یہ تو بتا دیا جائے۔ اِسی بات پر تو مولانا فضل الرحمن نے کہا ”عمران خان کو سیاست نہیں آتی“۔ کپتان محروم عوام اور نوجوانوں کی امید بن کر سامنے آئے تھے، لیکن ایسی باتوں سے ان کا تاثر بُری طرح متاثر ہو رہا ہے اور اب تو یہ کہا جا ہا ہے کہ ان کے بارے میں جو کہا جاتا تھا کیا وہ سچ ہے۔

ہمیں یقین ہے کہ کپتان سے محبت کرنے و الے، سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا کرتے رہنے والوں کو یہ تحریر ناگوار گزرے گی اور وہ سوشل میڈیا پر بہت کچھ کہیں گے، ہم تو اس سوشل میڈیا کا حصہ ہیں اور نہ بنیں گے۔ ہماری بلا سے جو بھی ہوتا ہے، ہوتا رہے۔ تاہم ایک درخواست ضرور ہے کہ تحریک انصاف کے خود کپتان صاحب اور بڑے اس سلسلے میں غور ضرور کریں کہ کیا یہ تجویز معقول ہے یا ملک کی سیاست میں ایک نیا تنازعہ پیدا کرے گی۔    ٭

مزید : کالم