مقبوضہ کشمیرمیں شہریوں کا قتل اور قرآن کی بے حرمتی

مقبوضہ کشمیرمیں شہریوں کا قتل اور قرآن کی بے حرمتی

                                                        مقبوضہ کشمیر میں سات نہتے شہریوں کی شہادت اور قرآن پاک کی بے حرمتی کے خلاف حریت پسند جماعتوں کی اپیل پرمکمل ہڑتال کی گئی ۔ سری نگر اور مختلف دوسرے علاقوں میںپرتشدد احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔ جبکہ صورتحال کشیدہ ہونے کی بنا پر وادی کے مختلف علاقوں میں کرفیو نافذ کرکے حریت رہنماﺅں کونظر بند کردیا گیا ہے۔ہلاکتوں کا واقعہ جموں کے ضلع رام بن میں پیش آیا تھا ،جس میں بھارتی فوجیوں نے قرآن پاک کی بے حرمتی اور امام مسجد کی شہادت کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین پر فائرنگ کردی جس سے سات مظاہرین شہید اور پنتالیس سے زائدزخمی ہوگئے۔سری نگر میں مظاہرین کرفیو کی پابندیوں کے باوجود سٹرکوں پر آئے۔جہاں مظاہرین اور فوج کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔موبائل فون اور انٹرنیٹ پردو روز سے پابندی عائد ہے۔

پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں قرآن کریم کی بے حرمتی اورشہریوں کی شہادت کی شدید مذمت کی ہے، اوربھارت سے مکمل تحقیقات کے بعد ملوث افراد کو سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔پاکستان نے بھارتی پارلیمنٹ اور ممبئی دہشت گردی کے واقعات میں خود بھارت کے ملوث ہونے کے متعلق ایک سابق بھارتی افسر کے بیان سے متعلق بھارت سے وضاحت طلب کرلی ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے واقعات کے خلاف آزاد کشمیر کے علاوہ پاکستان بھر کے شہروں میں یوم احتجاج منایا گیا۔لاہور، کراچی، ملتان،مظفر آباد، حیدرآباداور دوسرے شہروں میں ہزاروں کی تعداد میں طلبہ، وکلائ، تاجروں اورزندگی کے دوسرے شعبوں کے افراد سڑکوں پر نکل آئے جنہوں نے بھارتی پرچم نذر آتش کرنے کے علاوہ بھارت کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور بھارت سے تجارت ختم کرنے کا مطالبہ کیا ۔

مقبوضہ کشمیر میں گذشتہ چونسٹھ برس سے بھارتی فوج نہتے شہریوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ رہی ہے۔ ہر طرح کے بھارتی حربوں کے باوجود نہ جذبہ حریت سے سرشار کشمیریوں کی جد و جہد آزادی کو ختم کیا جاسکا ہے نہ نہتے شہریوں نے وادی میں موجود سات لاکھ سے زائد فوج کے سامنے جھکنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ بھارت اقوام متحدہ کے سامنے کشمیر یوں کو حق خود ارادیت دینے کے وعدے سے مکرنے کے بعد مقبوضہ کشمیر کو خصوصی درجہ دینے سے بھی پھر گیا ۔ مقبوضہ کشمیر کو اپنا صوبہ بنا لینے کے بعدکشمیر کے بھارت کا اٹوٹ انگ ہونے کا دعویٰ کیا جانے لگا، لیکن وادی کے شہریوں کے ساتھ بھارت کا رویہ ہمیشہ دشمن کے فتح کئے ہوئے علاقے کے شہریوں جیسا رہا ہے۔ وادی میںسات لاکھ سے زائد ہندو فوج کی موجودگی ہی کشمیری مسلمانوں کے لئے عذاب سے کم نہیں۔ان کی جد وجہد آزادی اب تک دنیا کی آزادی کی تحریکوں میں طویل ترین جدوجہد بن چکی ہے۔ بھارتی ٹینکوں نے کشمیریوں کے بے حد حسین باغات کو روند ڈالا او ر دنیا بھر کے سیاحوں کی توجہ کا مرکز اس جنت نظیر وادی کی سیاحت کا بزنس تباہ کردیا ہے۔ مسلسل بھارتی قابض فوج کے بہیمانہ رویہ کا سامنا کرنے والے مقبوضہ کشمیر کے عوام دنیا بھر کے مسلمانوں کی تائید و حمایت کے باوجود آج تک دنیا کی بڑی طاقتوں کو تنازعہ طے کرنے کے لئے اپنا موثر کردار اداکرنے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کرانے پر آمادہ نہیں کرسکے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر کے تنازعہ پر جنگیں ہو چکی ہیں۔ یہ مسئلہ حل نہیں ہوا۔ پاکستان بھارت کے ساتھ اپنے تنازعات ختم کرکے تعلقات معمول پر لانا اور پورے خطے کی ترقی اور خوشحالی کے لئے خوشگوار ماحول پیدا کرنا چاہتا ہے۔ بھارت کے ساتھ تنازعات کے سلسلے میں ہم نے مسئلہ کشمیر کو ہمیشہ اولیت دی ہے ۔ بھارت نے کئی بار مسئلہ کے حل کے لئے پاکستان سے مذاکرات شروع کئے ،لیکن کسی نہ کسی بہانے ختم کر دئیے،تاہم پاکستانی حکومت اور عوام نے اپنے کشمیری بھائیوں کی جد و جہد کی ہر ممکن طریقے سے تائید و حمایت جاری رکھی ہے۔ پاکستانیوں کے دل اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ان کے دکھ اور پریشانی پر ہمارے لوگوں کا بے چین ہوجانا فطری امر ہے۔

اس کے برعکس انسان کی ہدایت و رہنمائی کے لئے اللہ کی طرف سے بھیجی گئی کتاب ہدایت کی بے حرمتی پورے اسلامیان عالم کے جذبات و احساسات کو مجروح کرنے والی حرکت ہے۔ جسے مسلمان کبھی نظر انداز نہیں کرسکتے۔ مساجد میں بھارتی فوجیوں کی طرف سے فائرنگ اور لاٹھی چارج ، امام مسجد کی شہادت اور قرآن کی بے حرمتی کےخلاف احتجاج کرنے والوں پر فائرنگ سے مزیدنہتے مسلمانوں کا قتل ایک انتہائی سفاکانہ اور اشتعال انگیز فعل ہے جس کی پوری دنیا کو مذمت کرنی چائیے۔ بھارتی حکومت جو اپنے ملک کے سیکولر اور جمہوری ہونے کا ڈھنڈورا پیٹتے نہیں تھکتی، اس پر لازم ہے کہ اس بہیمانہ قتل و غارت کا سختی سے نوٹس لے اور مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچائے، تاکہ مقبوضہ کشمیر ، بھارت اور پاکستان کے مسلمانو ں کے مشتعل جذبات ٹھنڈے ہوسکیں اور کم از کم بھارتی حکومت میں کسی سطح پر معقولیت اور انسان دوستی کے جذبات کی موجودگی کا ثبوت مل سکے۔

ماضی کی طرح یہ سارے واقعات بھی انسانی جذبات کو مجروح کرنے والے اور انتہائی اشتعال انگیزی کا باعث ہیں، جس سے پاکستان اور بھارت میں شروع کی گئی بیک ڈور ڈپلومیسی کے عمل کو ضعف پہنچے گا۔ ظاہر ہے کہ ایسے واقعات عوام کی نمائندگی کرنے والی حکومتوں اور امن کے متلاشی لوگوں کی کوششوں پر پانی پھیرنے کے لئے کافی ثابت ہوتے ہیں۔ اسی طرح کے مظالم امن پراسس کو پیچھے اور مزید پیچھے ڈالنے کا سبب بنتے ہیں۔ انہی کی بنیاد پر دشمنی کے جذبات کو ابھارنے اور برصغیر میں کشیدگی برقرار رکھنے والی طاقتوں کے ہاتھ مضبوط ہوتے ہیں۔ احتجاج کے لئے سٹرکوں پر آنے والے مظاہرین کی طرف سے نفرت کی آگ کو بھڑکانے والے اشتعال انگیز نعرے لگائے جاتے ہیں اور حکومتوں کے لئے امن پراسس کو آگے بڑھانا مشکل ہو کر رہ جاتا ہے۔

موجودہ حالات میں جب کہ پاکستان اپنے مسائل حل کرنے کے لئے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے اور دوستانہ تعلقات قائم کرنے کے لئے پوری کوششیں کررہا ہے، ایسے انسانیت سوز واقعات کا رونما ہونا اور خصوصی طور پر اسلامیان عالم کے جذبات کو مجروح کرنے والی حرکتوں کا ارتکاب ہمارے لئے خصوصی طور پر تشویش کا باعث ہے۔ کشمیری عوام کے علاوہ پاکستانی عوام بھی اب جلد سے جلد کشمیری عوام کے دکھوں کا خاتمہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ بھارت کشمیر کا مسئلہ حل کرکے اسلامیان عالم کی نظروں میں سرخرو ہوسکتا ہے۔ کشمیر میں اس بڑی تعدا د میں فوج رکھنے کے بھاری اخراجات کم کرکے عوام کی ترقی اور فلاح کے کاموں پر لگائے جاسکتے ہیں۔ دونوں ملک آپس میں اور بین الاقومی پلیٹ فارموں پر اپنی توانائیاں ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرنے کے بجائے انہیں بچا کر مثبت اور تعمیری کاموں میں صرف کرسکتے ہیں۔ برصغیر کے پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے کر تعمیر و ترقی کے کاموں کو پیچھے ڈال دینے والی کشیدگی سے ہمیں نجات مل سکتی ہے۔ بھارت اور پاکستان کے تعلقات معمول پر آنے سے پورے سارک ممالک میں فری ٹریڈ شروع ہوسکتی ہے جس سے خطے کے عوام ترقی اور خوشحالی کی بلندیوں کو چھو سکتے ہیں۔

افغانستان سے امریکی اور اتحادی افواج کی واپسی کے اس موقع پر دنیا کی دوسری بڑی طاقتیں بھی یہ چاہتی ہیں کہ خطے میں بھارت، پاکستان اور افغانستان کے تعلقات بہتر ہوں ۔ اس میں امریکہ ، برطانیہ، چین ، روس اور دوسری طاقتوں کی خواہش بھی شامل ہے۔ہمارے ہاں انتخابات میں کامیابی کے فورا ً بعد وزیر اعظم نوازشریف نے بھارت سے اپنے تمام تنازعات طے کرنے کے عزم کا اظہار کیا ۔ ان کی اس خواہش پر بھارتی قیادت کی طرف سے بھی مثبت رد عمل ظاہر کیاگیا ۔ اب یہ بات بھارت پر بھی پوری طرح واضح ہے کہ کشمیری عوام کی جد وجہد کا مسلسل ساتھ دینے والا پاکستان کسی صورت کشمیریوں کو تنہا نہیںچھوڑ سکتا۔ کشمیریوں پر ہونے والا ہر ظلم پاکستان اور بھارت کی امن کی طرف پیش قدمی کو نہ صرف روک دیتا ہے، بلکہ ہمیں پیچھے کی طرف لے جاتا ہے۔ دونوں ملکوں میں ایسے انتہا پسندوں کی کمی نہیں ہے جو ایک دوسرے کے ساتھ صُلح و امن کے بجائے جنگ پر یقین رکھتے ہیں ۔ بھڑکے ہوئے جذبات کی صورت میں دونوں ملکوں کا کوئی قدم صلح اور امن کی طرف نہیں بڑھ سکتا۔ کشمیریوں نے اب تک بہت مظالم برداشت کئے ہیں۔ اب پوری قوم ان کے مصائب کا خاتمہ چاہتی ہے۔ جنت جیسی خوبصورت وادیوں کے خوبصورت انسانوں کو ان کے حقوق سے مزید محروم نہیں رکھا جاسکتا۔ اسلامیان عالم کے جذبات سے کھیل کر دنیا کا کوئی فرد یا قوم سکھ میں نہیں رہ سکتی۔ امن مذاکرات اورکشمیریوں کے حقو ق انہیں لوٹانے کے معاملات کو اب مزید ٹالنا ممکن نہیں ہے۔ دونوں ملکوں کی حکومتیں کشمیری عوام کی تمناﺅں اور آرزﺅ ں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل میں مسلسل ناکام چلی آرہی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ بیک چینلر ڈپلومیسی یا خارجہ امور کی وزارتوں نے کروڑوں کشمیریوں کے جان ومال اور آبرو کے مسئلہ کو اپنے دوروں اور مذاکرات کے مشاغل کا ایک ذریعہ بنا لیا ہے اور کشمیریوں کا طویل سے طویل تر ہو جانے والا صبر اور پرامن جدوجہد ان کے نزدیک کچھ اہمیت نہیں رکھتے۔ نہ ان کے مسئلہ کے لئے کسی بھرپور جوش وجذبہ کا مظاہرہ کیا گیا نہ اپنی پوری توانائیاں اس طرف لگا کر اس کا ایک بار سب کے لئے قابل قبول حل تلاش کرکے برصغیر کے اربوں انسانو ں کے مستقل سکھ چین کا اہتمام کیا گیا۔حاکموں کی طرف سے عوام کے اس سوال کا کوئی جواب نہیں مل رہا کہ مسئلہ کشمیر کا حل اگر اب نہیں تو آخر کب ممکن ہوگا؟         ٭

مزید : اداریہ