آج کی تراویح میں پڑھے جانے والے قرآن ِ پاک کی تفہیم

آج کی تراویح میں پڑھے جانے والے قرآن ِ پاک کی تفہیم

بارہویں تراویح

سورة الفرقان: 25 ویں سورت

سورة فرقان مکی ہے۔ 77آیات اور 6 رکوع ہیں۔ اٹھارہویں پارہ کے سترھویں رکوع سے شروع ہو کر انیسویں پارہ کے چوتھے رکوع تک ہے۔ فرقان نام اس لئے رکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت اور قرآن مجید سے حق اور باطل کے درمیان فرق ہو جاتا ہے۔ سورت میں مخالفین کے اعتراضات، ان کارد اور پہلے انبیاءکے تذکرہ کے حوالہ سے ان کی قوموں کی تباہی کا ذکرہے۔ نیز رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے روشن مستقبل کی طرف اشارہ بھی ہے۔

بڑی برکت والا وہ ہے جس نے قرآن نازل کیا اپنے ایسے پیارے بندے پر جو تمام جہانوں کے لئے نذیر ہے۔ اللہ ہی تمام آسمانوں اور زمین کا مالک ہے۔ اس کی کوئی اولاد نہیں اور اس کا کوئی شریک نہیں۔ جب حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن چھوڑنے والوں پر افسوس کرتے ہوئے اللہ سے فریاد کی تو ان کو تسلی دی گئی کہ آپ کے لئے آپ کا اللہ کافی ہے اور پہلے کے انبیاءعلیہم السلام کو بھی لوگوں نے اسی طرح چھوڑ دیا تھا۔ بعض کفار یہ بھی کہتے ہیں کہ قرآن ایک ساتھ کیوں نہ اتارا گیا؟ یہ لوگ آخر جہنم کی طرف ہانکے جائیں گے۔ موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کی قوم نے بھی ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور وہ ہلاک ہوئی۔ نوح علیہ السلام کی قوم بھی جھٹلاتی رہی اور غرق کی گئی۔ عاد و ثمود اور اصحاب الرس (جو شعیب علیہ السلام کی قوم تھی) سب تباہ کئے گئے۔ لوط علیہ السلام کی قوم بھی بری طرح تباہ کی گئی اور اب آپ کی قوم بھی آپ کا مذاق اڑاتی ہے۔ وہ لوگ اپنی خواہش کے بندے ہیں۔ یہ لوگ چوپائے جیسے ہیں، بلکہ ان سے بھی بدتر گمراہ ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رب ہی سایہ پیدا کرتا ہے، سورج کو طلوع کرتا ہے۔ رات کو پردہ کر دیتا ہے، آرام کے لئے نیند دیتا ہے اور اٹھنے کے لئے دن کو بناتا ہے، ہوائیں بھیجتا ہے، پانی برساتا ہے تاکہ مردہ کھیتی زندہ ہو جائے اور چوپائے اور انسان پانی پئیں۔ پھر بھی بہت سے لوگوں نے اللہ کو نہیں پہچانا۔ آپ ان کافروں کی بات نہ مانیں اور ان سے جہاد کریں۔ رحمن کے بندے وہ ہیں جو زمین پر عاجزی اور وقار کے ساتھ چلتے ہیں، جب جاہل ان سے بات کرتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ بس سلام۔ یعنی کوئی تلخ بات نہیں کرتے۔ وہ اپنے رب کو رات بھر سجدہ اور قیام میں یاد کرتے ہیں۔ وہ اپنے رب سے جہنم سے بچنے کے لئے دعا کرتے ہیں۔ وہ خرچ کرتے ہیں تو درمیانی طور پر۔ وہ کسی دوسرے معبود کو نہیں پوجتے۔ کسی جان کو ناحق نہیں مارتے۔ بدکاری نہیں کرتے۔ توبہ کرنے والے کی توبہ اللہ سن لیتا ہے۔ وہ لوگ جھوٹی گواہی نہیں دیتے۔ لغو و باطل سے خود کو ملوث نہیں کرتے۔ اللہ کی آیتوں کو گوشِ ہوش سے سنتے اور غور کرتے ہیں۔ وہ اپنی بیویوں اور اولاد کے متقی بننے کے لئے دعا کرتے ہیں ااور خود بھی متقی بننا چاہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو جنت کا سب سے اونچا بالا خانہ ملے گا جس میں ان کی پیشوائی ہو گی۔ ہمیشہ اس میں رہیں گے ۔

سورة الشعراء: 26 ویں سورت

سورة شعراءمکی سورت ہے، 227 آیات اور 11رکوع ہیں، انیسویں پارہ کے پانچویں رکوع سے شروع ہو کر پندرھویں رکوع تک ہے۔ سورة شعراءہی سے قرآن پاک کی پانچویں منزل شروع ہوتی ہے۔ سورت کا نام آیت 224 کے فقرہ ”والشعراءیتبعھم الغاوون“ سے لیا گیا ہے۔ تفسیر کی کتاب (روح المعانی) میں ہے حضرت ابن عباس نے فرمایا پہلے سورة ©طہٰ نازل ہوئی، پھر سورہ واقعہ اور پھرسورہ شعراءجبکہ سورة طہٰ حضرت عمر کے قبولِ اسلام سے پہلے نازل ہوئی تھی۔ توحید ، آخرت اور رسالت کی صداقت وحقیقت سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ (سورہ کے شروع میں حروف مقطعات ہیں۔)

فرمایا .... یہ آیتیں روشن کتاب کی ہیں۔ اے میرے محبوب ﷺ! اگر اہل مکہ ایمان نہیں لاتے تو آپ اس قدر غم نہ کریں۔ جب موسیٰ علیہ السلام کو فرعون کی قوم کے لئے بھیجا تو انہوں نے اپنی زبان میں کسی قدر تکلیف ہونے کی وجہ سے اپنے بھائی ہارون علیہ السلام کیلئے بھی رسالت کی منظوری چاہی۔ موسیٰ علیہ السلام نے کسی قبطی کو مار دیا تھا اس لئے اس قوم کے پاس جانے میں انہیں تامل تھا۔ اللہ پاک نے دونوں بھائیوں کو رسول بنا کر فرعون کے پاس بھیجا اور انہوں نے قوم بنی اسرائیل کے آزاد کرانے کے لئے بھی اس سے کہا۔ اس نے موسیٰ علیہ السلام پر اپنا احسان جتایا کہ ان کی پرورش کی تھی، پھر بھی انہوں نے اس کے ایک آدمی کو مار ڈالا۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ میں تیرے پاس ایک روشن چیز (معجزہ) لاتا ہوں۔ انہوں نے اپنا عصا ڈال دیا تو وہ اژدہابن گیا اور اپنا یدِ بیضا بھی دکھلایا۔ فرعون اور اس کے سرداروں نے بڑے بڑے جادوگر بلوائے اور انہیں اپنے تقرب کا لالچ دیا۔ ان جادوگروں نے اپنی رسیوں اور لاٹھیوں کو جادو کے اثر سے اژدہا بنا دیا۔موسیٰ علیہ السلام کا عصا ان کو نگلنے لگا تو وہ سب جادو گر سجدے میں گر پڑے اور ایمان لائے اللہ پر، فرعون نے ان کو دھمکایا کہ تم لوگ میری اجازت کے بغیر اللہ پر ایمان لائے ہو تو میں تمہارے ہاتھ پاﺅں کاٹ دوں گا اور سولی پر چڑھا دوں گا۔ ان لوگوں نے کہا کہ کوئی حرج نہیں، اب تو ہم اللہ کی طرف رجوع ہونے والے ہیں اور سب سے پہلے ایمان لانے والے ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام اور ان کے ماننے والوں کا فرعون اور اس کے لشکر نے پیچھا کیا اور انہیں نکال باہر کرنا چاہا۔ تو اللہ نے موسیٰ علیہ السلام کو وحی فرمائی کہ دریا پر اپنا عصا مارو،، جب ایسا کیا تو دریا پھٹ گیا اور اللہ نے موسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کو بچا لیا ،لیکن فرعون اور اس کے لشکر کو غرق کر دیا۔ ابراہیم علیہ السلام کا واقعہ بھی بتایا۔ نوح علیہ السلام کو بھی ان کی قوم نے جھٹلایا تھا۔ قوم ثمود کو صالح علیہ السلام نے اللہ کی عبادت کیلئے کہا تو ان لوگوں نے بھی جھٹلایا۔ لوط علیہ السلام کو بھی ان کی قوم نے جھٹلایا اور ان لوگوں نے برا کام کیا۔ اسی طرح مدین والوں نے بھی شعیب علیہ السلام کو جھٹلایا۔ وہ لوگ ناپ تول میں لوگوں کے حقوق کم کرتے تھے اور زمین میں فساد پھیلاتے تھے۔ (جیسا کہ سورة اعراف اور سورة ہود میں ذکر آ چکا ہے) یہ قرآن، رب العلمین کا ہے، روح الامین لائے ہیں۔ رحمت للعلمین ﷺ کے پاس آیا ہے۔ اے محبوب ﷺ! اپنے قریب تر رشتہ داروں کو ڈرایئے اور ان کے لئے ، نیز مسلمانوں کیلئے شفقت فرمایئے۔

سورة النمل : 27 ویں سورت

سورة نمل مکی ہے۔ 93 آیات اور 7 رکوع ہیں۔ انیسویں پارہ کے سولہویں رکوع سے بیسویں پارہ کے تیسرے رکوع تک ہے۔ ترتیب تدوین کے لحاظ سے تو اس کا نمبر 27 ہے مگر نزول کے لحاظ سے اس کا نمبر 48 ہے۔

سورة کا نام اٹھارہویں آیت کے الفاظ ”وادِالنمل“ سے لیا گیا ہے ۔ مکہ کے قیام کے متوسط دور میں نازل ہوئی۔ حضرت ابن عباس اؓور جابر بن زیدؓ کا کہنا ہے کہ پہلے سورة شعراءنازل ہوئی، پھر النمل اور پھر القصص نازل ہوئیں۔ مختلف انبیاءکے واقعات کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ قرآن کی رہنمائی سے وہی فائدہ اٹھاتے ہیں جو اس کی بیان کردہ حقیقتوں کو تسلیم کریں۔ نیز اس سورت میں چند نمایاں کائناتی حقائق بیان کر کے کفار سے پے در پے سوالات کئے گئے ہیں۔ پھر موثر انداز میں توحید ورسالت کی صداقت کی طرف دعوت دی گئی ہے۔

سورت میں ہے کہ ”قرآن روشن کتاب ہے،ہدایت اور خوشخبری ہے ایمان والوں کے لئے، جو نماز اور زکٰوة ادا کرتے ہیں اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں ۔ موسیٰ علیہ السلام اپنی اہلیہ کیلئے آگ لینے گئے تو انہوں نے اللہ کی طرف سے خوشخبری سنی ، ان کی لاٹھی کو اژدہا بنا دیا گیا اور ان کو ید ِبیضا اور دوسرے سات معجزے دیئے گئے۔ داﺅد علیہ السلام اور سلیمان علیہ السلام کو بڑا علم دیا گیا ۔ سلیمان علیہ السلام کو داﺅد علیہ السلام کا جانشین بنایا گیا جن کو پرندوں کی بولی سکھائی گئی اور دین ودنیا کی تمام نعمتیں دی گئیں، ان کوجن وانس اور پرندوں پر بھی حکومت دی گئی۔ چیونٹیوں پر سے ان کا گزر ہوا تو ایک چیونٹی بولی کہ اے چیونٹیو! اپنے گھروں کو چلی جاﺅ، کہیں کچلی نہ جاﺅ۔ سلیمان علیہ السلام مسکرائے اور دعا کی کہ اے اللہ !مجھے توفیق دے کہ میں اس اقتدار کو تیری مرضی کے مطابق استعمال کروں (نہ کہ مخلوق پر ظلم کروں) پھر لشکر میں ہد ہد کو نہ دیکھا ، لیکن وہ آیا تو اس نے ملکہ سبا کی خبر دی جس کی قوم، سورج کی پرستش کرتی تھی۔ سلیمان علیہ السلام نے اس کو توحید کی دعوت بھیجی کہ ہم توحید کا اقرار چاہتے ہیں۔ سلیمان علیہ السلام نے کارندے سے فرمایا اور دعا بھی کی تو ملکہ کا تخت آپ کے قریب آ گیا۔ اور اس نے آپ کے محل کی آئینہ بندی کی ہوئی زمین کو پانی سمجھا، سلیمان علیہ السلام نے اس کی غلط فہمی دور کی اور وہ مسلمان ہو گئی۔ اب صالح علیہ السلام کا ذکر ہے کہ ان کی قوم ثمود کے نو (9) آدمیوں نے سازش کی تھی کہ صالح علیہ السلام کو رات کے وقت قتل کردیا جائے اور ہم لوگ بھاگ جائیں اور لوگوں کے پوچھنے پر یہی کہہ دیں گے کہ ہم یہاں موجود ہی نہ تھے، لیکن وہ سازش کامیاب نہیں ہوئی اور وہ قوم تباہ کردی گئی۔  ٭

بارہویں تراویح

سورة الفرقان: 25 ویں سورت

سورة فرقان مکی ہے۔ 77آیات اور 6 رکوع ہیں۔ اٹھارہویں پارہ کے سترھویں رکوع سے شروع ہو کر انیسویں پارہ کے چوتھے رکوع تک ہے۔ فرقان نام اس لئے رکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت اور قرآن مجید سے حق اور باطل کے درمیان فرق ہو جاتا ہے۔ سورت میں مخالفین کے اعتراضات، ان کارد اور پہلے انبیاءکے تذکرہ کے حوالہ سے ان کی قوموں کی تباہی کا ذکرہے۔ نیز رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے روشن مستقبل کی طرف اشارہ بھی ہے۔

بڑی برکت والا وہ ہے جس نے قرآن نازل کیا اپنے ایسے پیارے بندے پر جو تمام جہانوں کے لئے نذیر ہے۔ اللہ ہی تمام آسمانوں اور زمین کا مالک ہے۔ اس کی کوئی اولاد نہیں اور اس کا کوئی شریک نہیں۔ جب حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن چھوڑنے والوں پر افسوس کرتے ہوئے اللہ سے فریاد کی تو ان کو تسلی دی گئی کہ آپ کے لئے آپ کا اللہ کافی ہے اور پہلے کے انبیاءعلیہم السلام کو بھی لوگوں نے اسی طرح چھوڑ دیا تھا۔ بعض کفار یہ بھی کہتے ہیں کہ قرآن ایک ساتھ کیوں نہ اتارا گیا؟ یہ لوگ آخر جہنم کی طرف ہانکے جائیں گے۔ موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کی قوم نے بھی ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور وہ ہلاک ہوئی۔ نوح علیہ السلام کی قوم بھی جھٹلاتی رہی اور غرق کی گئی۔ عاد و ثمود اور اصحاب الرس (جو شعیب علیہ السلام کی قوم تھی) سب تباہ کئے گئے۔ لوط علیہ السلام کی قوم بھی بری طرح تباہ کی گئی اور اب آپ کی قوم بھی آپ کا مذاق اڑاتی ہے۔ وہ لوگ اپنی خواہش کے بندے ہیں۔ یہ لوگ چوپائے جیسے ہیں، بلکہ ان سے بھی بدتر گمراہ ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رب ہی سایہ پیدا کرتا ہے، سورج کو طلوع کرتا ہے۔ رات کو پردہ کر دیتا ہے، آرام کے لئے نیند دیتا ہے اور اٹھنے کے لئے دن کو بناتا ہے، ہوائیں بھیجتا ہے، پانی برساتا ہے تاکہ مردہ کھیتی زندہ ہو جائے اور چوپائے اور انسان پانی پئیں۔ پھر بھی بہت سے لوگوں نے اللہ کو نہیں پہچانا۔ آپ ان کافروں کی بات نہ مانیں اور ان سے جہاد کریں۔ رحمن کے بندے وہ ہیں جو زمین پر عاجزی اور وقار کے ساتھ چلتے ہیں، جب جاہل ان سے بات کرتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ بس سلام۔ یعنی کوئی تلخ بات نہیں کرتے۔ وہ اپنے رب کو رات بھر سجدہ اور قیام میں یاد کرتے ہیں۔ وہ اپنے رب سے جہنم سے بچنے کے لئے دعا کرتے ہیں۔ وہ خرچ کرتے ہیں تو درمیانی طور پر۔ وہ کسی دوسرے معبود کو نہیں پوجتے۔ کسی جان کو ناحق نہیں مارتے۔ بدکاری نہیں کرتے۔ توبہ کرنے والے کی توبہ اللہ سن لیتا ہے۔ وہ لوگ جھوٹی گواہی نہیں دیتے۔ لغو و باطل سے خود کو ملوث نہیں کرتے۔ اللہ کی آیتوں کو گوشِ ہوش سے سنتے اور غور کرتے ہیں۔ وہ اپنی بیویوں اور اولاد کے متقی بننے کے لئے دعا کرتے ہیں ااور خود بھی متقی بننا چاہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو جنت کا سب سے اونچا بالا خانہ ملے گا جس میں ان کی پیشوائی ہو گی۔ ہمیشہ اس میں رہیں گے ۔

سورة الشعراء: 26 ویں سورت

سورة شعراءمکی سورت ہے، 227 آیات اور 11رکوع ہیں، انیسویں پارہ کے پانچویں رکوع سے شروع ہو کر پندرھویں رکوع تک ہے۔ سورة شعراءہی سے قرآن پاک کی پانچویں منزل شروع ہوتی ہے۔ سورت کا نام آیت 224 کے فقرہ ”والشعراءیتبعھم الغاوون“ سے لیا گیا ہے۔ تفسیر کی کتاب (روح المعانی) میں ہے حضرت ابن عباس نے فرمایا پہلے سورة ©طہٰ نازل ہوئی، پھر سورہ واقعہ اور پھرسورہ شعراءجبکہ سورة طہٰ حضرت عمر کے قبولِ اسلام سے پہلے نازل ہوئی تھی۔ توحید ، آخرت اور رسالت کی صداقت وحقیقت سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ (سورہ کے شروع میں حروف مقطعات ہیں۔)

فرمایا .... یہ آیتیں روشن کتاب کی ہیں۔ اے میرے محبوب ﷺ! اگر اہل مکہ ایمان نہیں لاتے تو آپ اس قدر غم نہ کریں۔ جب موسیٰ علیہ السلام کو فرعون کی قوم کے لئے بھیجا تو انہوں نے اپنی زبان میں کسی قدر تکلیف ہونے کی وجہ سے اپنے بھائی ہارون علیہ السلام کیلئے بھی رسالت کی منظوری چاہی۔ موسیٰ علیہ السلام نے کسی قبطی کو مار دیا تھا اس لئے اس قوم کے پاس جانے میں انہیں تامل تھا۔ اللہ پاک نے دونوں بھائیوں کو رسول بنا کر فرعون کے پاس بھیجا اور انہوں نے قوم بنی اسرائیل کے آزاد کرانے کے لئے بھی اس سے کہا۔ اس نے موسیٰ علیہ السلام پر اپنا احسان جتایا کہ ان کی پرورش کی تھی، پھر بھی انہوں نے اس کے ایک آدمی کو مار ڈالا۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ میں تیرے پاس ایک روشن چیز (معجزہ) لاتا ہوں۔ انہوں نے اپنا عصا ڈال دیا تو وہ اژدہابن گیا اور اپنا یدِ بیضا بھی دکھلایا۔ فرعون اور اس کے سرداروں نے بڑے بڑے جادوگر بلوائے اور انہیں اپنے تقرب کا لالچ دیا۔ ان جادوگروں نے اپنی رسیوں اور لاٹھیوں کو جادو کے اثر سے اژدہا بنا دیا۔موسیٰ علیہ السلام کا عصا ان کو نگلنے لگا تو وہ سب جادو گر سجدے میں گر پڑے اور ایمان لائے اللہ پر، فرعون نے ان کو دھمکایا کہ تم لوگ میری اجازت کے بغیر اللہ پر ایمان لائے ہو تو میں تمہارے ہاتھ پاﺅں کاٹ دوں گا اور سولی پر چڑھا دوں گا۔ ان لوگوں نے کہا کہ کوئی حرج نہیں، اب تو ہم اللہ کی طرف رجوع ہونے والے ہیں اور سب سے پہلے ایمان لانے والے ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام اور ان کے ماننے والوں کا فرعون اور اس کے لشکر نے پیچھا کیا اور انہیں نکال باہر کرنا چاہا۔ تو اللہ نے موسیٰ علیہ السلام کو وحی فرمائی کہ دریا پر اپنا عصا مارو،، جب ایسا کیا تو دریا پھٹ گیا اور اللہ نے موسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کو بچا لیا ،لیکن فرعون اور اس کے لشکر کو غرق کر دیا۔ ابراہیم علیہ السلام کا واقعہ بھی بتایا۔ نوح علیہ السلام کو بھی ان کی قوم نے جھٹلایا تھا۔ قوم ثمود کو صالح علیہ السلام نے اللہ کی عبادت کیلئے کہا تو ان لوگوں نے بھی جھٹلایا۔ لوط علیہ السلام کو بھی ان کی قوم نے جھٹلایا اور ان لوگوں نے برا کام کیا۔ اسی طرح مدین والوں نے بھی شعیب علیہ السلام کو جھٹلایا۔ وہ لوگ ناپ تول میں لوگوں کے حقوق کم کرتے تھے اور زمین میں فساد پھیلاتے تھے۔ (جیسا کہ سورة اعراف اور سورة ہود میں ذکر آ چکا ہے) یہ قرآن، رب العلمین کا ہے، روح الامین لائے ہیں۔ رحمت للعلمین ﷺ کے پاس آیا ہے۔ اے محبوب ﷺ! اپنے قریب تر رشتہ داروں کو ڈرایئے اور ان کے لئے ، نیز مسلمانوں کیلئے شفقت فرمایئے۔

سورة النمل : 27 ویں سورت

سورة نمل مکی ہے۔ 93 آیات اور 7 رکوع ہیں۔ انیسویں پارہ کے سولہویں رکوع سے بیسویں پارہ کے تیسرے رکوع تک ہے۔ ترتیب تدوین کے لحاظ سے تو اس کا نمبر 27 ہے مگر نزول کے لحاظ سے اس کا نمبر 48 ہے۔

سورة کا نام اٹھارہویں آیت کے الفاظ ”وادِالنمل“ سے لیا گیا ہے ۔ مکہ کے قیام کے متوسط دور میں نازل ہوئی۔ حضرت ابن عباس اؓور جابر بن زیدؓ کا کہنا ہے کہ پہلے سورة شعراءنازل ہوئی، پھر النمل اور پھر القصص نازل ہوئیں۔ مختلف انبیاءکے واقعات کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ قرآن کی رہنمائی سے وہی فائدہ اٹھاتے ہیں جو اس کی بیان کردہ حقیقتوں کو تسلیم کریں۔ نیز اس سورت میں چند نمایاں کائناتی حقائق بیان کر کے کفار سے پے در پے سوالات کئے گئے ہیں۔ پھر موثر انداز میں توحید ورسالت کی صداقت کی طرف دعوت دی گئی ہے۔

سورت میں ہے کہ ”قرآن روشن کتاب ہے،ہدایت اور خوشخبری ہے ایمان والوں کے لئے، جو نماز اور زکٰوة ادا کرتے ہیں اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں ۔ موسیٰ علیہ السلام اپنی اہلیہ کیلئے آگ لینے گئے تو انہوں نے اللہ کی طرف سے خوشخبری سنی ، ان کی لاٹھی کو اژدہا بنا دیا گیا اور ان کو ید ِبیضا اور دوسرے سات معجزے دیئے گئے۔ داﺅد علیہ السلام اور سلیمان علیہ السلام کو بڑا علم دیا گیا ۔ سلیمان علیہ السلام کو داﺅد علیہ السلام کا جانشین بنایا گیا جن کو پرندوں کی بولی سکھائی گئی اور دین ودنیا کی تمام نعمتیں دی گئیں، ان کوجن وانس اور پرندوں پر بھی حکومت دی گئی۔ چیونٹیوں پر سے ان کا گزر ہوا تو ایک چیونٹی بولی کہ اے چیونٹیو! اپنے گھروں کو چلی جاﺅ، کہیں کچلی نہ جاﺅ۔ سلیمان علیہ السلام مسکرائے اور دعا کی کہ اے اللہ !مجھے توفیق دے کہ میں اس اقتدار کو تیری مرضی کے مطابق استعمال کروں (نہ کہ مخلوق پر ظلم کروں) پھر لشکر میں ہد ہد کو نہ دیکھا ، لیکن وہ آیا تو اس نے ملکہ سبا کی خبر دی جس کی قوم، سورج کی پرستش کرتی تھی۔ سلیمان علیہ السلام نے اس کو توحید کی دعوت بھیجی کہ ہم توحید کا اقرار چاہتے ہیں۔ سلیمان علیہ السلام نے کارندے سے فرمایا اور دعا بھی کی تو ملکہ کا تخت آپ کے قریب آ گیا۔ اور اس نے آپ کے محل کی آئینہ بندی کی ہوئی زمین کو پانی سمجھا، سلیمان علیہ السلام نے اس کی غلط فہمی دور کی اور وہ مسلمان ہو گئی۔ اب صالح علیہ السلام کا ذکر ہے کہ ان کی قوم ثمود کے نو (9) آدمیوں نے سازش کی تھی کہ صالح علیہ السلام کو رات کے وقت قتل کردیا جائے اور ہم لوگ بھاگ جائیں اور لوگوں کے پوچھنے پر یہی کہہ دیں گے کہ ہم یہاں موجود ہی نہ تھے، لیکن وہ سازش کامیاب نہیں ہوئی اور وہ قوم تباہ کردی گئی۔      ٭

مزید : کالم